روایتِ توسل میں قصۂ عتبی کی تحقیق:

13 min readFatwa Vol 3 #351Urdu

Question

آپ نے فتاوی دار العلوم زکریا ج اول ص ۲٤۱ پر عتبی کا واقعہ نقل کیا ہے اس میں عتبی فرماتے ہیں کہ میں آنحضرت ﷺ کی قبر کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک اعرابی آیا اور اس نے کہا: "
السلام عليك يا رسول الله"
میں نے سنا ہے کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں:
﴿ولو أنهم إذ ظلموا أنفسهم جاءوك فاستغفروا الله

الخ﴾
اور میں اپنے گناہوں سے توبہ کر کے آیا ہوں، آپ اللہ تعالی کے پاس میری شفاعت کیجیے اور وہ اشعار پڑھے جو حجرہ شریفہ کے ستونوں پر مرقوم ہیں، پھر اعرابی چلا گیا اور مجھے نیند آ گئی، خواب میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عتبی! اعرابی کے پاس جاؤ اور اس کو مغفرت کی بشارت سناؤ ۔
اس واقعہ کے بارے میں آپ نے نشر الطیب ص ۳۵۰ سے نقل کیا ہے کہ یہ واقعہ حجت ہے، کیوں کہ خیر القرون کا واقعہ ہے اور کسی سے نکیر بھی منقول نہیں، انتہیٰ ۔
لیکن سلفی حضرات اس واقعہ کو موضوعی قرار دیتے ہیں اور اس کو من گھڑت کہتے ہیں، لہذا اس کی تحقیق مطلوب ہے؟

Answer

عتبی کے واقعہ کو بہت سارے مفسرین اور مشائخ نے اس کی شہرت کی بنا پر تاریخی واقعہ سمجھ کر تسلیم کر لیا ہے، اگر چہ سند کے اعتبار سے یہ واقعہ مخدوش و مجروح ہے، تسلیم کرنے والوں میں چند حضرات کے اسماء درج ذیل ہیں:
(۱) عبد الہادی محمد بن خرسہ الدمشقی نے الاسعاد کے حاشیہ میں لکھا ہے:
ذكر قصة العتبى هذه جماعة من الحفاظ والمحدثين منهم الإمام النووي رحمه الله في كتابه "المجموع"، "والأذكار"، ومنهم الحافظ ابن كثير رحمه الله في "تفسيره"، والحافظ السخاوي رحمه الله في "القول البديع" قال المحدث الغماري رحمه الله في رده على من حكم علي القصة بالوضع الحكاية ضعيفة إذ لم يذكر في روايتها كذاب أو متهم بالكذب لا سيما وقد أخرجها الإمام البيهقي رحمه الله في الشعب، وذكرها الحافظ ابن كثير ولم يتعقبها، والإمام ابن الجوزي، والإمام ابن العساكر رحمه الله في التاريخ على أننا لم نذكرها استدلالاً و احتجاجاً لأننا لا نستدل بالحكاية ولا نحتج بها، وإنما ذكرناها استيناساً وإيضاحاً لما قدمناه من أن الآية تفيد العموم. (حاشية الإسعاد: ص ۵٦).

جن حضرات نے اس قصہ کو بغیر کسی تردید کے لکھا ہے، ان میں چند کے نام یہ ہیں:

حافظ ابن كثير القرشي الدمشقي. تفسير ابن كثير: (۱/ ۵۷۰)، ومختصر تفسير ابن كثير: (۲/ ۳۰۲)، التفسير الوسيط لمحمد بن سيد الطنطاوي: (۱/ ۹۸۵)، الحاوي الكبير للعلامة أبو الحسن الم اور دي: (۵/ ۲۹۰، فصل فأما زيارة قبر

