گم شدہ عورت کی اولاد کے نسب کا حکم:
Question
ایک شخص کسی کی عورت اغوا کر کے لے گیا اور طویل عرصہ سے اپنے پاس رکھا ہوا ہے، اور اس درمیان میں بچے بھی ہوے ہیں، لیکن اب تک خاوند نے طلاق نہیں دی ہے، ایسی صورت میں بچے کا نسب کس سے ثابت ہوگا؟
Answer
بصورتِ مسئولہ شخص مذکور کا اغوا کر کے غیر کی زوجہ سے منافع حاصل کرنا زنا ہے، اور زنا سے نسب ثابت نہیں ہوتا، لہذا بچوں کا نسب تو اصل شوہر ہی سے ثابت ہوگا ۔
ملاحظہ فرمائیں حدیث شریف میں ہے:
قال رسول الله ﷺ: "الولد للفراش وللعاهر الحجر". (رواه البخاري: ۲/۹۹۹، باب الولد للفراش وللعاهر الحجر).
در مختار میں ہے:
أن الفراش على أربع مراتب وقد اكتفوا بقيام الفراش بلا دخول
وفي الشامية: قوله على أربع مراتب
وقوي وهو فراش المنكوحة ومعتدة الرجعي فإنه فيه لا ينتفي إلا باللعان. (الدر المختار مع الشامي: ۳/۵۵۰، فصل في ثبوت النسب، ط: سعيد. و۳/٦۹٤، باب الاستيلاد، سعيد).
فتاوی ہندیہ میں ہے:
أما أن قال: إنه مني من الزنا فلا يثبت نسبه ولا يرث منه كذا في الينابيع. (الفتاوى الهندية: ۱/۵٤۰، باب ثبوت النسب).
مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۱۱/۳۲، مدلل مکمل ۔ و فتاوی حقانیہ: ٤/۵٦۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1632
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1632