مار پیٹ اور زوجہ کی تحقیر پر فسخ و تفریق کا حکم:

9 min readFatwa Vol 4 #125Urdu

Question

دو عورتوں نے اپنے شوہروں کو چھوڑ دیا اور والد کے گھر چلی گئیں، پہلی بیوی کا شوہر اس کو بہت سخت مار پیٹ کرتا تھا، جس کی وجہ سے عورت کا اس کے ساتھ رہنا مشکل ترین اور دشوار ہو گیا تھا۔ دوسری عورت کا شوہر اس کو زبانی تکلیف دیتا تھا اور اس کی تقبیح و تحقیر اور گالی گلوچ کرتا تھا، بنا بریں، عورت کہتی ہے کہ اس کے ساتھ رہنا سخت مشکل اور دشوار ترین ہے ۔
کیا یہ افعال نشوز میں داخل ہیں یا نہیں؟ جس مدت تک عورتوں نے شوہروں کو چھوڑ دیا اس مدت کا نفقہ شوہر پر واجب ہے یا نہیں؟ چھوٹے بچے ساتھ ہوں تو ان کا نفقہ والد پر واجب ہے یا نہیں؟ کیا یہ ضرر اور تکلیف فسخِ نکاح کے لئے ذریعہ بن سکتی ہے یا نہیں؟ یعنی عورتوں کو مطالبہ تفریق کی گنجائش ہے یا نہیں؟

Answer

بصورت مسئولہ شوہر کا سخت مار پیٹ کرنا اور قسم قسم کے مظالم ڈھانا، نیز زبانی تقبیح و تحقیر کرنا اور گالی گلوچ و سخت الفاظ استعمال کرنا کہ عورت کی عصمت کا تحفظ مشکل ہو جائے یہ سب نشوز میں داخل ہیں اور ان تمام صورتوں میں دونوں عورتوں کو قاضی شرعی یا جمعیت کے سامنے مقدمہ پیش کرنے اور مطالبہ فسخ نکاح کا حق ہوگا ۔ جمعیت العلماء معاملہ کی تحقیق فرما کر دونوں نکاح کے فسخ کرنے کی مجاز ہو گی ۔ نیز دونوں عورتیں اپنے شوہروں کے مظالم کی وجہ سے اپنے والدین کے گھر چلی گئیں، لہذا ناشزہ شمار نہ ہوں گی، اور ان دنوں کے نفقہ کی بھی مستحق ہوں گی، اسی طرح نابالغ اولاد کا نفقہ بھی والد کے ذمہ ہے، لہذا ان ایام کا نفقہ والد ادا کرے گا ۔
ملاحظہ فرمائیں "کتاب الفسخ و التفریق" میں ہے:
آئین اسلامی یہ کسی طرح جائز نہیں کہ عورت کو اس طرح مار پیٹ کی جائے، اور اگر کوئی شوہر اس طرح کی حرکتِ ناشائستہ کا ارتکاب کرے تو عورت کو یہ حق ہے کہ قاضی کی عدالت میں مقدمہ دائر کرے اور قاضی سے تعزیر کا مطالبہ کرے، یہ حنفیہ کا مسلک ہے، لیکن حضرت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک یہ ہے کہ وہ قاضی سے تطلیق کا مطالبہ کر سکتی ہے ۔

"الأحوال الشخصية"
میں ہے:

مذهب الحنفية أن الزوج الذي يضار زوجته بنحو الضرب الأليم المبرح يستحق التعزير، وللزوجة أن ترفع أمرها إلى القاضي طالبته تعزيره، ومذهب المالكية أن للزوجة في هذه الحالة أن تطلب إلى القاضي أن يطلقها منه، وأخذ المشروع المصري أخير المذهب المالكية في هذه المسألة، وسنستوفي بحث هذا الموضوع في الكلام على فرق الزوج. (الأحوال الشخصية: ۱۵٤).

حالات کے پیشِ نظر اگر مار پیٹ حد ضرر تک ہو اور عورت تنگ ہو کر تفریق کا مطالبہ کرے اور حنفی قاضی کو فریقین سے تحقیقِ حال کے بعد شواہد و ثبوت سے یہ ظن غالب ہو جائے کہ عورت اپنے دعوی میں سچی ہے تو امام مالک کے مسلک پر ان کی تصریحات کے مطابق فیصلہ دے سکتا ہے ۔
مذہبِ مالکیہ کی تصریحات حسبِ ذیل ملاحظہ فرمائیں:

ومذهب المالكية أن الزوج إذا كان يضار زوجته بالضرب ونحوه كالإكراه على فعل أمر حرام كان لها أن ترفع أمرها إلى القاضي، وكان لها أن تطلب من القاضي تأديبه وزجره ليكف أذاه عنها كما أن تطلب التطليق منه، فإن طلبت من القاضي كفه عنها وعظه أول الأمر فبين له ما يجب على الزوج من حسن معاشرة زوجته وما عسي أن يترتب على سوء العشرة من التفريق الشمل وضياع الولد إن كان، فإن أجدت الموعظة فبها، وإن جائته ثانية تخبره أنه لم ينته ضربه، فإن استمر الأشكال بينهما بعث حكمين، ويجب على حكمين أن يسعيا في إصلاح ذات بينهما وتأليف قلبيهما على المودة وحسن المعاشرة، فإن تعذر عليهما ذلك نظرا فيمن تجيئ الإساء ة من جهته إلى صاحبه، فإن كانت الإساء ة تأتي من قبل الزوج طلقا الزوجة عليه بغير عوض

