نکاح پڑھانے کی اجرت کا حکم:
Question
کیا اجرت علی النکاح جائز ہے یا نہیں؟
Answer
اجرت علی النکاح جائز ہے جب کہ اس میں جبر کا معاملہ نہ ہو بلکہ اپنے اختیار سے بلا جبر اجرت مقرر کر لی جائے، لیکن صغیرہ کا ولی نکاح خواں ہو تو صغیرہ کے مال میں سے اجرت لینا جائز نہیں، اسی طرح اگر کسی جگہ ایک ہی نکاح خواں ہو اور دوسرے کو نکاح خوانی کی اجازت نہ دیتا ہو اور اپنی صواب دید پر اجرت لیتا ہو تو اس کے لیے بھی اجرت لینا جائز نہ ہوگا ۔
ملاحظہ فرمائیں المحیط البرہانی میں ہے:
وفي "فتاوى النسفي" وإذا كان القاضي يتولى القسمة بنفسه حل له أخذ الأجرة وكل نكاح باشره القاضي وقد وجبت مباشرته عليه كنكاح الصغار والصغائر، فلا يحل له أخذ الأجرة عليه، وما لم تجب مباشرته عليه حل له أخذ الأجرة عليه. (المحيط البرهاني: ۸/۵۰۲، الفصل السابع عشر، دار إحياء التراث العربي).
(ومثله في تكملة رد المحتار على الدر المختار: ۷/۵۹، سعيد. والفتاوى الهندية: ۳/۳٤۵، الباب الخامس عشر).
فتاوی بزازیہ میں ہے:
ولو تولى نكاح صغير لا يحل له أخذ شيء لأنه واجب عليه وكل ما وجب عليه لا يجوز أخذ الأجر وما لا يجب عليه أخذ الأجر. (الفتاوى البزازية على هامش الهندية: ۵/۱٤۰).
امداد الفتاوی میں ہے:
جس طرح تعلیم قرآن، تعلیم فقہ، امامت اور اذان پر بلحاظ ضرورت کے اجرت مقررہ یا اجر مثل کا دینا یا لے لینا درست ہے اسی طرح ملائے نکاح خواں کو حرمت و حلت نکاح کے مواقع اور مشروع صورت میں نکاح کے ایجاب و قبول اور تقرر مہر وغیرہ کے شرعی طریقے بتلا دینے کی اجرت مقررہ یا اجر مثل لینا اور عقد کرنے اور کرانے والوں کو دینا شرعاً درست ہے جس طرح مثلاً تعلیم فقہ پر اجرت کے لینے اور دینے کے بند ہو جانے میں علم فقہ کے ضائع ہو جانے کا اندیشہ ہے اسی طرح ملائے نکاح خواں کی مذکورہ بالا اجرت بند ہو جانے میں نکاحوں کے شرعاً فاسد اور باطل ہو جانے اور دیگر مفاسد پیدا ہو جانے کا سخت خطرہ ہے ۔ (امداد الفتاوی: ۲/۲۷۱) ۔
فتاوی فریدیہ میں ہے:
نکاح خواں کی اجرت انعام ہے
كما لا يخفي علي من راجع إلى العرف
، اور اگر اجرت ہو تب بھی جائز ہے،
لكونها أجرة على تعليم الإيجاب والقبول وتلقينها. (
فتاوی فریدیہ: ٤/۳۸۲) ۔
کفایت المفتی میں ہے:
نکاح خوانی طرفین یعنی قاضی اور اس کو بلانے والے کی باہمی رضامندی سے لینی جائز ہے ۔ (کفایت المفتی: ۵/۱٤۸، دار الاشاعت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1333
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1333