چاند کے چھپنے کے ایام:
Question
چاند مہینے میں زیادہ سے زیادہ کتنے دن چھپتا ہے، اور سال میں ۲۹ دن کے مہینے زیادہ ہے یا ۳۰ دن کے، اور ۲۹ دن کے مہینے مسلسل کتنے ممکن ہے اور ۳۰ دن کے مسلسل کتنے ہو سکتے ہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
ہر ماہ میں چاند دو دن چھپتا ہے اور زیادہ سے زیادہ تین دن، لیکن محققین کی رائے کے مطابق عموماً زیادہ سے زیادہ دوہی دن چھپتا ہے، اور ایک دن چھپنا تو ضروری ہے ۔
ملاحظہ ہو علامہ آلوسی قاضی بغداد و ماہر فلکیات اپنی نامور تفسیر میں فرماتے ہیں:
والمنازل جمع منزل والمراد به المسافة التي يقطعها القمر في يوم وليلة وهي عند أهل الهند سبعة وعشرون
فاحتالوا في ضبطها فنظروا أولاً إلى القمر فوجدوه يعود إلى وضع له من الشمس في قريب من ثلاثين يوماً ويختفي آخر الشهر لليلتين أو أقل أو أكثر فأسقطوا يومين من زمان الشهر فبقي ثمانية وعشرون وهو زمان ما بين أول ظهوره بالعشيات مستهلاً أول الشهر وآخر رؤيته بالغدوات مستتراً آخره. (روح المعاني: ۲۳/۱٦، سورة يس).
موسوعة الأفلاك والأوقات
میں استاذ ابو ایمن خلیل احمد عبد اللطیف الکیرنوری لکھتے ہیں:
إن القمر يمر أمامها في آخر يوم من أيام الشهر القمري لأنه يكون منحمقاً يومها فلا يري، فيري هلالاً بعد ذلك اليوم إذا كان بينه وبين الشمس ۱۲ درجة (أعني۲٤ ساعة) كالعرجون ولكن في أكثر الأحوال لا يري الهلال إلا بعد ۱۵درجة (اعني ۳۰ ساعة) فيري هلالاً لأنه قد ابتعد قليلاً عن نفطة الصعود. (موسوعة الأفلاك والأوقات، ص۵٤، ط: بيروت، لبنان).
مذکورہ بالا عبارت سے واضح ہوتا ہے کہ فقط دو رات چاند چھپتا ہے اس سے زیادہ نہیں ۔
نیز حضرت مولانا موسیٰ روحانی بازی صاحب رحمه الله نے بھی اسی کی تصریح فرمائی ہے ۔ ملاحظہ ہو :
مجموعی وقفہ جس میں چاند پوشیدہ رہتا ہے ٦۰ گھنٹے نہیں بلکہ ٤۸ گھنٹے یا اس سے کچھ کم ہے ورنہ لازم آتا ہے کہ چاند مہینہ کی آخری تاریخوں میں مسلسل ۳ صبح غائب ہو، حالانکہ چاند بقولِ محققین عموماً دو دن ہی غائب رہتا ہے ۔ (فلکیاتِ جدیدہ، ص۳۵۳، حصہ دوم) ۔
البتہ جلالین کے حاشیہ میں بحوالہ کمالین مذکور ہے کہ چاند دو دن چھپتا ہے اور کبھی کبھی تین دن ۔
وأقل ما يخفي ولا يري صباحاً ولا مساء ليلتان وأكثره ثلاث ليالٍ. (
۲/۱۷۰، رقم الحاشیہ۲۳) ۔
لیکن سابقہ حوالوں سے معلوم ہوا کہ یہ بات درست نہیں ۔
فائدہ: علمائے ہیئت کے نزدیک قمری مہینہ کی ابتدا چاند کے محاق میں ہونے سے شروع ہو جاتی ہے جب کہ وہ ناقابلِ رؤیت ہوتا ہے حالانکہ شریعت نے قمری مہینہ کی ابتدا رؤیت قرار دی ہے اور یہ محاق سے مشرقی جانب چند درجہ طے کرنے سے ہوتی ہے ۔ ملاحظہ ہو موسوعۃ الافلاک میں ہے:
وفي آخر يوم من الشهر القمري يكون قد بلغ نقطة الصعود وأصبح بين الأرض والشمس على استقامة واحدة وقد غمر الظلام كامل وجهه المتجه نحونا ويكون قد غاب تحت الأفق مع مغيب الشمس فلا يري ويقال لحالته تلك حالة الاقتران فيدعي المحاق، وهذا هو وقت القران والعلماء يحسبون ابتداء الشهر القمري من هذا الوقت ولكن الشرع قد بين أن الشهر القمري يبتدأ من وقت رؤية الهلال لا غير، والقمر يأخذ لقطع ۳٦۰ درجة ۲٤ ساعة ٤۹ دقيقة فيأخذ ٤۹ دقيقة زائدة من الشمس لأنها تأخذ ۲٤ ساعة فقط فلذا يبدو الهلال في آخر المواقع الجغرافية في اليوم الثاني فبان أن المطالع تختلف، اليوم صار هذا عيناً مدللاً. (موسوعة الأفلاك، ص۵۵).
فلکیاتِ جدیدہ میں ہے:
حالتِ اجتماع نئے چاند کی عمر کا مبدأ ہے، پھر ۲٤ گھنٹے تک وہ آفتاب سے مشرق کی طرف نکل کر ۱۲ ویں یا ۱۳ ویں درجہ میں نظر آنے کے قابل ہو جائے گا ۔ (فلکیاتِ جدیدہ، ص۳۵۱، حصہ دوم) ۔
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1377
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1377