طوافِ بیت اللہ اور صفا مروہ کی سعی کی حکمت:

2 min readFatwa Vol 3 #336Urdu

Question

میں حج میں شریک تھا ایک صاحب جو انگریزی تعلیم یافتہ تھے دریافت کرنے لگے کہ کعبہ کے طواف اور صفا مروہ کی سعی میں کیا حکمت ہے ایسے لوگوں کو کیا جواب دینا چاہیے؟

Answer

انبیاء علیہم السلام خصوصاً حضرت ابراہیم علیہ السلام اور محمد ﷺ نے طواف اور سعی فرمائی، ان کی اقتداء اور مشابہت بہت بڑی سعادت ہے، انوار اور فیوضات کے حصول کا ذریعہ ہے لوگ دنیا میں مشہور کھلاڑیوں کی مشابہت حاصل کر کے فخر کرتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں، کیا انبیاء علیہم الصلوٰۃ و السلام کی مشابہت اور اتباع برکات کے حصول کا ذریعہ نہیں ہو گی؟ یقیناً ہو گی ۔ آیتِ کریمہ:
﴿ومن يطع الرسول فقد أطاع الله﴾. (سورة النساء)
اور حدیث شریف: "
من تشبه بقوم فهو منهم". (أبو داود).
ہمارے سامنے ہونا چاہیے، نیز بیت اللہ شریف اللہ تعالی کا گھر اور دین کی علامت ہے، اس کے چکروں میں یہ اشارہ ملتا ہے کہ زمین اور دنیا گول ہے، یعنی میں دین کو پھیلانے کے لیے اور دین کا سکہ جمانے کے لیے پوری زمین کا چکر لگانے کا عہد کرتا ہوں ۔
﴿وما أرسلناك إلا كافة للناس بشيراً ونذيراً﴾
کو سامنے رکھتے ہوے دین کا ڈنکا بجاتا رہوں گا ۔ اور صفا مروہ کی سعی حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی طلبِ رزق کی یادگار ہے ۔ جس میں اشارہ ہے کہ طلبِ رزق کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا رہوں گا، لیکن اس میں طواف کی طرح گولائی نہیں اس لیے رزق کی طلب میں زیادہ محنت اور پوری دنیا چھان مارنے کی ضرورت نہیں، ہاں دین کے لیے محنت پوری زمین پر محیط ہونا چاہیے، یا د رہے کہ سعی دینی فعل بھی ہے جو باعثِ اجر و ثواب ہے اور واجب ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.