الخ كتاب الحج)، وسبل الهدى والرشاد في سيرة خير العباد لمحمد بن يوسف الصالحي الشامي: (۱۲/ ۳۹۰)، والمغني في فقه الإمام أحمد بن حنبل رحمه الله لابن قدامة المقدسي: (۳/ ۵۸۸)، وحاشية الجمل على المنهج للعلامة الشيخ سليمان الجمل: (۲/ ۲۸۵)، ومعجم ابن عساكر: (۱/ ۳٦۳)، وخلاصة الوفا بأخبار دار المصطفي: (۱/ ۵۷)، ومختصر تاريخ دمشق ابن منظور عن محمد بن حرب: (۲/ ٤۰۸)، والدر المنثور للسيوطي: (۱/ ۵۷۰)، عن أبي الحرب الهلالي. والمجموع شرح المهذب: (۸/ ۲۱۷)، والأذكار للنووي رحمه الله: (٤٤۰، كتاب أذكار الحج)، والإيضاح: (٤۹٤)، ومقالات الكوثري: (۳۸۷).
وفي معجم ابن العساكر: (۱/ ۳٦۳/ ۷۳۸) حدثنا عبد الغالب بن ثابت بن ماهان أبو نصر الرافقي قاضيها بها وكان شيخاً مسناً وذكر لي أنه سمع من أبي الحسين بن المقتدي ببغداد ومن ابن طوق بالموصل واحترقت كتبه، قال: أنبأ ابن طوق الموصلي بالموصل سنة تسع وخمسين وأربعمائة بإسناد لا أذكره الآن عن العتبى أنه قال: كنت جالساً عند قبر رسول الله ﷺ وإذا بأعرابي قد أقبل على ناقة له فنزل وعقلها ودنا إلى حجرة النبي ﷺ وأنشأ يقول من البسيط:
يا خير من دفنت بالقاع أعظمه
٭
فطاب من طيبهن القاع والأكم
نفسي الفداء لقبر أنت ساكنه
٭
فيه العفاف وفيه الجود والكرم
ثم قال الأعرابي وجدت الله تعالى يقول: ﴿ولو أنهم إذ ظلموا أنفسهم جاءوك فاستغفروا الله واستغفر لهم الرسول لوجدوا الله تواباً رحيماً﴾ وقد جئتك يا رسول الله مستغفراً من ذنبي مستشفعاً بك إلى ربي، وانصرف. قال العتبى: فنمت فرأيت النبي ﷺ في النوم، فقال لي يا عتبي الحق الأعرابي فقل له إن الله عز وجل قد غفر له. وهذا إسناد منقطع.

اس کے ساتھ مشابہ یہ قصہ دوسرے راویوں سے بھی مروی ہے ۔ اور اس کی متعدد اسانید ہیں ۔
سلفی حضرات اس واقعہ پر متعدد اشکالات کرتے ہیں:
(۱) عتبی کی وفات ۲۲۸ ؁ھ میں ہوئی، آنحضور ﷺ کی وفات کے تین دن بعد کیسے حاضر ہوئے ۔
(۲) اس میں اضطراب ہے ایک روایت میں قبر پر اپنے آپ کو ڈالنے کا ذکر ہے، دوسری روایت میں نہیں، ایک روایت میں قبر میں سے آواز آنے کا ذکر ہے: "
أنه قد غفر لك"
دوسری میں رسول اللہ ﷺ کے خواب میں تشریف لانے اور خوش خبری دینے کا ذکر ہے: "
أنه قد غفر لك".

(۳) اس میں رسول اللہ ﷺ سے بالمشافہہ بات چیت کا ذکر ہے، جب کہ وفات کے بعد ایسا کرنا ناممکن ہے " لیکن خلافِ عادت یہ ہو سکتا ہے" ۔
(٤) عتبی کے قصہ کی اسناد تاریک ہے ۔
(۵) اس میں یہ اضطراب بھی پایا جاتا ہے کہ یہ قصہ عتبی سے مروی ہے یا محمد بن حرب ہلالی عن الاعرابی سے یا محمد بن حرب الہلالی عن ابی محمد الحسن الزعفرانی عن الاعرابی جب کہ زعفرانی امام شافعی رحمه الله کے تلمیذ ہیں، اور ان کی وفات ۲٤۹؁ھ میں ہوئی، وہ اس اعرابی سے کیسے روایت کر سکتے ہیں جو بہت زمانہ پہلے گزر چکا ہو۔
(٦) پھر کبھی عتبی سے روایت کرتے ہیں، جو رسول اللہ ﷺ کی جانب سے اعرابی کے پاس پہونچے اور خوش خبری دینے پر مامور ہوئے، حافظ ابن عبد الہادی نے الصارم المنکی میں لکھا ہے کہ بعض حضرات اس واقعہ کو عتبی سے بلا سند نقل کرتے ہیں اور بعض محمد بن حرب عن الاعرابی نقل کرتے ہیں، اور بعض محمد بن حرب عن ابی الحسن الزعفرانی عن الاعرابی نقل کرتے ہیں، نیز اس قصہ کو امام بیہقی نے شعب الایمان میں تاریک سند کے ساتھ نقل کیا ہے ۔
(۷) غماریین کے تلمیذ رشید محمود سعید ممدوح رفع المنارۃ میں تحریر فرماتے ہیں: "
وهي حكاية غير صحيحة الإسناد لكن الشاهد من ذكرها هو بيان أن العلماء ذكروها استيناساً لبيان أن الآية تفيد العموم. وحديث عرض الأعمال يؤيد الاستدلال بهذه الآية وهو قوله صلى الله عليه وسلم: "حياتي خير لكم، ومماتي خير لكم تحدثون ويحدث لكم وتعرض على أعمالكم فما وجدت خيراً حمدت الله وما وجدت غير ذلك استغفرت لكم" وهو حديث صحيح. (رفع المنارة: ۷۷، لمحمود سعيد ممدوح).

