غیر مسلم عدالتوں میں فسخ کی متبادل صورتیں:

8 min readFatwa Vol 4 #135Urdu

Question

غیر مسلم عدالتوں کا فیصلہ طلاق اور فسخ و تفریق میں از روئے شرع نافذ ہوتا ہے یا نہیں؟ جب کہ دور حاضر میں غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں کی مستقل رہائش ہے، اور اس قسم کے معاملات بھی پیش آتے ہیں، نیز بعض ممالک میں تو اس قسم کے مسائل کے لیے کورٹ میں جانا ضروری ہوتا ہے، لہذا اگر نافذ نہیں ہے تو نافذ کرنے کی کوئی متبادل صورت نکل سکتی ہے یا نہیں؟ یا اس کے علاوہ دیگر صورتیں اختیار کرنے کا کوئی راستہ ہے یا نہیں؟

Answer

غیر مسلم جج کے فیصلہ کی چند صورتیں ہیں، شرعی حکم کے ساتھ حسب ذیل درج ہیں:
(۱) شوہر کورٹ میں اپنی بیوی سے طلاق کے لیے مقدمہ دائر کرتا ہے، اور کورٹ کا غیر مسلم جج قانونی کاروائی کے بعد دونوں کے درمیان طلاق کا فیصلہ کر دیتا ہے ۔
شرعی نقطۂ نظر سے اس فیصلہ میں طلاق واقع ہو جائے گی، کیوں کہ اگر چہ شریعت نے طلاق کا مکمل اختیار مرد کو دیا ہے، لیکن مرد نے مقدمہ دائر کر کے کورٹ کے غیر مسلم جج کو اپنا وکیل بنا لیا کہ وہ وکیل بن کر دونوں کے درمیان نکاح ختم کر دے ۔
لہذا
"
The said marriage will be dissolved"
اس صورت میں نکاح ٹوٹ جائے گا، اور شرعاً ایک طلاق بائن پڑ جائے گی، کیوں کہ غیر مسلم کو وکیل بنا کر اس طرح کا کام کرانا درست ہے، اور ڈکری "decree" (یعنی حکم جاری کرنے) کی تاریخ سے عدت شمار ہوگی ۔
(۲) بیوی ملکی قانون کے مطابق کورٹ میں مقدمہ دائر کرتی ہے، اور جدائی طلب کرتی ہے، اور غیر مسلم جج دونوں کے درمیان جدائی (طلاق) کا فیصلہ کر دیتا ۔ اس صورت میں کورٹ کے فیصلہ اور جدائی کی تفصیل درج ذیل ہیں:
(۱) سرکاری کاروائی شروع ہوئی اور جج کی طرف سے شوہر کو اطلاع ملی اور شوہر نے جج کو مقدمہ کی کاروائی کی باقاعدہ اجازت دے دی تو اس صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی ۔
(۲) جب کاروائی شروع ہوئی اور جج کی طرف سے شوہر کو اطلاع ملنے پر وہ وکیل کے پاس گیا، وکیل نے مشورہ دیا کہ مقدمہ کے دفاع سے سوائے تاخیر اور خرچ کے کوئی اور فائدہ نہیں ہوگا، کورٹ سے جدائی کا فیصلہ ہو جائے گا لہذا شوہر کی رضامندی سے وکیل نے لکھ دیا کہ دونوں کے درمیان جدائی کر دی جائے یا شوہر نے خود طلاق نامہ پر رضامندی سے دستخط کر دی، اس صورت میں بھی شرعی طلاق واقع ہو جائے گی ۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:

"إذا قال الرجل طلق امرأتي كان توكيلاً ولم يقتصر علي المجلس
۔
(الفتاوى الهندية: ۱/٤۰۲).

یعنی جب مرد نے کسی کو کہا میری عورت کو طلاق دے دو تو یہ طلاق دینے کے لیے وکیل ہو جائے گا ۔
دوسری جگہ صفحہ ٤۰۷پر لکھا ہے کہ:

