بغیر نسبت طلاق دینے سے وقوعِ طلاق کا حکم:
Question
ایک شخص کا اس کی بیوی کے بھائیوں کے ساتھ جھگڑا تھا، اور جھگڑے کا سبب بیوی تھی، اس نے یہ الفاظ کہے "مجھ پر تین طلاق کے ساتھ مطلقہ ہے" اپنی بیوی کا نام یا اس کی طرف نسبت نہیں کی تو طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
Answer
صورتِ مسئولہ میں جب بیوی کے حق میں یہ الفاظ "مجھ پر تین طلاق کے ساتھ مطلقہ ہے" کہ دے تو طلاق واقع ہو گئی، اس لیے کہ طلاق بیوی ہی کو دی جاتی ہے کسی اور کو نہیں دی جاتی، تاہم اگر شوہر قسم کھا کر کہ دے کہ میری مراد بیوی نہیں تھی تو پھر طلاق واقع نہیں ہو گی ۔
ملاحظہ فرمائیں در مختار میں ہے:
قيد بخطابها لأنه لو قال: إن خرجت يقع الطلاق أولا تخرجي إلا بإذني فإني حلفت بالطلاق فخرجت لم يقع لتركه الإضافة إليها. وفي رد المحتار: والمفهوم من تعليل الشارح تبعاً للبحر عدم الوقوع أصلاً لفقد شرط الإضافة، مع أنه لو أراد طلاقها تكون الإضافة موجودة ويكون المعنى فإني حلفت بالطلاق منك أو بطلاقك، ولا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه، لما في البحر لو قال: طالق فقيل له من عنيت؟ فقال: امرأتي طلقت امرأته. (الدر المختار مع رد المحتار: ۳/۲٤۸، باب الصريح، سعيد).
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
وقوعِ طلاق کے لیے اضافہ صریحہ کا ہونا لازمی نہیں ہے ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: جلد دوم: ص۵۰٤) ۔
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله نے حضرت علامہ کشمیری رحمه الله کا ایک رسالہ بعنوان "حکم الانصاف فی الطلاق الغیر المضاف" نقل فرمایا ہے، ملاحظہ فرمائیں: (فتاوی دار العلوم دیوبند: جلد دوم: ص۵۰۵. ۵۱۰، دار الاشاعت) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
جب بیوی کے حق میں شوہر لفظ طلاق کہتا ہے تو اس سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، اگر چہ جملہ تامہ (میں نے تجھ کو طلاق دی) نہ کہا ہو، مگر مطلب اس کا یہی ہوتا ہے، تاہم اگر شوہر یہ کہے کہ میں نے طلاق نہیں دی اور لفظ یہ بیوی کے حق میں نہیں کہا تو قسم کے ساتھ شوہر کا قول معتبر ہوگا ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۲/۲۷٤، مبوب و مرتب) ۔
کفایت المفتی میں ہے:
زید کے ان الفاظ میں جو سوال میں مذکور ہیں لفظ طلاق تو صریح ہے لیکن اضافت الی الزوجۃ صریح نہیں ہے، اس لیے اگر زید قسم کھا کر یہ کہ دے کہ میں نے اپنی بیوی کو یہ الفاظ نہیں کہے تھے تو اس کے قول اور قسم کا اعتبار کر لیا جائے گا، اور طلاق کا حکم نہیں دیا جائے گا ۔ (کفایت المفتی: ٦/۵٤، دار الاشاعت) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی رحیمیہ: ۸/۲۷۵، مبوب و مرتب) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1463
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1463