دائم المرض کی زوجہ کے لیے فسخ نکاح کا حکم:
Question
ایک عورت نکاح کے بعد کچھ مدت خاوند کے ساتھ رہی، اس کے بعد خاوند کو سخت مرض کا عارضہ ہو گیا، جس کی وجہ سے بدن سے خون و پیپ جاری ہو جاتا ہے، خاوند نامرد تو نہیں لیکن قلتِ توانائی اور مرض کے باعث ہم بستر نہیں ہو سکتا، اگر ہوتا ہے تو زیادہ تکلیف ہوتی ہے، خاوند کی طرف سے اخراجات میں کوئی کمی نہیں ہے، مگر عورت رہنا نہیں چاہتی اور اپنی خوشی سے نکاح فسخ کرنا چاہتی ہے تو نکاح فسخ ہو سکتا ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ شوہر کے دائم المرض ہونے کی وجہ سے جوان بیوی کے حقوق ادا کرنے سے قاصر ہے، اور عورت صبر نہیں کر سکتی ہے اور معصیت میں مبتلا ہونے کا قوی اندیشہ ہو تو علماء نے اندیشۂ زنا و معصیت کے پیش نظر فسخ کرنے کی اجازت دی ہے، بنا بریں عورت اپنا مقدمہ قاضی یا جمعیت العلماء کے سامنے پیش کر دے، وہ حضرات تحقیق حال کے بعد شوہر کو ایک قمری سال علاج و معالجہ کی مہلت دے دیں، پھر بھی افاقہ نہ ہو اور بیوی دوبارہ مقدمہ دائر کر کے تفریق کا مطالبہ کرے تو قاضی یا جمعیت العلماء نکاح فسخ کرنے کی مجاز ہو گی ۔
ملاحظہ فرمائیں مجموعہ قوانین اسلامی میں ہے:
شوہر کے وطی پر قادر نہ ہونے کی متعدد صورتیں ہو سکتی ہیں، مثلاً شوہر مقطوع الذکر ہے، یا آلہ تناسل اتنا چھوٹا ہے کہ اس کے باعث وہ صحبت پر قادر نہیں ہے، یا آلۂ تناسل موجود ہے لیکن کسی مرض کے باعث عورت سے جماع پر قادر نہیں ہے، تو ان تمام صورتوں میں عورت کو قاضی کے ذریعہ نکاح فسخ کرانے کا اختیار ہوگا، پہلی اور دوسری صورت میں قاضی فوراً نکاح فسخ کر دے گا، اور تیسری صورت میں ایک قمری سال تک علاج کی مہلت دے گا، علاج کے بعد بھی جماع پر قادر نہ ہو سکا تو عورت کے مطالبہ پر فوراً قاضی نکاح فسخ کر دے گا ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی: ص۱۹۳، دفعہ۷٤) ۔
نیز مذکور ہے:
اگر شوہر کسی موذی مرض میں نکاح کے بعد مبتلا ہوا تو عورت کی درخواست پر قاضی تحقیق حال اور ثبوت شرعی کے بعد شوہر کو ایک قمری سال علاج کی مہلت دیگا، اس کے بعد بھی اگر افاقہ نہ ہو اور بیوی پھر تفریق کا مطالبہ کرے تو قاضی تفریق کر دے گا ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی: ص۱۹٤، دفعہ۷۵) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (کتاب الفسخ و التفریق: ۱۰٦ ۔ و فتاوی دار العلوم دیوبند: ۱۰/۲۳۱، مدلل مکمل) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1585
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1585