ہمارے اکابر رحمه الله اس واقعہ کو اس کی شہرت اور متعدد اسانید کی بنا پر تسلیم کرتے ہیں شیخ عطیہ سالم نے نور الدین زنگی کے زمانہ کا مشہور واقعہ کہ دو نصرانیوں نے رسول اللہ ﷺ کے جسد مبارک کی بے حرمتی کا ارادہ کیا تھا، اور اپنے گھر سے روضہ اقدس تک سرنگ بنا رہے تھے، اس دوران بادشاہ نے خواب دیکھا اور پھر ان کو گرفتار کر کے سزا دی گئی، اس واقعہ کو اس کی شہرت کی بنا پر، اور اس وجہ سے کہ بادشاہ نے تمام اہل مدینہ کی ضیافت کی تھی تاکہ ان دو آدمیوں کو پہچان لیں، جنہوں نے گستاخی کا ارادہ کیا تھا، اور اس مکان کا نام (جس میں اہل مدینہ کی ضیافت کی تھی) "دار الضیافۃ" تھا، جو کچھ عرصہ قبل تک موجود تھا، اور پھر آنحضور ﷺ کی قبر کے ارد گرد سیسے کی دیوار بنائی تھی اور سیسہ پگھلانے کا مکان "دار الرصاصۃ" کچھ عرصہ قبل تک محفوظ تھا، اس بنیاد پر اس واقعہ کو تسلیم کر لیا ہے، اگر چہ اس کی متصل سند موجود نہیں ۔ (
السؤال والجواب في آيات الكتاب: ۲۷۷، ۲۷۸، للشيخ عطية سالم رحمه الله تعالى).

اسی طرح یہ واقعہ بھی مشہور ہے اور کتب فقہ و تفسیر میں مذکور ہے، اور عتبی کے اشعار بھی روضہ اقدس پر تحریر شدہ ہیں ۔
ایسے واقعات میں شہرت سے کام چل سکتا ہے ۔ ہمارے لوگ جو اپنے آپ کو یوسف زئی اور عمر خیل اور ابا خیل کہتے ہیں، کیا وہاں تک صحیح نسب نامہ بیان کر سکتے ہیں، ہرگز نہیں، لیکن اس قسم کے واقعات کے لیے شہرت کافی ہے، حضرت مولانا سرفراز صفدر رحمه الله نے بھی اس قسم کے معاملات میں شہرت کو کافی سمجھا ہے، ان کی کتاب تسکین الصدور ص ۳٦۳ ۔ ۳٦٤ کے ایک ورق کی فوٹو کاپی ملاحظہ فرمائیں ۔
عتبی کا تعارف:
بعض لوگ عتبی کو مجہول کہتے ہیں ان کے تعارف کے لیے چند عبارتیں بھی دیکھ لیجیے ۔

