عورت کے نکاح پڑھانے سے نکاح کا حکم:
Question
ایک فلسطینی مرد کا ایک تونیسی عورت کے ساتھ نکاح ہوا تونیسیا کے بلدیر میں جو گرجہ اور کو رٹ کے مشابہ ایک جگہ ہے، عورت کے والد اور بھائی کی موجودگی میں ایک مجسٹریٹ عورت نے نکاح پڑھایا، یا در ہے کہ مجسٹریٹ عورت مسلمان تھی اور عورت بھی خود مجلس نکاح میں موجود تھی ۔ یہ نکاح صحیح ہوا یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں نکاح خوان مسلمان تھی اور دو گواہوں کی موجود گی میں نکاح پڑھایا لہذا نکاح صحیح ہو گیا، کیوں کہ بالغہ عورت جب خود ایجاب و قبول کر سکتی ہے تو اسی طرح وہ کسی عورت کو وکیل بھی بنا سکتی ہے ۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:
(قوله يجعل عاقداً حكماً) لأن الوكيل في النكاح سفير ومعبر ينقل عبارة الموكل، فإذا كان الموكل حاضراً كان مباشراً لأن العبارة تنتقل إليه وهو في المجلس. (فتاوى الشامي: ۳/۲٤، سعيد).
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
عورت کی وکالت سے نکاح درست ہے، اگر دو گواہوں کی موجود گی میں ایجاب و قبول ہوا ۔ (فتاوی دار العلوم: ۷/۹۸، مدلل و مکمل ۔ و نظام الفتاوی: ۲/۲۱۱) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1276
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1276