شعائر حج کی معنوی تحقیق:

3 min readFatwa Vol 3 #353Urdu

Question

مزدلفہ، عرفات، منیٰ، وادی محسر، مسجد نمرہ، مسجد خیف، صفا، مروہ کے کیا معنی ہیں؟

Answer

مزدلفہ
"إزدلاف"
سے ہے اس کے معنی قرب کے ہے، اس جگہ اللہ تعالی کا قرب حاصل ہوتا ہے ۔
یا عرفات سے نکلتے ہی یہ قریب ہے ۔
یا حضرت آدم علیہ السلام حضرت حواء کے قریب آئے تھے ۔
یا لوگ زلف اللیل یعنی رات کے ایک حصے میں یہاں پہنچتے ہیں ۔
٭ عرفات یا عرف سے ہے اس کے معنی خوشبو، کیوں کہ یہاں منیٰ "جو مذبح ہے" کے مقابلے میں خوشبو ہے ۔ منیٰ میں ذبائح کی وجہ سے یہ بات نہیں ۔
یا دنیا میں حضرت آدم علیہ السلام و حواء کا تعارف ہوا ۔
یا جبریل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو افعال حج سکھائے تو حضرت ابراہیم نے فرمایا "
عرفت"
یعنی میں نے سیکھ لیا ۔
یا عرفہ کی رات جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے پھر اپنے صاحبزادے کے ذبح کا خواب دیکھا تو پہچان گئے کہ یہ خواب اپنے ظاہر پر ہے اور ذبح کا حکم مطلوب ہے ۔
٭ منیٰ کے معنی خون گرانا ہے، چونکہ وہاں قربانیوں کا خون گرایا جاتا ہے اس لیے یہ وادی منیٰ سے موسوم ہوئی ۔
یا تمنا سے ہے، یعنی دعاؤں کے ذریعے تمنا پوری ہونے کی یہ جگہ ہے ۔ شاعر کہتا ہے:

بوادي مني نلنا المنى إذ تبسمت
٭
ليال وأيام ملاح المباسم

ترجمہ: وادی منیٰ میں ہم نے تمناؤں کو پایا جب کہ وہ دن رات مسکرائے جس کا محل تبسم ظاہر ہو کر چمکا ۔

سرور بعيد واجتماع أحبة
٭
وقرب وقربان وخير مواسم

ترجمہ: عید کی خوشی ہے اور دوستوں کا اجتماع ہے، اللہ تعالی کا قرب و قربانی اور بہترین موسم ہے ۔
٭ مُحَسِّ ر بکسر السین تھکانے کے معنی میں ہے، چونکہ یہاں أبرہہ کے لشکر کے ہاتھی تھک کر آگے بڑھنے سے عاجز ہو گئے تھے اس لئے یہ وادی اس نام سے موسوم ہوئی ۔
٭ مسجد نمرہ: ۔ نمرہ اس چادر کو کہتے ہیں جس میں سیاہ و سفید خطوط ہوں، شاید وہاں کے پہاڑ کا کچھ حصہ سیاہ و کچھ سفید ہوگا ۔
٭ مسجد خیف: ۔ خیف پہاڑ کے پست حصہ کو کہتے ہیں جو پانی کے بہاؤ کی جگہ سے اونچا ہو ۔
٭ صفا صاف پتھر کو اور مروہ چمکدار پتھر کو کہتے ہیں ۔
یا صفا پر آدم صفی اللہ علیہ السلام بیٹھے تھے اور مروہ پر ان کی مرأۃ یعنی اہلیہ بیٹھی تھیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.