شیعہ، بریلوی کے ذبیحہ کا حکم:
Question
اگر کسی شیعہ یا بریلوی وغیرہ کے عقائد کفر کی حد تک پہنچ گئے ہوں تو ان کا ذبیحہ اہل کتاب پر قیاس کرتے ہوئے حلال ہوگا یا نہیں؟ وہ مشرک کے حکم میں ہیں یا اہل کتاب کے حکم میں ہیں؟
Answer
کسی شخص کے عقائد کفر کی حد تک پہنچ گئے ہوں اگر چہ وہ اپنے آپ کو مسلمانوں کی فہرست میں شمار کرتا ہو لیکن اس کا شمار اہل سنت و الجماعت میں نہیں ہوگا، فقہاء نے ایسے لوگوں کو زندیق ملحد میں شمار کیا ہے، اور بعض فقہاء نے ایسے لوگوں کو باغیوں کی جماعت میں شامل کیا ہے ۔
اور آج کل کے شیعہ، بریلوی وغیرہ جن میں سے بعض کے عقائد کفر کی حد تک پہنچ چکے ہیں، لہذا ان کے ذبیحہ کو حلال کہنا جائز اور درست نہیں ۔
نیز ایسے لوگوں کا اہل کتاب میں شمار کرنا بھی مشکل ہے، کیوں کہ اہل کتاب وہ ہیں جو اسلام کے علاوہ کسی اور دین سماوی کے اصول و قوانین پر باقی ہوں اور کسی وحی منزل کو مانتے ہوں ۔
ملاحظہ ہو عالمگیری میں ہے:
وكل من يعتقد ديناً سماوياً وله كتاب منزل كصحف إبراهيم عليه السلام وشيث عليه السلام، وزبور داود عليه السلام فهو من أهل الكتاب فتجوز مناكحتهم وأكل ذبائحهم كذا في التبيين. (الفتاوى الهندية: ۱/۲۸۱).
وفيه أيضاً: ولا يجوز نكاح المجوسيات ولا الوثنيات
ويدخل في عبدة الأوثان عبدة الشمس والنجوم والصور التي استحسنوها والمعطلة والزناديق
وكل مذهب يكفر معتقده كذا في فتح القدير. (الفتاوى الهندية: ۱/۲۸۱).
خلاصة الفتاوى
میں ہے:
الرافضي إن كان يسب الشيخين ويلعنهما فهو كافر. (خلاصة الفتاوى: ٤/۳۸۱، كتاب الفاظ الكفر).
عالمگیری میں ہے:
ولو قذف عائشة رضي الله تعالى عنها بالزني كفر بالله
ومن أنكر إمامة الصديق رضي الله عنه فهو كافر وعلى قول بعضهم هو مبتدع وليس بكافر والصحيح أنه كافر
ويجب إكفارهم بإكفار عثمان رضي الله عنه وعلي رضي الله عنه وطلحة رضي الله عنه وزبير رضي الله عنه وعائشة رضي الله تعالى عنها
ويجب إكفار الروافض في قولهم برجفة الأموات إلى الدنيا. (الفتاوى الهندية: ۲/۲٦٤).
وفي الخلاصة: ولا يؤكل ذبيحة المجوسي والمرتد والمرتدة والوثني. (خلاصة الفتاوى: ٤/۳۰۵، كتاب الصيد والذبائح).
حضرت مفتی رشید صاحب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
معتزلہ کے بارے میں تحریر شامیہ کی بنا پر میں شیعہ کو اہل کتاب کہتا تھا، بعد میں تنبہ ہوا کہ یہ لوگ زندیق ہیں، اس لیے انھیں اہل کتاب میں داخل کرنا صحیح نہیں، زندیق کی دو قسمیں ہیں:
(۱) بمعنی منافق یعنی اسلام کا مدعی ہو اور کفریہ عقائد چھپاتا ہو ۔
قال العلامة التفتازاني رحمه الله تعالى وإن كان مع اعترافه بنبوة النبي ﷺ وإظهاره شعائر الإسلام يبطن عقائد هي كفر بالاتفاق خص باسم الزنديق. (شرح المقاصد: ۲/۲٦۹).
وقال الحافظ العيني رحمه الله تعالى: واختلف في تفسيره فقيل: هو المبطن للكفر المظهر للإسلام كالمنافق. (عمدة القاري:: ۱٦/۲۰۰، باب حكم المرتد والمرتدة، ط: دار الحديث، ملتان).
(۲) جو شخص عقائد اسلام میں تاویلاتِ باطلہ کرتا ہو، ایسا شخص اگر چہ اپنے عقائدِ کفریہ کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ ان کی اشاعت کرتا ہے اس کے باوجود اسے زندیق کہا جاتا ہے ۔
قال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى: قوله المعروف أي بالزندقة الداعي الذي يدعو الناس إلى زندقته، فإن قلت كيف يكون معروفاً داعياً إلى الضلال وقد اعتبر في مفهومه الشرعي أن يبطن الكفر، قلت: لا بعد فيه فإن الزنديق يموه كفره ويروج عقيدته الفاسدة ويخرجها في الصورة الصحيحة وهذا معني إبطان الكفر فلا ينافي إظهاره الدعوي إلى الضلال وكونه معروفاً بالإضلال، ابن كمال. (رد المحتار: ۳/۳۰۵).
وقال الشاه ولي الله رحمه الله تعالى: إن المخالف للدين الحق إن لم يعترف به ولم يذعن له لا ظاهراً ولا باطناً فهو كافر وإن اعترف بلسانه وقلبه على الكفر فهو منافق، وإن اعترف به ظاهراً لكنه يفسر بعض ما ثبت من الدين ضرورة بخلاف ما فسره الصحابة والتابعون واجتمعت عليه الأمة فهو الزنديق. (المسوي: ۲/۱۳۰).
زندیق کے احکام:
(۱) زندیق واجب القتل ہے ۔ (لیکن یہ کام اسلامی حکومت کا ہے عام لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں) ۔
(۲) گرفتار ہونے کے بعد اس کی توبہ قبول نہیں، گرفتاری سے پہلے قبول ہے ۔
(۳) ان سے نکاح کرنا حرام ہے ۔
(٤) ان کا ذبیحہ حرام ہے ۔ (ماخوذ از احسن الفتاوی:
۱
/
۸۸
) ۔
دوسری جگہ فرماتے ہیں:
شیعہ، قادیانی، آغا خانی، ذکری، پرویزی، انجمن دینداراں اور اس قسم کے دوسرے فرقے جو کافر ہونے کے باوجود خود کو مسلم کہلاتے ہیں، اسلام میں تحریف کر کے اپنے عقائدِ کفریہ کو اسلام ظاہر کرتے ہیں اور اس کی اشاعت کرتے ہیں، یہ سب زندیق ہیں ان کا ذبیحہ حرام ہے ۔ (احسن الفتاوی:
۷
/٤
۰۲
) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (فتاوی محمودیہ:
۲
/
۲۵
، جامعہ فاروقیہ، و فتاوی فریدیہ:
۱
/
۱۳۳
، فتاوی حقانیہ:
٦
/٤
٤۷
) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ جن لوگوں کے عقائد کفر تک پہنچ چکے ہوں ان کو اہل کتاب میں شمار نہیں کیا جائے گا، بلکہ وہ مشرک کے حکم میں ہیں اور ان کا ذبیحہ حرام ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2336
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2336