حدیث "مسح العينين" کی تحقیق:
Question
کیا یہ حدیث صحیح ہے کہ اذان میں جب مؤذن
"أشهد أن محمدا رسول الله"
ک ہے تو اس کو سن کر انگوٹھے چوم کر آنکھوں کو لگانے چاہیے؟
Answer
اس حدیث پر کلام ہے، بقولِ سخاوی یہ حدیث صحیح نہیں ہے اور جو روایت حضرت خضر سے مروی ہے اس کے روات مجہول ہونے ساتھ سند بھی منقطع ہے، اس لیے یہ حدیث قابل استدلال نہیں ۔ اس حدیث پر ائمہ جرح و تعدیل کے تبصرہ کے لیے دیکھیے:
(الموضوعات الكبير، ص ۱۰۸، والمقاصد الحسنة ص ۳۸۳، والأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة، ص ۲۱۰، رقم ۸۲۹).
نیز فتاوی کنز العباد اور فتاوی صوفیہ وغیرہ میں اس کا ذکر ہے لیکن یہ فتاوی قابل اعتماد نہیں ہیں، اس کے علاوہ یہ عمل آنکھوں کی بیمار ی کا علا ج بتایا گیا ہے ثواب کی نیت سے نہیں کرنا چاہیے ۔
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/138
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-138