غلط فہمی میں صحبت کرنے سے وجوبِ عدت کا حکم:
Question
کسی دوسرے کی بیوی کو اپنی بیوی سمجھ کر اس سے صحبت کر لی، پھر معلوم ہوا کہ اس کی بیوی نہ تھی تو اس عورت پر عدت لازم ہو گی یا نہیں؟ اسی طرح نکاح فاسد میں عدت کا کیا حکم ہے؟ نیز بچہ پیدا ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟
Answer
بصورتِ مسئولہ وطی بالشبہ اور نکاح فاسد بعد الدخول دونوں صورتوں میں عدت لازم اور ضروری ہے، اور عدت مکمل تین حیض ہے، اور اگر کم عمری یا زیادہ عمر کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو تو عدت تین ماہ قمری ہے اور حاملہ ہونے کی صورت میں عدت وضع حمل ہے ۔ اور یہ بچہ حرامی نہیں اس کا نسب ٹھیک ہے جس نے غلط فہمی سے صحبت کی ہے اس کا بچہ ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:
إذا دخل الرجل بالمرأة على وجه شبهة أو نكاح فاسد فعليه المهر وعليها العدة ثلاث حيض إن كانت حرة
فإن كانت لا تحيض من صغر أو كبر فعدة الحرة ثلاثة أشهر. (الفتاوى الهندية: ۱/۵۲۷، وكذا في بدائع الصنائع: ۳/۱۹۲، سعيد. والدر المختار: ۳/۵۰۱، سعيد).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1603
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1603