وقوعِ طلاق کی دوسری صورت:

8 min readFatwa Vol 4 #136Urdu

Question

آج کل قاضی شرعی نہ ہونے کی وجہ سے جو مشکلات عورتوں کو پیش آ رہی ہے، محتاج بیان نہیں، کبھی مرد ظلم کرتا ہے اور بیوی کے حقوق ادا نہیں کرتا، نہ نان نفقہ دیتا ہے نہ طلاق، نیز نکاح کے قدیم و جدید ذہنیت کا ٹکراؤ عام ہو رہا ہے جس کے نتیجہ میں حصولِ طلاق کے واقعات بڑھ رہے ہیں، لہذا ان مسائل کو نمٹنے کے لیے بوقتِ نکاح مرد سے اقرار نامہ لکھوا لیا جائے جس کی وجہ سے عورتوں کو بوقت ضرورت اپنے اوپر طلاق واقع کرنے کا اختیار حاصل ہو جائے ۔ از روئے شرع اس کی اجازت ہو گی یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ اس قسم کا اقرار نامہ لکھوانا جس میں طلاق کا اختیار عورت کے ہاتھ میں دے دیا گیا ہو اور بوقتِ ضرورت احتیاط کے ساتھ اس سے کام لینا جائز اور درست ہے ۔
اقرار نامہ یا کا بین نامہ جو عوام کے لیے آسان اور عورتوں کے لیے مفید ہو حسب ذیل درج کیا جاتا ہے:
(مستفاد از اسلامی قانون نکاح و طلاق، از مولانا یعقوب قاسمی صاحب، ناشر جامعہ علوم القرآن جمبوسر ۔ و کذا فی الحیلۃ الناجزۃ: ۱۳۱، دار الاشاعت، دیوبند) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
بسم اللہ الرحمن الرحیم

)اختيار نامه(

میں مسمی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ موضع ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ضلع ۔ ۔ ۔ ۔ صوبہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ملک ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پتا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میں پورے ہوش و حواس اور بغیر نشہ اور کسی قسم کے دباؤ اور زبردستی کے بغیر اپنی خوشی سے یہ مذکورہ اختیار نامہ لکھتا ہوں ۔
میری بیوی مسماۃ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کو نکاح کے بعد ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ میں اپنی جانب سے کوئی ایذاء رسانی کروں یا اس کے شرعی حقوق کو ادا نہ کروں یا ذہنی اعتبار سے کوئی تکلیف پہنچاؤں تو میں جناب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کو میری طرف سے اختیار دیتا ہوں کہ میری بیوی مسماۃ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کو میری جانب سے کسی قسم کی تکلیف پر مطلع ہوتے ہی وہ کسی مستند ماہر مفتی سے اس کے متعلق مشورہ کر کے ان کی رہنمائی میں وہ اسی وقت یا بعد میں کسی بھی وقت وہ میری مسماۃ کو طلاق بائن دے کر میرے نکاح سے الگ کر سکتا ہے ۔
میں نے اختیار نامہ پڑھا، سمجھا اور منظور کرتے ہوے دستخط کرتا ہوں ۔
دستخط: ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
مذکورہ اختیار نامہ جناب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نے ہماری موجود گی میں پڑھا اور رضامندی سے قبول کیا اس بات پر ہم گواہ ہیں ۔
(
۱
) گواہ: ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(
۲
) گواہ: ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم

)إقرار نامه(

میں مسمیٰ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ موضع ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ضلع ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ صوبہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ملک ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پتا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میرا نکاح مسماۃ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پتا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کے ساتھ بعوض مہر ۔ نقد/سونا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تاریخ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بمقام ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
طے ہوا ۔ بیوی کی رخصتی ساؤتھ افریقہ /برطانیہ ہی میں ہو گی ۔
ساؤتھ افریقہ/برطانیہ جا کر میں اپنے خاوند کے ساؤتھ افریقہ /برطانیہ میں داخلہ ویزا اور مستقل ویزا کے لیے مخلصانہ طور پر قانونی کاروائی کرنے کی کوشش کروں گی، تاکہ ہمارا گھر جلد آباد ہو ۔
سعی و کوشش کے باوجود میرا (خاوند) ویزا نہ ہو سکے یا کسی وجہ سے ہم دونوں میاں بیوی کے درمیان ایسا اختلاف ہو جائے کہ ساتھ رہنا دشوار ہو کر نکاح کا مقصد فوت ہو جائے، ایسے حالات پیدا ہونے پر میں اپنی بیوی مسماۃ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس کے والدین کے اطمینان کے لیے اپنے پورے ہوش و حواس اور بغیر نشہ اور کسی قسم کے دباؤ اور زبردستی کے بغیر اپنی پوری رضامندی و خوشی سے مندرجہ ذیل اقرار نامہ گواہوں کی موجود گی میں لکھ دیتا ہوں کہ مجھے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ویزا نہ ملنے یا ہمارے درمیان اختلاف کی وجہ سے نکاح کا مقصد فوت ہو جائے اور میری بیوی مسماۃ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کے والد مخلصانہ طور پر یہ محسوس کریں کہ اصلاح کی قرآنی تدابیر کے باوجود ہمارے درمیان رشتہ کے نباہ کی کوئی صورت باوجود ہر طرح کی سعی و کوشش کے ممکن نہیں اور علاحدگی کے سوا کوئی چارہ نہ ہو اور بیوی طلاق کا مطالبہ کرے تو میری طرف سے میرے خسر مسمیٰ ۔ ۔ ۔ ۔
میری بیوی مسماۃ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پر ایک طلاقِ بائن واقع کر کے میرے نکاح سے الگ کر دے ۔
دستخط: ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(
۱
) گواہ: ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(
۲
) گواہ: ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم

AGREEMENT

I, reside in: Province:,City: ,Town: My nikaah was performed with , daughter of , with as my Mahr, in the presence of a number of people. It was agreed that would come to stay with me as my wife only after my reaching South Africa / U.K. Both the parties have started the procedure for my entry into South Africa / U.K., and I have trust in Allah that I will succeed. In case I fail to get an entry visa or leave to stay permanently in South Africa / U.K. , the said will be in a difficult situation. So for the satisfaction of , I am signing the following agreement in my full senses, willingly without any pressure or coercion.
The agreement is that, if I enter into Nikaah with , daughter of and thereafter fail to obtain an entry visa or leave to stay permanently in South Africa / U.K. in two years time, and if, father of, thinks it proper to exercise one Talaaq-e-Baain and free her from my Nikaah , he will have full right to do so. I accept this agreement, and after going through it and understanding it I put my signature here
Mr read the above agreement, willingly

accepted and signed it, in our presence. We are witnesses thereof:
1
2
فصل دوم
فسخ و تفریق کے بنیادی اصول کا بیان

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.