منکر حدیث کے ذبیحہ کا حکم:
Question
ہمارے یہاں ایک قصائی منکر حدیث بن چکا ہے اگر وہ کبھی خود بکری یا دنبہ ذبح کرے تو اس ذبیحہ کا کھانا جائز ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ ایسے قصائی کا ذبیحہ بالکل نہیں کھانا چاہیے، وہ زندیق ہے اپنے کفر کو اسلام ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ قادیانی کا بھی یہی حکم ہے ۔
ملاحظہ ہو شرحِ فقہ اکبر میں ہے:
من رد حديثاً قال بعض مشايخنا يكفر وقال: المتأخرون إن كان متواتراً كفر، أقول: هذا هو الصحيح إلا إذا كان رد حديث الآحاد من الأخبار على وجه الاستخفاف والاستخفاف الإنكار، نقلاً عن الخلاصة. (شرح فقه الأكبر، ص ۲۰٤).
عبارتِ بالا سے معلوم ہوا کہ منکر حدیث مرتد ہے ۔
نیز ملاحظہ ہو ابو داود شریف میں روایت ہے:
عن معديكرب عن رسول الله ﷺ أنه قال: ألا أني أوتيت الكتاب ومثله (أي ومثل الكتاب) معه (وهو الحديث؛ لأنه وحي غير متلو
الخ). (سنن أبي داود: ۲/۲۸٤، باب لزوم السنة، إمدادية، مع بذل المجهود: ۱۳/۱٤، ط: إمدادية).
ابن ماجہ شریف میں ہے:
أن رسول الله ﷺ قال: يوشك الرجل متكئاً على أريكته يحدث بحديث من حديثي فيقول: بيننا وبينكم كتاب الله عز وجل فما وجدنا فيه من حلال استحللناه وما وجدنا فيه حرام حرمناه ألا وإن ما حرم رسول الله ﷺ مثل ما حرم الله. (رواه ابن ماجه، ص ۳، باب تعظيم رسول الله ﷺ والتغليظ على من عارضه، قديمي). (وكذا رواه الترمذي: ۲/۹۵).
در مختار میں ہے:
لا تحل ذبيحة غير كتابي من وثني ومجوسي ومرتد. (الدر المختار: ٦/۲۹۸، سعيد).
وفي تبيين الحقائق: وأما المرتد فلأنه لا ملة له لأنه لا يقر على ما انتقل إليه ولهذا لا يجوز نكاحه. (تبيين الحقائق: ۵/۲۸۷، إمدادية).
وفي البدائع: أن يكون مسلماً كتابياً فلا تؤكل ذبيحة أهل الشرك والمجوسي والوثني وذبيحة المرتد
وأما المرتد فلأنه لا يقر على الدين الذي انتقل إليه فكان كالوثني الذي لا يقر على دينه. (بدائع الصنائع: ۵/٤۵، سعيد).
لسان الحكام
میں ہے:
ولا تحل ذبيحة المرتد وإن ارتد إلى دين أهل الكتاب. (لسان الحكام، ص ۳۸۱، كتاب الذبائح، دار الفكر).
مزید ملاحظہ ہو: (
فتاوى قاضيخان على هامش الفتاوى الهندية: ۳/۳٦۸، والفتاوى الهندية: ۵/۲۸۵).
حضرت مولانا یوسف لدھیانوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قادیانیوں سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے، ہونا چاہیے، اور چیزوں کا لین دین بھی ایک نوع کا تعلق ہے، قادیانی کا ذبیحہ مردہ ہے اس کا کھانا حلال نہیں اس لیے کہ یہ مرتد اور زندیق ہیں ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۵
/٤
۵۳
) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
جب انکار حدیث کیا تو جن آیات میں اطاعت و اتباع رسول ہے ان کا بھی انکار ہو گیا تو پھر قرآن پر ایمان کہاں رہا؟ قرآن کا قرآن ہونا بھی تو رسول کے فرمانے سے معلوم ہوا، انکارِ رسول اور انکارِ قرآن کے ساتھ ساتھ ایمان کیسے جمع ہو سکتا ہے ۔ (فتاوی محمودیہ:
۲
/
۳٤٦
، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/2334
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-2334