لڑکا سات سال کے بعد والد کے پاس رہے گا:
Question
لڑکا سات سال تک والدہ کے پاس رہے گا، تو اس درمیان میں اگر والد ملنا چاہے تو مل سکتا ہے یا نہیں؟ نیز سات سال کے بعد کس کے پاس رہے گا، والد اس کو لے سکتا ہے یا نہیں؟
Answer
لڑکا سات سال تک والدہ کے پاس رہے گا، یہ والدہ کا حق ہے، اور اس درمیان والد اور اس کے خاندان والے بچے سے مل سکتے ہیں، اور آسانی کے لئے دونوں خاندان والوں کو مل کر اوقات و ایام آپس میں طے کر لینا چاہیے تاکہ اختلافی شکل رونما نہ ہو ۔ اور سات سال کے بعد والد کا حق ثابت ہو جاتا ہے، ہاں والد کا رویہ ٹھیک نہ ہو اور پہلے سے لا پروائی کرتا ہو، نیز دوسری شادی کر لی ہو اور اس کی بھی اولاد ہو تو پھر بظاہر دوسری بیوی سے اذیت کا اندیشہ ہوگا، اور اس بچے کی تربیت اور شفقت مشکوک ہو گی، اس وجہ سے والد بچہ کو چھین نہیں سکتا، لیکن اگر وہ بچے کی صحیح اسلامی تربیت کرنے پر راضی ہے اور وہ چاہتا بھی ہے تو پھر اس صورت میں سات سال کے بعد بچہ والد کو دیا جائے گا، اور لڑکی ہو تو نو سال کے بعد والد اس کو لے سکتا ہے ۔ اور بعض علماء نے بلوغ تک والدہ کا حق بتلایا ہے ۔
در مختار میں ہے:
والحاضنة أحق به أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع، وبه يفتي، لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه فإن أكل وشرب ولبس واستنجي وحده دفع إليه ولو جبراً وإلا لا. وفي الشامية: (قوله حتى يستغني عن النساء) بأن يأكل ويشرب ويستنجي وحده والمراد بالاستنجاء تمام الطهارة بأن يتطهر بالماء بلا معين. (قوله وقدر بسبع) هو قريب من الأول بل عينه، لأنه حينئذ يستنجي وحده، ألا تري إلى ما يروي عنه ﷺ أنه قال: "مروا صبيانكم بالصلاة إذا بلغوا سبعا". (قوله ولو جبراً) أي بأن لم يأخذه بعد الاستغناء أجبر عليه كما في الملتقي. وفي الفتح: ويجبر الأب على أخذ الولد بعد استغنائه عن الأم، لأن نفقته وصيانته عليه بالإجماع. وفي شرح المجمع: وإذا استغني الغلام عن الخدمة أجبر الأب أو الوصي أو الولي على أخذه، لأنه أقدر على تأديبه وتعليمه. (الدر المختار مع الشامي ۳/۵٦٦، سعيد).
عالمگیری میں ہے:
وبعد ما استغني الغلام وبلغت الجارية فالعصبة أولي، يقدم الأقرب فالأقرب. كذا في فتاوى قاضي خان. (الفتاوى الهندية: ۱/۵٤۲. وكذا في فتاوى الشامي: ۳/۵٦٦، باب الحضانة، سعيد).
تبیین الحقائق میں ہے:
وإنما كان للأب أن يأخذه إذا بلغ هذا الحد، لأنه يحتاج إلى التأدب والتخلق بأخلاق الرجال وآدابهم، والأب أقدر على التأديب والتثقيف. (تبيين الحقائق: ۳/٤۸، إمدادية).
شامی میں ہے:
ينبغي للمفتي أن يكو ن ذا بصيرة ليراعي الأصلح للولد، فإنه قد يكون له قريب مبغض يتمني موته ويكون زوج أمه مشفقاً عليه يعز عليه فراقه، فيريد قريبه أخذه منها ليؤذيه ويؤذيها أو ليأكل من نفقته أو نحو ذلك، وقد يكون له زوجة تؤذيه أضعاف ما يؤذيه زوج أمه الأجنبي، وقد يكون له أولاد يخشى على البنت منهم الفتنة لسكناها معهم، فإذا علم المفتي أو القاضي شيئاً من ذلك لا يحل له نزعه من أمه، لأن مدار أمر الحضانة على نفع الولد. (فتاوى الشامي: ۳/۵٦۵، باب الحضانة، سعيد. وكذا في مجمع الأنهر شرح ملتقي الأبحر: ۱/٤۸۰. والبحر الرائق: ٤/۱٦۷).
فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:
وفي الحاوي: الولد متي كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعاهده. (الفتاوى التاتارخانية: ٤/۹۰، حكم الولد عند افتراق الزوجين. ومثله في الفتاوى الهندية: ۱/۵٤۳، باب الحضانة).
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
پرورش کے زمانے میں باپ اگر اپنی اولاد سے ملنا چاہے تو ملنے کا موقع دینا چاہیے، اسی کی اولاد ہے، ملاقات کا موقع نہ دینا ظلم ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ مرتب، ۸/٤۵۸ باب الحضانت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1637
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1637