حقیقی بھائی کی رضاعی بہن کے ساتھ نکاح کرنے کا حکم:

1 min readFatwa Vol 3 #404Urdu

Question

ایک شخص کے حقیقی بھائی نے اس کی خالہ کا بچپن میں دودھ پیا تو اس خالہ کی لڑکی کے ساتھ وہ نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟ یعنی حقیقی بھائی کی رضاعی بہن کے ساتھ نکاح کر سکتے ہیں یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں حقیقی بھائی کی رضاعی بہن کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے، یعنی جس نے خالہ کا دودھ نہیں پیا وہ خالہ کی لڑکی کے ساتھ نکاح کر سکتا ہے، اور جس نے بچپن میں خالہ کا دودھ پیا وہ خالہ کی لڑکی کے ساتھ نکاح نہیں کر سکتا۔
ملاحظہ ہو عالمگیری میں ہے:

وتحل أخت أخيه رضاعاً ونسباً مثل الأخ لا ب إذا كانت له أخت من أمه يحل لأخيه من أبيه أن يتزوجها كذا في الكافي. (الفتاوى الهندية: ۱/۳٤۳، كتاب الرضاع).

در مختار میں ہے:

وتحل أخت أخيه رضاعاً يصح اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية. (الدر المختار: ۳/۲۱۷، باب الرضاع، سعيد. وكذا في تبيين الحقائق: ۲/۱۸٤، كتاب الرضاع، إمدادية. وفتاوى محموديه: ۱۱/۳۳۷، مبوب ومرتب).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
فصل سوم
غیرمسلم اور گمراہ فرقوں سے نکاح کا بیان

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.