في كتاب: تبصير المنتبه بتحرير المشتبه لابن حجر العسقلاني: (۱/۲۳۲):
العتبى: محمد بن عبيد الله البصري الأخباري، مشهور.
وفي كتاب: الإكمال لابن ماكولا: (۱/٤۸۱):
باب العتبى والقيني والقتبي: أما العتبى بعين مهملة وتاء ساكنة معجمة باثنتين من فوقها وباء معجمة بواحدة فهو محمد بن عبيد الله العتبى الأخباري، بصري.
وفي كتاب العبر في خبر من غبر للذهبي (۱/۷٦):
وفيها العتبى الأخباري وهو أبو عبد الرحمن محمد بن عبيد الله بن عمرو الأموي أحد الفصحاء الأدباء من ذرية عتبة بن أبي سفيان بن حرب، كان من أعيان الشعراء بالبصرة، سمع أباه وسمع أيضاً من سفيان بن عيينة عدة أحاديث، والأخبار أغلب عليه.
وفي كتاب معجم الشعراء للمرزباني (۱/۱۱۰):
أبو عبد الرحمن العتبى محمد بن عبيد الله بن عمرو بن معاوية بن عمرو بن عتبة بن أبي سفيان صخر بن حرب بن أمية بن عبد شمس، بصري علامة راوية للأخبار والآداب وكان حسن الصورة جميل الأخلاق وبلغ سناً عالية وكان حسن الخضاب ويلبس الطيالس الزرق ولقب الشقراق للون خضابه وشدة حمرة وجهه وتلون طيالسة، وكان عمرو بن عتبة يغمز في نسبه، وتتابعت على العتبى مصائب بالذكور من ولده في الطاعون الكائن بالبصرة سنة تسع وعشرين ومائتين وقبل ذلك فمات منهم ستة فراثاهم بمراث كثيرة منها قوله:
كل لساني عن وصف ما أجد

وذقت ثكلاً ما ذاقه أحد
ما عالج الحزن والحرارة في

الاحشاء من لم يمت له ولد.
وفي كتاب والوافي بالوفيات للصفدي (۱/٤۵۱) :
العتبى الأخباري محمد بن عبيد الله بن عمرو بن معاوية بن عمرو بن عتبة بن أبي سفيان الأموي المشهور بالعتبى البصري الأخباري أحد الأدباء الفصحاء، مات له بنون فكان يرثيهم وقصيدته في ولده مشهورة منها:
الصبر يحمد في المواطن كلها

إلا عليك فإنه مذموم
روي عن أبيه وعن سفيان بن عتبة ولوط ابن مخنف، وروي عنه أبو حاتم السجستاني وأبو الفضل الرياشي وإسحاق بن محمد النخعي، وقدم بغداد وحدث بها، وكان مشتهراً بالشراب، وكان هو وأبوه سيدين أديبين فصيحين، ومن تصانيفه: كتاب الخيل، كتاب أشعار الأعاريب، وأشعار النساء اللاتي أحببن ثم أبغضن، وكتاب الذبيح، وكتاب الأخلاق وغير ذلك

وفي كتاب وفيات الأعيان وأبناء أبناء الزمان أحمد بن محمد المشهور بابن خلكان:
٦٦۳ــ العتبى أبو عبد الرحمن محمد بن عبيد الله بن عمرو بن معاوية بن عمرو بن عتبة بن أبي سفيان صخر بن حرب بن أمية بن عبد شمس القرشي الأموي المعروف بالعتبى، الشاعر البصري المشهور

.
وفي كتاب: سير أعلام النبلاء:
۲۹ــ العتبى العلامة الأخباري الشاعر المجود، أبو عبد الرحمن محمد بن عبيد الله بن عمرو بن معاوية بن عمرو بن عتبة بن أبي سفيان بن حرب الأموي ثم العتبى البصري، روى عن: ابن عيينة، وأبي مخنف، ووالده، وعنه: أبو حاتم السجستاني، وإسحاق بن محمد النخعي، وكان يشرب، وله تصانيف أدبيات وشهرة، مات سنة ثمان وعشرين ومائتين.
وانظر للمزيد: تاريخ بغداد لأحمد بن علي أبو بكر الخطيب البغدادي (۲/۳۲٦/۸۱۵)، وتوضيح المشتبه في ضبط أسماء الرواة وأنسابهم وألقابهم وكناهم لابن ناصر الدين الدمشقي: (٦/۸۹)، والمنتظم لابن الجوزي: (۳/۳٤۷)، والنجوم الزاهرة في ملوك مصر والقاهرة لابن تغري بردي: (۱/۲۳۱)، وكتاب الأنساب المتفقة لابن القيسراني: (۱/۳۳)، وكتاب الأنساب للسمعاني: (٤/۱٤۹).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.