بغیر وصیت کے میت کی طرف سے حج بدل کرنے کا حکم:
Question
ایک شخص پر حج فرض ہو گیا لیکن وہ حج نہ کر سکا تھا کہ اس کا انتقال ہو گیا، نیز وصیت بھی نہیں کی تھی تو اس کی طرف سے کوئی شخص حج بدل کر سکتا ہے یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص بطور تبرع و احسان میت کی طرف سے حج بدل کرنا چاہے تو ان شاء اللہ امید ہے کہ اللہ تعالی اس کا ذمہ فارغ کر دیں گے ۔
ملاحظہ ہو عالمگیری میں ہے:
من عليه الحج إذا مات قبل أدائه فإن مات عن غير وصية يأثم بلا خلاف، وإن أحب الوارث أن يحج عنه حج، وأرجو أن يجزئه إن شاء الله تعالى كذا ذكره أبو حنيفة رحمه الله. (الفتاوى الهندية: ۱/۲۵۸).
شامی میں ہے:
وإن لم يوص به، فحج الوارث عنه أو حج عنه غيره جاز. (فتاوى الشامي: ۲/۵۹۹، سعيد).
شرح لباب المناسک میں ہے:
في مناسك السروجي: لو مات رجل بعد وجوب الحج ولم يوص به فحج رجل عنه، أو حج عن أبيه أو أمه عن حجة الإسلام من غير وصية، قال أبو حنيفة رحمه الله: يجزئه إن شاء الله تعالى. (شرح اللباب: ٤۷۹، فصل في شرائط جواز الإحجاج، بيروت).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
اگر بغیر وصیت کوئی وارث اپنے حصہ سے حج ادا کر دے یا اپنی طرف سے اپنے مال سے ادا کر دے تو امید ہے کہ وہ میت مواخذہ سے بری ہو جائے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۰/٤۲۱، مبوب و مرتب) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1207
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1207