ہم بستری پر چار رکعت نماز کی قسم سے ایلاء کا حکم:

7 min readFatwa Vol 4 #115Urdu

Question

اگر کسی شخص نے قسم کھائی کہ اپنی بیوی سے صحبت کروں تو مجھ پر چار رکعت نماز پڑھنا لازم ہے، اس صورت میں ایلاء ہوگا یا نہیں؟ نیز ایلاء میں کسی مدت کی تعیین شرط ہے یا مطلقاً بھی صحیح ہے؟ نیز برائے مہربانی شرعاً ایلاء متحقق ہونے کے لیے ضروری چیزیں بتلا دیں؟

Answer

چار ماہ یا اس سے زائد عرصہ کے لیے یا مدت کی تعیین کے بغیر بیوی سے صحبت نہ کرنے کی قسم کھانا، یا بیوی سے صحبت کرنے پر کسی کام کو اپنے اوپر لازم کرنا جو فی نفسہ بہت مشکل ہو، ایلاء ہے، لیکن اگر ایسی چیز کو لازم کیا جو عموماً بہت دشوار نہ ہو تو ایلاء نہ ہوگا، مثلاً یوں کہے: "اگر میں تم سے صحبت کروں تو مجھ پر چار رکعت نماز یا ایک دن کا روزہ لازم ہوگا" ۔
ملاحظہ ہو فتح القدیر میں ہے:

والإيلاء لغة اليمين

وفي الشرع هو اليمين على ترك قربان الزوجة أربعة أشهر فصاعداً بالله أو بتعليق ما يستشقه على القربان. (فتح القدير: ٤/۱۸۹، باب الإيلاء، دار الفكر. وكذا في البحر الرائق: ٤/٦۰، كوئته).
وفي العناية: وهو في اللغة عبارة عن اليمين

وفي الشريعة عبارة عن منع النفس عن قربان المنكوحة أربعة أشهر فصاعداً منعاً مؤكداً باليمين. (شرح العناية: على فتح القدير: ٤/۱۸۸، دار الفكر).

شرعاً ایلاء متحقق ہونے کے لیے کچھ شرائط ہیں، ملاحظہ فرمائیں: ۔
(الف) ایلاء کرنے والے کا عاقل بالغ ہونا ۔ (ب) بوقتِ ایلاء عورت کا حقیقتاً یا حکماً شوہر کے نکاح میں ہونا ۔ (ج) اگر ایلاء کسی اجنبیہ سے کیا گیا ہے تو وہ اس وقت صحیح ہوگا جب کہ ایلاء کو اس عورت سے نکاح پر موقوف رکھا گیا ہو ۔ (د) صحبت نہ کرنے کوکسی جگہ کے ساتھ مقید نہ کرنا ۔ (ھ) چار ماہ سے کسی دن کا استثناء نہ کرنا ۔
ملاحظہ فرمائیں بدائع الصنائع میں ہے:

لركن الإيلاء في حق هذا الحكم شرائط بعضها يعم كل يمين بالطلاق وبعضها يخص الإيلاء أما الذي يعم

من العقل والبلوغ وقيام ملك النكاح والإضافة إلى الملك حتى لا يصح إيلاء الصبي والمجنون لا نهما ليسا من أهل الطلاق

وكذا جميع ما ذكرنا من شرائط صحة التطليق فهو من شرط صحة الإيلاء في حق الطلاق وأما الذي يخص الإيلاء فشيئان أحدهما المدة

والثاني ترك الفئ في المدة

(بدائع الصنائع: ۳/۱۷۱. ۱۷۳. سعيد).

فتح القدیر میں ہے:

وشرطه محلية المرأة وأهلية الحالف وعدم النقص عن أربعة أشهر. (فتح القدير: ٤/۱۸۹، باب الإيلاء، دار الفكر).

البحر الرائق میں ہے:

ولو حلف لا يقربها في زمان أو مكان معين لا يكون مولياً لأنه يمكنه قربانها في مكان آخر أو زمان آخر. (البحر الرائق: ٤/۱٦، باب الإيلاء، كوئته).

فتاوی شامی میں ہے:

يشترط أن لا يستثني بعض المدة مثل لا أقربك سنة إلا يوماً. (فتاوى الشامي: ۳/٤۲٤، سعيد. وبدائع الصنائع: ۳/۱۷۲، سعيد. ومجموعه قوانين إسلامي: ۱۷٤، قانون إيلاء).

