ہلال کمیٹی کا سربراہ بریلوی ہو تو اس کے فیصلہ کا حکم:

4 min readFatwa Vol 3 #477Urdu

Question

اگر ہلال کمیٹی کا سربراہ کوئی بریلوی عالم ہو تو اس کا فیصلہ قبول کیا جائے گا یا نہیں؟

Answer

تقوی دار بریلوی فسق عملی میں مبتلا نہیں بلکہ اکثر ان کے عقائد میں انحراف پایا جاتا ہے، اور اس کا سبب دین میں تعمق اور غلو ہے، اسی وجہ سے ان کو جھوٹ کے ساتھ متہم نہیں کیا جا سکتا، بلکہ وہ اپنے آپ کو دین کے سچے وارث اور دوسروں سے زیادہ پرہیز گار سمجھتے ہیں، جھوٹ بولنے اور جھوٹی شہادت دینے سے احتراز کرتے ہیں، لہذا فقہاء کرام کی تصریح کے مطابق ان کی شہادت اور فیصلہ درست اور قابل قبول ہے ۔
البتہ ایسا بریلوی جس کے عقائد حد کفر تک پہنچ چ کے ہوں تو پھر اس کا فیصلہ قابلِ قبول نہیں ہوگا ۔
علامہ سید احمد طحطاوی رقم طراز ہیں:

قوله تقبل من أهل الأهواء، قال في المغرب أهل الأهواء: من زاغ عن طريقة أهل السنة والجماعة وكان من أهل القبلة، وإنما قبلت لأن فسقهم من حيث الاعتقاد وما أوقعه فيه إلا تدينه

وأهل الأهواء ليسوا بطائفة بعينها بل يطلق على كل من خالف السنة بتأويل فاسد. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۳/۲٤۰، كوئٹه).
قال في الشامية: لأن فسقهم من حيث الاعتقاد وما أوقعهم فيه إلا التعمق والغلو في الدين والفاسق إنما ترد شهادته لتهمة الكذب. (فتاوى الشامي: ۵/٤۷۲، سعيد).
قال في رد المحتار: قوله لا تكفر، فمن وجب إكفاره منهم فالأكثر على عدم قبوله كما في التقرير وفي المحيط البرهاني وهو الصحيح وما ذكره في الأصل محمول عليه، بحر. (فتاوى الشامي: ۵/٤۷۲، سعيد).

اور قضاء مثل شہادت کے ہے، جب شہادت قبول ہو گی تو فیصلہ بھی قبول ہوگا ۔

قال في الدر: وشرط أهليتها شرط أهليته، فإن كلاً منهما من باب الولاية والشهادة أقوي لأنها ملزمة علي القاضي والقضاء ملزم على الخصم فلذا قيل حكم القضاء يستقي من حكم الشهادة، ابن كمال، والفاسق أهلها فيكون أهله. وقال في رد المحتار: وأفصح بهذه الجملة دفعاً لتوهم من قال: إن الفاسق ليس بأهل للقضاء فلا يصح قضائه لأنه لا يومن عليه لفسقه وهو قول الثلاثة واختاره الطحاوي، قال العيني: وينبغي أن يفتي به خصوصاً في هذا الزمان، أقول: لو اعتبر هذا لا نسد باب القضاء خصوصاً في زماننا فلذا كان ما جري عليه المصنف هو الأصح كما في الخلاصة وهو أصح الأقاويل كما في العمادية، نهر، وفي الفتح: والوجه تنفيذ قضاء كل من ولاه سلطان ذو شوكة وإن كان جاهلاً فاسقاً وهو ظاهر المذهب عندنا وحينئذٍ فيحكم بفتوي غيره. (فتاوى الشامي: ۵/۳۵۵، سعيد).

خلاصہ یہ ہے کہ ابتدا میں مسلمانوں پر لازم ہے کہ غیر فاسق اور غیر اہل بدعت کو منصبِ قضاء کے لیے منتخب کریں، لیکن اگر حکومتِ اسلامیہ اہل بدعت کو قاضی مقرر کر دے تو وہ قاضی بن جائے گا اور اس کا جو بھی فیصلہ قرآن و سنت اور اجماع کے خلاف نہ ہو، وہ نافذ ہوگا اور مسلمانوں پر اس کا ماننا ضروری ہوگا ۔ علاوہ ازیں ہلال کمیٹی کے فیصلے کا مدار ایک شخص پر نہیں ہوتا بلکہ اکثریت پر ہوتا ہے کمیٹی کا سربراہ صرف اعلان کا کام انجام دیتا ہے یا بعض دوسرے معاملات میں بنیادی رول ادا کرتا ہے ۔ فتاوی شامی میں ہے:

وصرح ابن الكمال بأن من قلد فاسقاً يأثم وإذا قبل القاضي شهادته يأثم

وعبارة الدرر حتى لو قبلها القاضي وحكم بها كان آثماً لكنه ينفذ، وفي الفتاوى القاعدية: هذا إذا غلب على ظنه صدقه وهو مما يحفظ. (فتاوى الشامي: ۵/۳۵٦، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.