حقیقی بھائی کی رضاعی بہن کے ساتھ نکاح کرنے کا حکم:
Question
ایک شخص کے حقیقی بھائی نے اس کی خالہ کا بچپن میں دودھ پیا تو اس خالہ کی لڑکی کے ساتھ وہ نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟ یعنی حقیقی بھائی کی رضاعی بہن کے ساتھ نکاح کر سکتے ہیں یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں حقیقی بھائی کی رضاعی بہن کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے، یعنی جس نے خالہ کا دودھ نہیں پیا وہ خالہ کی لڑکی کے ساتھ نکاح کر سکتا ہے، اور جس نے بچپن میں خالہ کا دودھ پیا وہ خالہ کی لڑکی کے ساتھ نکاح نہیں کر سکتا۔
ملاحظہ ہو عالمگیری میں ہے:
وتحل أخت أخيه رضاعاً ونسباً مثل الأخ لا ب إذا كانت له أخت من أمه يحل لأخيه من أبيه أن يتزوجها كذا في الكافي. (الفتاوى الهندية: ۱/۳٤۳، كتاب الرضاع).
در مختار میں ہے:
وتحل أخت أخيه رضاعاً يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية. (الدر المختار: ۳/۲۱۷، باب الرضاع، سعيد. وكذا في تبيين الحقائق: ۲/۱۸٤، كتاب الرضاع، إمدادية. وفتاوى محموديه: ۱۱/۳۳۷، مبوب ومرتب).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
فصل سوم
غیرمسلم اور گمراہ فرقوں سے نکاح کا بیان
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1301
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1301