(الأحوال الشخصية ص: ٤۰۷،
بحوالہ "کتاب الفسخ و التفریق": ۱٤۹، تفریق کی تیرہویں بنیاد شوہر کا تکلیف دہ مار پیٹ کرنا) ۔

"الموسوعة الفقهية الكويتية"
میں ہے:

الشقاق هنا: هو النزاع بين الزوجين، سواء أ كان بسبب من أحد الزوجين أو بسببهما معاً أو بسبب أمر خارج عنهما، فإذا وقع الشقاق بين الزوجين وتعذر عليهما الإصلاح، فقد شرع بعث حكمين من أهلهما للعمل على الإصلاح بينهما وإزالة أسباب النزاع والشقاق بالوعظ وما إليه، قال تعالى: ﴿وإن خفتم شقاق بينهما فابعثوا حكماً من أهله وحكماً من أهلها، إن يريدا إصلاحاً يوفق الله بينهما﴾ ومهمة الحكمين هنا الإصلاح بين الزوجين بحكمة وروية.
وقد اختلف الفقهاء في مهمة الحكمين

وذهب المالكية إلى أن واجب الحكمين الإصلاح أولا، فإن عجزا عنه لتحكم الشقاق كان لهما التفريق بين الزوجين دون التوكيل، ووجب على القاضي إمضاء حكمهما بهذا التفريق إذا اتفقا عليه وإن لم يصادف ذلك اجتهاده. (الموسوعة الفقهية الكويتية: ۲۹/۵۳، التفريق للشقاق، وزارة الأوقاف، الكويت).

مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
اگر شوہر زوجہ کو برا بھلا کہے، گالی دے جو عورت کے لئے انتہائی تحقیر و اذیت کا باعث ہو، یا شدید زد و کوب کرے تو اس کو حق تفریق حاصل ہوگا ۔
تشریح: قرآن مجید میں ہے:
﴿ولا تمسكوهن ضراراً لتعتدوا، ومن يفعل ذلك فقد ظلم نفسه﴾. (سورة البقرة: ۲۳۱).
وارد ہوا ہے کہ ظاہر ہے کہ ضرب شدید اور گالی گلوچ سے بڑھ کر ضرر رساں بات اور کیا ہو گی، جناب نبی کریم ﷺ نے ضرب مبرح سے منع فرمایا ہے، اور یہ مار پیٹ، گالی گلوچ "لا ضرر ولا ضرار فی الإسلام" کے مسلمہ اصول کے خلاف ہے، اس لئے ایسی حالت میں اس ضرر کے تدارک کے لئے عورت کو قاضی کے یہاں درخواست دینے کا حق حاصل ہوگا ۔ قاضی تحقیق حال کے بعد مناسب فیصلہ صادر کرے گا، خواہ افہام و تفہیم کر کے چھوڑ دے یا شوہر سے ضمانت و مچلکہ لے کر چھوڑ دے، یا میاں بیوی میں تفریق کر کے اس ضرر کا تدارک کرے ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی: ۱۹۹ دفعہ ۸۱ ۔ و کذا فی فتاوی دار العلوم دیوبند: ۱۰/۲۵۲) ۔
کفایت المفتی میں ہے:
اگر شوہر کے مظالم ناقابلِ برداشت ہوں اور وہ طلاق بھی نہ دے اور عورت کی عصمت خراب ہونے کا اندیشہ ہو تو عورت کسی مسلمان حاکم کی عدالت سے اپنا نکاح فسخ کرا سکتی ہے، اور بعد حصولِ فسخ و انقضائے عدت دوسرا نکاح کر سکتی ہے ۔ (کفایت المفتی: ٦/۱۵۲) ۔
عورت شوہر کے ظلم و زیادتی کی وجہ سے گھر سے نکلی ہے، نافرمان اور ناشزہ نہیں ہے، اس لئے نفقہ کی مستحق ہو گی ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

لا نفقة لا حد عشر

وخارجة من بيته لغير حق وهي الناشزة. وفي الشامية: قوله "بغير حق" ذكر محترزة بقوله: بخلاف ما خرجت الخ، وكذا هو احتراز عما لو خرجت حتى يدفع لها المهر، ولها الخروج في مواضع مرت في المهر. (الدر المختار مع الشامي: ۳/۵۷٦ باب النفقة، ط: سعيد).

البحر الرائق میں ہے:

قوله (ولو مانعة نفسها للمهر) أي يجب عليه النفقة ولو كانت المرأة مانعة نفسها بحق كالمنع لقبض مهرها، والمراد منه المعجل إما نصاً أو عرفاً كما أسلفناه، لأنه منع بحق، فكان فوت الاحتباس لمعني من قبله، فيجعل كلا فائت. (البحر الرائق: ٤/۱۷۹ باب النفقة. وكذا في مجمع الأنهر: ۱/٤۸۹. والفتاوى الهندية: ۱/۵٤۵، باب في النفقة).

فتاوی رحیمیہ میں ہے:
زمانہ پر ورش میں بچہ کا نفقہ باپ کے ذمہ ہے، اگر بچہ کا باپ مالدار ہے تو بچہ کی ماں زمانہ پر ورش کا معاوضہ بھی طلب کر سکتی ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۸/٤۵۱) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.