ایلاء سے رجوع کرنے کا حکم:
Question
ایک شخص نے ایلاء کیا چار ماہ یا اس سے زیادہ، اب ایلاء سے رجوع کرنا چاہتا ہے تو اس کیا طریقہ ہے؟ نیز رجوع کرنے سے طلاق یا کفارہ لازم ہوگا یا نہیں؟
Answer
اگر کوئی شخص ایلاء سے رجوع کرنا چاہتا ہو اور صحبت پر قادر ہو تو ایلاء کی مدت کے اندر صحبت کر لے، کفارہ لازم ہوگا، اور ایلاء ختم ہو جائے گا، صحبت پر قادر ہونے کی صورت میں زبان سے رجوع کرنا کافی نہیں، اور اگر کوئی شخص کسی عارضی یا مستقل مرض یا کسی اور قوی مانع کے سبب چار ماہ تک مسلسل صحبت پر قادر نہ ہو تو اس کا زبان سے رجوع کر لینا کافی ہوگا، طلاق واقع نہیں ہو گی، اور کفارہ بھی لازم نہیں ہوگا ۔
البحر الرائق میں ہے:
فإن وطئ في المدة كفر وسقط الإيلاء بإجماع الفقهاء حتى لومضت أربعة أشهر لا يقع طلاق لا خلال اليمين بالحنث وسواء حلف على أربعة أشهر أو أطلق أو على الأبد
وإلا بانت أي إن لم يطأ في المدة وهي أربعة أشهر وقعت عليه طلقة بائنة. (البحر الرائق: ٤/٦۲، باب الإيلاء، كوئته).
ہدایہ میں ہے:
وإن كان المولي مريضاً لا يقدر على الجماع أو كانت مريضة أو رتقاء أو صغيرة لا تجامع أو كانت بينهما مسافة لا يقدر أن يصل إليها في مدة الإيلاء ففيئه أن يقول بلسانه فئت إليها في مدة الإيلاء فإن قال ذلك سقط الإيلاء. (الهداية: ۲/٤۰۳، باب الإيلاء. ومجموعه قوانين إسلامي: ۱۷۸، قانون إيلاء).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1573
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1573