شیعہ یا قادیانی سے عدم جوازِ نکاح پر اشکال اور جواب:
Question
اگر کوئی قادیانی یا شیعہ کی لڑکی سے نکاح کرے تو کیوں ناجائز ہے؟ حالانکہ یہ مرتد نہیں ہوے باپ مرتد ہوا تو یہ اہل کتاب کے حکم میں کیوں نہیں؟ جب کہ بظاہر قرآن و حدیث کو بھی مانتے ہیں اور کتابی بالکل نہیں مانتے؟
Answer
اہل کتاب وہ ہیں جو دین اسلام کو نہیں مانتے ہوں اور عیسائی یا یہودی ہوں، لیکن جو لوگ اپنے آپ کو اسلام کا ایک فرقہ سمجھ کر اسلام کی مخالفت اور جڑیں کاٹتے ہوں ایسے لوگ زندیق کہلاتے ہیں ان کے ساتھ رشتہ مناکحت قائم کرنے کی گنجائش نہیں، زندیق اور ملحد اہل کتاب کے علاوہ ہیں، نیز علماء نے شیعہ اور قادیانیوں کے عقائد کی تحقیق فرما کر ان کو مرتد قرار دیا ہے اور مرتد کے ساتھ بھی نکاح کا رشتہ جوڑنا جائز نہیں ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وكل من يعتقد ديناً سماوياً وله كتاب منزل كصحف إبراهيم عليه السلام وشيث عليه السلام وزبور داود عليه السلام فهو من أهل الكتاب فتجوز مناكحتهم وأكل ذبائحهم كذا في التبيين. (الفتاوى الهندية: القسم الرابع المحرمات بالشرك: ۱/۲۸۱).
گمراہ فرقوں سے نکاح جائز نہیں ہے۔ ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:
ولا يجوز نكاح المجوسيات والوثنيات
ويدخل في عبدة الأوثان عبدة الشمس والنجوم والصور التي استحسنوها والمعطلة والزنادقة، والباطنية والإباحية وكل مذهب يكفر به معتقده كذا في فتح القدير. (الفتاوى الهندية: القسم الرابع المحرمات بالشرك: ۱/۲۸۱).
نیز مذکور ہے:
ولو قذف عائشة رضي الله تعالى عنها بالزني كفر بالله
من أنكر إمامة أبي بكر الصديق رضي الله تعالى عنه فهو كافر، وكذلك من أنكر خلافة عمر رضي الله تعالى عنه
ويجب إكفار الروافض في قولهم برجعة الأموات إلى الدنيا وتناسخ الأرواح وبانتقال روح الإله إلى الأئمة، وبقولهم في خروج إمام باطن وبتعطيلهم الأمر والنهي إلى أن يخرج الإمام الباطن، وبقولهم إن جبرئيل عليه السلام غلط في الوحي إلى محمد ﷺ دون علي بن أبي طالب رضي الله تعالى عنه، وهؤلاء القوم خارجون عن الملة الإسلام وأحكامهم أحكام المرتدين كذا في الظهيرية. (الفتاوى الهندية: ۲/۲٦٤، الباب التاسع في أحكام المرتدين. ومثله في الفتاوى التاتارخانية: ۵/۵۳۸، كتاب أحكام المرتدين، إدارة القرآن).
جدید فقہی مسائل میں ہے:
جو لوگ اسلام سے قادیانیت کی طرف گئے ہیں وہ تو مرتد ہیں اور ان سے نکاح کے جواز کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، لیکن جو لوگ نسلی طور پر قادیانی ہیں وہ بھی زندیق اور بد دین ہیں اور ان سے بھی نکاح جائز نہیں، اسی بنا پر فقہاء رحمه الله نے اہل قبلہ سے ہونے کے باوجود معتزلہ سے نکاح کی اجازت نہیں دی ہے۔
المناكحة بين أهل السنة وأهل الاعتزال لا يجوز. (خلاصه الفتاوى: ۲/٦)
اس لیے قادیانی اہل کتاب کے حکم میں نہیں ہیں بلکہ زندیق ہیں اور ان سے کسی قسم کا شادی بیاہ کا تعلق جائز نہیں ہے۔ (جدید فقہی مسائل: ۱/۲۸٦، نعیمیہ دیوبند)۔
احسن الفتاوی میں ہے:
شیعہ عورت مسلمان مرد کے لیے حلال نہیں اس لیے کہ شیعہ کافر ہیں، بعض کے خیال میں شیعہ اہل کتاب ہیں، مع ہذا بوجوہِ ذیل شیعہ عورت سے نکاح جائز نہیں:
(۱) اکثر علماء شیعہ کو اہل کتاب شمار نہیں کرتے، لہذا احتیاط واجب ہے۔
(۲) ان کے نزدیک صرف وہ شیعہ اہل کتاب ہے جس کا باپ اور دادا بھی شیعہ ہو، اگر کوئی مسلمان شیعہ ہو گیا تو وہ اور اس کی صلبی اولاد بحکم اہل کتاب نہیں، بلکہ مرتد ہے، اور ایسی عورت کے ساتھ نکاح حرام ہے، اگر شیعہ عورت سے نکاح کی اجازت ہو گئی تو بدوں اس تحقیق کے کہ یہ شیعہ عورت اہل کتاب سے ہے یا مرتد ہے نکاح ہونے لگیں گے، اس طرح حرام کاری کا دروازہ کھل جائے گا۔
(۳) عوام کی اکثریت پہلے ہی سے شیعہ کو مسلمانوں کا فرقہ سمجھ رہی ہے شیعہ عورت سے نکاح کی اجازت عوام کے اس غلط عقیدہ کی تائید ہوتی ہے، اس کے نتیجہ میں بعید نہیں کہ جاہل لوگ مسلمان عورت کا نکاح شیعہ مرد سے کر دیں، جو قطعاً حرام ہے، شیعہ کو مسلمان سمجھنے کے اور بھی خطرناک مفاسد ہیں ان کے ساتھ میل جول سے ایمان پر سخت خطرہ ہے
ان وجوہ کی بنا پر شیعہ عورت سے نکاح کا ہرگز کوئی جواز نہیں ہے۔ (احسن الفتاوی: ۵/۹۰)۔
مزید ملاحظہ ہو: فتاوی محمودیہ: ۱۰/۳۳۰، مبوب و مرتب۔ و فتاوی فریدیہ: ٤/٤۷٦، ٤۷۹)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1304
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1304