"مکان میں جاؤ تو واپس نہ آنا" اس جملہ سے تعلیق کا حکم:

2 min readFatwa Vol 4 #93Urdu

Question

شوہر نے بیوی سے کہا "اس مکان میں نہ جاؤ اگر چلی گئی تو واپس مت آنا" ان الفاظ سے تعلیق صحیح ہوئی یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ یہ الفاظ کنایہ میں سے ہے، اگر شوہر نے طلاق کی نیت کی ہے تو تعلیق صحیح ہے اور مکان میں جانے پر طلاق واقع ہو جائے گی، ورنہ بغیر نیت کے طلاق واقع نہیں ہو گی ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:

إذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لا مرأته إن دخلت الدار فأنت طالق وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال والظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط فيصح يميناً وإيقاعاً. (الهداية: ۲/۳۸۵، باب الأيمان في الطلاق).

در مختار میں ہے:

الكنايات لا تطلق بها قضاءً إلا بنية أو بدلالة الحال، قوله قضاءً قيد به لأنه لا يقع ديانة بدون النية، ولو وجدت دلالة الحال فوقوعه بواحد من النية أو دلالة الحال إنما هو في القضاء فقط. (الدر المختار مع رد المحتار: ۳/۲۹٦، باب الكنايات، سعيد).

فتاوی دار العلوم میں ہے:
اگر صریح طلاق معلق کی ہے، تو بعد تحقیق شرط رجعی طلاق واقع ہو گی اور اگر بائنہ کو معلق کیا ہے، تو بائنہ واقع ہو گی، غرض جیسی طلاق معلق کی ہے بوقت تحقیق ویسی ہی واقع ہو گی ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۱۰/۹۱، مدلل مکمل ۔ و فتاوی رحیمیہ: ٦/۳۰۸) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.