ایلاء کی چند اقسام ہیں جو حسب ذیل درج ہیں: ۔
ایلاء کی دو تقسیم کی گئی ہے (۱) باعتبار مدت (۲) باعتبار الفاظ ۔
(۱) تقسیم اول کی دو قسمیں ہیں:
(الف) ایلاء مؤقت: مدتِ معینہ کے لیے (جو چار ماہ سے کم نہ ہو) بیوی سے صحبت نہ کرنے کی قسم کھانا ۔
(باء) ایلاء مؤبد: بغیر تعیین مدت یا ہمیشہ کے لیے بیوی سے صحبت نہ کرنے کی قسم کھانا ۔
(۲) تقسیم دوم کی بھی دو قسمیں ہیں:
(الف) ایلاء صریح: ان الفاظ سے ایلاء کرنا جن کو سنتے ہی ترک جماع کا مفہوم ذہن میں آئے، تو ان الفاظ سے ایلاء صریح کہلائے گا ۔
(باء) ایلاء کنایہ: اور جو الفاظ ایسے نہ ہوں وہ ایلاء کے سلسلہ میں کنائی کہلائیں گے، اور شوہر کی نیت پر اس کا حکم موقوف رہے گا، اگر اس نے ترک جماع مراد لیا ہے تو ایلاء ہوگا ورنہ نہیں ۔
ایلاء کے احکام:
ایلاء مؤقت میں چار ماہ کے اندر صحبت کرنے سے کفارہ یا وہ مشکل کام لازم ہو جاتا ہے جواس نے اپنے اوپر لازم کیا تھا ۔
اور چار ماہ تک صحبت نہ کرنے سے اس مدت کے گزرتے ہی طلاق بائن واقع ہو جاتی ہے، اور دونوں صورتوں میں ایلاء ختم ہو جاتا ہے ۔
ایلاء مؤبد میں چار ماہ کے اندر صحبت کرنے سے کفارہ لازم ہو کر ایلاء ختم ہو جائے گا، اور چار ماہ تک صحبت نہ کی تو طلاق بائن واقع ہو جائے گی، مگر ایلاء ختم نہ ہوگا، اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا، حتی کہ وہ عورت پھر اس کے نکاح میں آئے اور چار ماہ کے اندراس سے صحبت کرے تو کفارہ لازم آئے گا، اور ایلاء بھی ختم ہو جائے گا، اور صحبت نہ کی تو طلاق بائن واقع ہو گی، یہاں تک کہ تین طلاق واقع ہو جائے تو طلاق کی حد تک ایلاء ختم ہو جائے گا، اب حلالہ کے بعد جب وہ عورت اس کے نکاح میں آئے اور صحبت کرے تو طلاق واقع نہ ہو گی، مگر کفارہ لازم ہوگا ۔
ملاحظہ فرمائیں ہدایہ میں ہے:

فإن كان حلف على أربعة أشهر فقد سقطت اليمين لأنها كانت موقتة به وإن كان حلف على الأبد فاليمين باقية لا نها مطلقة ولم يوجد الحنث لترتفع به إلا أنه لا يتكرر الطلاق قبل التزوج لأنه لم يوجد منع الحق بعد البينونة فإن عاد فتزوجها عاد الإيلاء فإن وطئها وإلا وقعت بمضي أربعة أشهر تطليقة أخري لأن اليمين باقية لا طلاقها وبالتزوج ثبت حقها فيتحقق الظلم ويعتبر ابتداء هذا الإيلاء من وقت التزوج فإن تزوجها ثالثاً عاد الإيلاء ووقعت بمضي أربعة أشهر أخري إن لم يقربها لما بيناه فإن تزوجها بعد زوج آخر لم يقع بذلك الإيلاء طلاق لتقيده بطلاق هذا الملك واليمين باقية لا طلاقها وعدم الحنث فإن وطيها كفر عن يمينه لوجود الحنث. (الهداية: ۲/٤۰۱، باب الإيلاء كتاب الطلاق. والبحر الرائق: ٤/٦۰، باب الإيلاء. وكذا في فتح القدير: ٤/۱۸۹، دار الفكر. ومجموعه قوانين إسلامي: ۱۷۷، قانون إيلاء).

فتح القدیر میں ہے:

وحكمه لزوم الكفارة أو الجزاء المعلق بتقدير الحنث بالقربان، ووقوع طلقة بائنة بتقدير البر

(فتح القدير: ٤/۱۸۹. وكذا في بدائع الصنائع: ۳/۱۷۵، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.