"تم سب سے کہ دو کہ طلاق دے دی" کہنے کا حکم:
Question
عورت نے اپنے خاوند سے کہا مجھے طلاق دے دو، اس نکاح میں بدنامی ہے، اس کے جواب میں شوہر نے ایک رقعہ لکھا: تمہاری بدنامی جاتی رہے گی، تم سب سے کہ دو کہ طلاق دے دی، بظاہر اس سے مقصود طلاق واقع کرنا نہ تھا، اب اس صورت میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ اگر واقعۃً طلاق نہیں دی اور عورت سے صرف یہ کہ دیا: سب سے کہ دو کہ طلاق دے دی، دیانۃً اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی، ہاں قضاءً طلاق ہو گئی، مگر پہلے سے اس پر گواہ بنا لیے تھے تو قضاءً بھی واقع نہ ہو گی، اور اگر شوہر کا مقصد اس لفظ سے طلاق دینا تھا تو طلاق واقع ہو گئی ۔
ملاحظہ ہو شامی میں ہے:
وأما ما في إكراه الخانية: لو أكره على أن يقر بالطلاق فأقر لا يقع، كما لو أقر بالطلاق هازلاً أو كاذباً، فقال في البحر: إن مراده لعدم الوقوع في المشبه به عدمه ديانة، ثم
نقل عن البزازية والقنية: لو أراد به الخبر عن الماضي كاذباً لا يقع ديانة، وإن أشهد قبل ذلك لا يقع قضاءً أيضاً. (فتاوى الشامي: ۳/۲۳۸، كتاب الطلاق، سعيد).
مزید ملاحظہ ہو: (البحر الرائق: ۳/۲۴۶ ۔ و حاشیہ چلپی علی تبیین الحقائق: ۲/۱۹۵ ۔ و فتاوی دار العلوم دیوبند: ۹/۱۵۸، مدلل مکمل) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1528
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1528