"من قال لامرأته انطلقي إلي فلان حتي يطلقك، فذهبت فطلقها فلان ويصيرفلان وكيلاً بالتطليق وإن لم يعلم بوكالته"
۔
یعنی کسی نے اپنی بیوی سے کہا کہ تم میرے ساتھ فلاں کے پاس چلو کہ وہ تجھے طلاق دے، پس وہ گئی اس فلانے نے (جج نے) اس کو طلاق دے دی تو طلاق صحیح ہو جائے گی، اور وہ فلانہ آدمی (یعنی جج) طلاق دینے کے لیے وکیل قرار دیا جائے گا اگر چہ اس کو وکیل بنایا جانے کا علم نہ ہو ۔
(۳) عورت نے مقدمہ دائر کیا جج نے شوہر کو اطلاع بھیجی مرد نے مقدمہ کا دفاع کیا اور طلاق پر رضامندی ظاہر نہ کی بلکہ مخالفت کی، اس کے باوجود قانون کی وجہ سے جج نے طلاق کا فیصلہ کر دیا ۔
(٤) شوہر نے اپنی غلطیوں کا اقرار کیا اور آئندہ حقوق زوجیت ادا کرنے کا پورا یقین دلایا لیکن اس کے باوجود جج نے طلاق کا فیصلہ کر دیا ۔
(۵) مرد نے کوئی کا روائی شروع نہیں کی، اور طلاق پر رضامندی ثابت ہو ایسا بھی کوئی کام نہیں کیا، اس کے باوجود جج نے طلاق کا حکم دے دیا ۔
(٦) مرد نے مقدمہ کا دفاع کرنے سے انکار کر دیا لیکن طلاق دینے پر صراحۃً انکار کر دیا، اس کے باوجود جج نے طلاق کا فیصلہ کر دیا ۔
ان چاروں (۳، ٤، ۵، ٦) صورتوں میں حکومت کے قانون کے اعتبار سے دونوں نکاح سے الگ شمار ہوں گے، لیکن اسلامی فقہ کے اعتبار سے دونوں کا نکاح بدستور باقی رہے گا، اور عورت ان حالات میں دوسرے مرد سے نکاح نہیں کر سکتی ۔ البتہ عورت کو حق ہے کہ شرعی پنچایت سے رجوع کرے، اور شرعی پنچایت باقاعدہ تحقیق حال کے بعد اگر عورت کا دعویٰ صحیح ثابت ہو جائے تو تفریق کرنے کی مجاز ہوگی ۔
(مستفاد از فتویٰ مفتی اسماعیل کچھولوی صاحب، اسلامی قانون طلاق نکاح و طلاق) ۔
"ہاں غیر مسلم جج کو وکیل بنا دے پھر وہ طلاق کا فیصلہ کر دے تو نافذ ہو جائے گا" ۔
برطانوی نئے قانون ۲۰۰٤٤ کے مطابق کورٹ جو سوالات خاوند کو روانہ کرتا ہے، اس میں مزید ایک سوال کا اضافہ ہے، جو حسب ذیل درج ہے:
(5) "Do you consent to the decree being granted ?"
ترجمہ: (۵) تمہاری طرف سے ڈکری نائس (طلاق) جاری (Issue) کرنے کی (کورٹ) کو اجازت ہے؟
اس کے جواب میں اگر خاوند ہاں (yes) لکھتا ہے، تو گویا خاوند نے کورٹ کے غیر مسلم جج کو اپنی طرف سے طلاق واقع کرنے کا وکیل بنایا، اور غیر مسلم جج خاوند کی طرف سے وکیل بن کر عورت پر طلاق واقع کرتا ہے، اس سے اسلامی اور شرعی طلاق بھی واقع ہو جاتی ہے، کیوں کہ وکیل کا مسلمان ہونا ضروری نہیں ہے، غیر مسلم وکیل کے ذریعہ بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے ۔ (ملخص از اسلامی قانون نکاح و طلاق، بعنوان "برطانیہ میں طلاق کا قانونی طریقۂ کار" ص۱٤۰ ۔ ۱٤۳، از مولانا یعقوب قاسمی صاحب) ۔
مختصر دلائل ملاحظہ فرمائیں مبسوط میں ہے:

إذا وكلت الذمية مسلماً بخلعها من الذمي على خمر أو خنزير جاز، وكذلك النكاح

ولوكان أحد الزوجين مسلماً والوكيل كافراً جاز الخلع ويبطل الجعل

لأن الوكيل سفير ومعبر لا يتعلق به شيء من حقوق العقد هنا. (المبسوط للإمام السرخسي رحمه الله: ۱۹/۱۳۲، باب توكيل الزوج بالطلاق والخلع، ط: إدارة القرآن. وكذا في الفتاوى الهندية: ٦/٦۱۳).

ہدایہ میں ہے:

إن الوكيل في النكاح معبر وسفير والتمانع في الحقوق دون التعبير ولا ترجع الحقوق إليه بخلاف البيع لأنه مباشر حتى رجعت الحقوق إليه. (الهداية: ۲/۳۲۲، فصل في الوكالة بالنكاح. ومثله في البحر الرائق: ۳/۱۳٦، فصل في الوكالة، كوئته).

شامی میں ہے:

الوكيل في النكاح وما بعده سفير محض فلا بد من إضافة هذه العقود المذكورة إلى المؤكل. (فتاوى الشامي: ۳/۸۱۷، مطلب في العقود التي لا بد من إضافتها إلى المؤكل، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.