Larke ka shia hone ka shubah

· 25 Safar 1439 AH5 min readUrdu

Question

میرا مسلک "سنی - اہل حدیث" ہے . لڑکے کے والد اور والدہ دونوں کا مسلک "اہل سنت والجماعت بَریلوِی‎" ہے . لڑکے خود بھی "اہل سنت والجماعت بَریلوِی‎" ہے . وہ نماز ادا کرنے کے ، روزہ رکھنے / افطار کرنے کے اوقات اور طریقہ عین بَریلوِی‎ مسلک کے مطابق ہیں . وہ خلافت راشدہ ، امہات المومنین ، صحابہ کرام اور اہل البیت ان سب کے دراجاات اور ان سب کی عزت پر پابند ہے بَریلوِی مسلک کے مطابق . وہ حضرت علی (رضی اللہ تعالی عنہ) کو چوتھا خلیفہ مانتا ہے ، اور اِس بات کا اقرار کرتا ہے .

وہ لاہور کے بہت بڑے سافٹ ویئر ہاؤس میں مینجر ہے . اِس سے پہلے وہ جس کمپنی میں تھا اس میں میں بھی تھی . میں نے 2 سال اس کے ساتھ نوکری کی ہے . مْجھے کام دیتا تھا ، اور میں اس کو ڈائریکٹ رپورٹ کرتی تھی . میں نے اس میں ایسی کوئی باتیں نہیں دیکهیں جو شیعہ میں ہوتی ہیں . جیسا کے نا ہی اس کو کڑے پہنے دیکھا ، نا ہی کوئی انگوٹھیاں پہنے دیکھا ، نا ہی کوئی دھاگے پہنے دیکھا ، نا ہی گلے میں کچھ پہنے دیکھا . آفس میں ایک جگہ نماز ادا کرنے کے لیے مختص تھی .میں نے اس کو باجماعت نماز ادا کرتے بھی دیکھا ہے اور اکیلے بھی نماز ادا کرتے دیکھا ہے . اس کا ایک بھی طریقہ میرے مسلک کی نماز ادا کرنے کے طریقے سے مختلف نہیں ہے . وہ 9 محرم اور 10 محرم اپنے گھر میں گزارتا ہے . 10 محرم کو وہ اور اس کے گھر واالے گھر میں کافی سارا کهانا پکاتے ہیں ، جیسا کہ حلیم یا چاول . اور یہ پکا کے محلے میں اور غریبوں میں تقسیم کرتے ہیں . اِس کے علاوہ نا ہی وہ شیعہ کے مجالس میں جاتے ہیں ، اور نا ہی ماتم کرتے ہیں .

1- کیا میں اس سے شادی کر سکتی ہو ؟

2- کیا درج ذیل یقین رکھنے والا انسان شیعہ ہو سکتا ہے ؟ میرے والد صاحب کو یہ گمان ہے کے وہ لڑکا شیعہ ہے . اور یہ گمان ان کو اِس وجہ سے ہوا کیوں کے انہوں نے اس کی فیس بک پروفائل پہ 2 احادیث کا حوالہ دیکھا . وہ 2 احادیث یہ ہیں ;

1- مَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ، فَهذا عَلِىٌّ مَوْلاهُ

2- حسين مني وأنا من حسين

اگر اس نے یہ احادیث جو کے اس کے مسلک کے مطابق مستند ہیں ، اپنی فیس بک پروفائل پہ لگائیں تو اِس سے کیا وہ لڑکا شعیہ ثابت ہوتا ہے ؟

اہل حدیث مسلک کے مطابق یہ احادیث مستند احادیث ہیں یا کمزور احادیث ہیں ؟

فتویٰ لیتے وقت اِس بات کو زیرِغور رکھا جائے کہ میری شدید خواہش ہے اس سے شادی کرنے کی . میں اپنے والد صاحب کو یہ واضح کرنا چاہتی ہوں کے بَریلوِی‎ مسلک کے لڑکے سے نکاح جائز ہے . اور میری شدید خواہش ہے تو اسلام اور شریعت مجھے کیا اجازت دیتی ہے ؟

میں اپنے والد صاحب کی بات نہیں مان سکتی ، کیوں کے میں اس سے ہی شادی کرنا چاہتی ہوں . آپ سے گزارش ہے کہ میرے حق میں فیصلہ دیں . نماز کی تو میں خود گواه ہوں . ۲ سال میں کئ بار میں نے ان کو نماز ادا کرتے دیکھا ہے . اور یہ سب رشتہ کی بات چلنے سے پہلے کی بات ہے . یعنی کے یہ جعلی تو نہیں ہو سکتا نا . میری گواہی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے آپ لوگ فیصلہ لیں . کیوں کے میں جھوٹ نہیں کہہ رہی . نا ہے اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے یہ سب گواہی دے رہی ہوں . ۲ سال وہ میرا سینیر تھا ، اور ان ۲ سال میرے اور اس کے رشتہ کا کوئی سین نہیں تھا . جیسے ہی رشتہ کی بات چلی تھی میں نے نوکری چهوڑ دی تھی . اور ایک دفعہ جب رشتہ کے لیے میرے گھر والے ان کے گھر گءے تھے تب وہ اور میرے پھوپھا اور میرے مامو ، ان تینوں نے اکهٹے مغرب پڑھی تھی .

Answer

Har giz uska iraadah ne karo. Us se bohot door raho.

And Allah Ta'ala (الله تعالى) knows best.

Answered by
Mufti Ebrahim Salejee (Isipingo Beach)
Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Mufti Online — Madrasah Ta'leemuddeen. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.