مطلق کافر کے ساتھ عقد نکاح کی ممانعت:

2 min readFatwa Vol 3 #413Urdu

Question

مسلمان عورت کا نکاح نصرانی یا یہودی سے نہیں ہو سکتا، بعض لوگ اس کی دلیل قرآن پاک سے مانگتے ہیں تو قرآنِ کریم میں:
﴿ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا ولعبد مؤمن خير من مشرك﴾. (سورة البقرة).
وارد ہے، لیکن کوئی ایسی آیت ہے جس میں کافر، یہودی، نصرانی کے ساتھ نکاح کی بھی ممانعت ہو؟

Answer

اللہ تعالی فرماتے ہیں:
﴿فإن علمتموهن مؤمنات فلا ترجعوهن إلى الكفار، لا هن حل لهم ولا هم يحلون لهن﴾. (سورة الممتحنة).

اس آیتِ کریمہ میں کفار مردوں کے لیے مسلمان عورتوں کے حلال نہ ہونے کا صاف ذکر ہے، کافر عام ہے چاہے مشرک ہو یا یہودی، نصرانی ہو یا ہندو سب کو شامل ہے ۔
تفسیر قرطبی میں ہے:

أي لم يحل الله مؤمنة لكافر. (تفسير قرطبي: ۱۳/٤۳).

احکام القرآن میں ہے:

وروي الشيباني عن السفاح بن مطر عن داؤد بن كردوس قال: كان رجل من بني تغلب نصراني عنده امرأة من بني تميم نصرانية فأسلمت المرأة وأبي الزوج أن يسلم ففرق عمر رضي الله عنه بينهما. (أحكام القرآن للجصاص: ۳/٤۳۸).

فتاوی محمودیہ میں ہے:
مسلمان لڑکی کی شادی غیر مذہب والے سے قطعاً حرام ہے، یہ نکاح نہیں بلکہ حرام کاری اور زنا ہے، جو باپ اپنی لڑکی کی شادی اس طرح کر دے وہ بے غیرت اور دیوث ہے، اس نے قرآنِ کریم کے حکم کو توڑا ہے، صاف صاف قرآن میں ہے:
﴿لا هن حل لهم ولا هم يحلون لهن﴾. (
فتاوی محمودیہ: ۱۱/٤٤۸، مبوب و مرتب) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.