غیر مسلم نصرانی عورت کے ساتھ کو رٹ میں نکاح کا حکم:

3 min readFatwa Vol 3 #382Urdu

Question

ایک مسلمان شخص نے المانیہ میں ایک نصرانی عورت کے ساتھ ان کے قوانین کی پیروی کرتے ہوے جج کے سامنے کو رٹ میں نکاح کیا تو یہ نکاح صحیح ہوا یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں دو گواہوں کی موجود گی میں جج کے روبرو باقاعدہ ایجاب و قبول کیا تو نکاح صحیح ہو گیا اور چونکہ عورت نصرانی ہے لہذا گواہوں کا مسلمان ہونا بھی ضروری نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں ہے:

وأما المسلم إذا تزوج ذمية بشهادة ذميين فإنه يجوز في قول أبي حنيفة رحمه الله وأبي يوسف رحمه الله سواء كانا موافقين لها في الملة أو مخالفين

لهما عمومات النكاح من الكتاب والسنة نحو قوله تعالى: ﴿فانكحوا ما طاب لكم من النساء﴾ وقوله: ﴿وأحل لكم ما وراء ذلكم أن تبتغوا بأموالكم﴾ وقول النبي ﷺ: "تزوجوا ولا تطلقوا" وقوله ﷺ: "تناكحوا" وغير ذلك مطلقاً عن غير شرط إلا أن أهل الشهادة وإسلام الشاهد صار شرطاً في نكاح الزوجين المسلمين بالإجماع فمن ادعي كونه شرطاً في نكاح المسلم الذمية فعليه الدليل. (بدائع الصنائع: ۲/۲۵٤، سعيد).

ہدایہ میں ہے:

قال: وإن تزوج مسلم ذمية بشهادة ذميين جاز عند أبي حنيفة رحمه الله وأبي يوسف رحمه الله وقال محمد رحمه الله وزفر رحمه الله: لا يجوز

ولهما أن الشهادة شرطت في النكاح على اعتبار إثبات الملك لوروده على محل ذي خطر لا على اعتبار وجوب المهر، إذ لا شهادة تشترط في لزوم المال وهما شاهدان عليها، بخلاف ما إذا لم يسمعا كلام الزوج لأن العقد ينعقد بكلاميهما والشهادة شرطت على العقد. (الهداية: ۲/۳۰۷، كتاب النكاح).

نظام الفتاوی میں ہے:
جب عقد نکاح کی مجلس میں زوجین دونوں خود موجود تھے اگر چہ عیسائی مجسٹریٹ کے کہنے سے یا پوچھنے سے دونوں نے باقاعدہ ایجاب و قبول کر لیا تو عقد نکاح کے ارکان پائے گئے، اور یہ دونوں میاں بیوی خود عاقد نکاح اور مباشر نکاح ہو گئے، تو بلا شبہ نکاح منعقد ہو گیا، اور مجسٹریٹ محض واسطہ و نگران کے درجہ میں رہ گیا تاکہ بوقت ان کار ثبوت ہو سکے ۔ (ملخص از نظام الفتاوی: ۲/۲۱۱) ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
سرکاری دفتر میں غیر مسلم جج کے روبرو دو گواہوں کی موجود گی میں باقاعدہ ایجاب و قبول ہو جانے سے نکاح منعقد ہو جاتا ہے اور حقوق زوجیت بھی حاصل ہو جاتے ہیں ۔ (ملخص از فتاوی رحیمیہ: ۵/۲٤۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.