حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی قصہ عتبی کے قصہ سے مختلف ہے:

5 min readFatwa Vol 3 #352Urdu

Question

رسول اللہ ﷺ کی قبر مبارک کے پاس ایک اعرابی کے آنے کا قصہ عتبی سے مروی ہے، اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی اس قسم کا ایک قصہ مروی ہے، کیا دونوں ایک ہے یا مختلف؟ سلفی حضرات دونوں کو ایک قرار دے کر باعثِ اضطراب گردانتے ہیں، دونوں قصوں کی کیا تفصیل ہے؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں دونوں قصے الگ الگ ہیں، اور اس کی وضاحت امام قرطبی، صاحب کنز العمال، صاحب المنتخب، صاحب مغنی، وغیرہ حضرات نے کی ہے، لہذا دونوں کو ایک کہہ کر اضطراب ثابت کرنا بے انصافی ہے، کیوں کہ اضطراب ثابت کرنے کے لیے جو دلائل پیش کیے گئے ہیں، ان میں سے ایک دلیل بھی دل کو نہیں لگتی ۔
عتبی کا قصہ تفسیر ابن کثیر میں ہے:

وقد ذكر جماعة منهم الشيخ أبو منصور الصباغ في كتاب "الشامل" الحكاية المشهورة عن العتبى قال: كنت جالساً عند قبر النبي ﷺ فجاء أعرابي فقال: السلام عليك يا رسول الله، سمعت الله يقول: ﴿ولو أنهم إذ ظلموا أنفسهم جاءوك فاستغفروا الله واستغفر لهم الرسول لوجدوا الله تواباً رحيماً﴾. وقد جئتك مستغفراً لذنبي مستشفعاً بك إلى ربي، ثم أنشأ يقول:
يا خير من دفنت بالقاع أعظمه
٭
فطاب من طيبهن القاع والأكم
نفسي الفداء لقبر أنت ساكنه
٭
فيه العفاف وفيه الجود والكرم
ثم انصرف الأعرابي، فغلبتني عيني، فرأيت النبي ﷺ في النوم فقال: "يا عتبي! الحق الأعرابي فبشره أن الله قد غفر له". (تفسير ابن كثير: ۱/ ۵۷۰).

مذکورہ بالا قصہ کو علامہ نووی رحمه الله، ابن کثیر رحمه الله، سیوطی رحمه الله، باجی رحمه الله، ثعالبی رحمه الله، ابن قدامہ رحمه الله، بیہقی رحمه الله، م اور دی رحمه الله، ابن عساکر رحمه الله، قرطبی رحمه الله، ابن الجوزی رحمه الله، قسطلانی رحمه الله، سبکی رحمه الله، نیز ماضی قریب کے علماء میں سے شیخ صابونی رحمه الله، شیخ کو ثری رحمه الله، اور مولانا تھانوی رحمه الله وغیرہ ان تمام حضرات نے بغیر کسی نکیر کے اپنی کتب میں جگہ دی ہے ۔
حضرت علی رضی اللہ تعالی کی روایت کنز العمال میں ہے، ملاحظہ فرمائیں:

قال ابن السمعاني في الذيل: أنا أبو بكر هبة الله بن الفرج، أنا أبو القاسم يوسف بن محمد بن يوسف الخطيب، أنا أبو القاسم عبد الرحمن بن عمرو بن تميم المؤدب، ثنا علي بن إبراهيم بن علان، أنا علي بن محمد بن علي، ثنا أحمد بن الهيثم الطائي، ثنا أبي عن أبيه عن سلمة بن كهيل عن أبي صادق عن علي بن أبي طالب رضي الله تعالى عنه قال: قدم علينا أعرابي بعد ما دفنا رسول الله ﷺ بثلاثة أيام، فرمي بنفسه على قبر النبي ﷺ وحثا من ترابه على رأسه، وقال: يا رسول الله! قلت: فسمعنا قولك، ووعيت عن الله فوعينا عنك، وكان فيما أنزل الله عليك: ﴿ ولو أنهم إذ ظلموا أنفسهم جاءوك فاستغفروا الله

.﴾ وقد ظلمت نفسي وجئتك تستغفر لي، فنودي في القبر: "أنه قد غفر لك".
قال في المغني: الهيثم بن عدي متروك. (كنز العمال: ۲/۳۸٦، سورة النساء، تفسير القرطبي: ۵/۱۷۲).

مذکورہ بالا دونوں روایتوں کے مضمون میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی وجوہات کی بنا پر دونوں قصے الگ الگ ہیں:
(۱) حضرت علی رضي الله عنه کے قصہ میں آپ ﷺ کی وفات کے تین دن بعد کی صراحت ہے جب کہ عتبی نے اپنے زمانہ کا واقعہ بیان کیا، اور ان کا انتقال ۲۲۸؁ھ میں ہوا ۔
(۲) حضرت علی رضي الله عنه کے قصہ میں
"حثا علي رأسه من ترابه"
کا ذکر ہے، اور عتبی کے قصہ میں نہیں ۔
(۳) حضرت علی رضي الله عنه سے مروی قصہ میں اعرابی کے اشعار نہیں ہیں، اور عتبی کے قصہ میں اشعار موجود ہیں ۔
(٤) حضرت علی رضي الله عنه سے مروی قصہ میں قبر مبارک سے آواز آنے کا ذکر ہے
"فنودي من القبر"
جب کہ عتبی کے قصہ میں خواب کا تذکرہ ہے ۔
(۵) حضرت علی رضي الله عنه کی روایت میں
"ظلمت نفسي وجئتك"
کے الفاظ ہیں، اور عتبی کے قصہ میں یہ الفاظ نہیں ہیں ۔
(٦) دونوں روایتیں سنداً بھی بالکل علیحدہ ہیں ۔
ان وجوہات کی بنا پر دونوں میں واضح فرق ہے، لہذا دونوں کو ایک کہہ کر اضطراب قرار دینا سمجھ میں نہیں آتا ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
فصل سوم
شعائر حج سے متعلق احکام

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.