سات سال کے بعد اختیار دینے کا حکم:
Question
زوجین کی تفریق کے بعد جب بچہ سات سال کی عمر کو پہنچ جائے تو والد کے حوالہ کیا جاتا ہے، لیکن کیا بچے کو یہ حق حاصل ہے کہ از خود اختیار کرے کہ کس کے پاس رہنا ہے، یا ضروری ہے کہ والد کے پاس ہی رہے؟
Answer
بصورتِ مسئولہ سات سال کے بعد حقِ حضانت میں بچہ کو اختیار نہیں ہے، بلکہ والد صاحب اس کے زیادہ حقدار ہے تعلیم و تربیت کے لحاظ سے، ہاں اگر مفتی یا قاضی ماں کے پاس رکھنے میں کوئی مصلحت دیکھے تو ان کی صواب دید پر بچہ ماں کے پاس رہ سکتا ہے ۔
فتاوی شامی میں ہے:
(ولا خيار للولد عندنا مطلقاً، ذكراً كان أو أنثي) أي إذا بلغ السن الذي ينزع من الأم يأخذه الأب، ولا خيار للصغير، لأنه لقصور عقله يختار من عنده اللعب، وقد صح أن الصحابة رضي الله تعالى عنهم لم يخيروا. وأما حديث أنه ﷺ خير فلكونه قال: "اللهم اهده، فوفق لاختيار الأنظر بدعائه عليه الصلاة والسلام. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ۳/۵٦۷، باب الحضانة، سعيد).
مزید ملاحظہ فرمائیں: (البحر الرائق: ٤/۱۷۱، کوئتہ ۔ و فتح القدیر: ٤/۳۷۳، باب الولد من أحق بہ، دار الفکر ۔ و شرح العنایۃ علی الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر: ٤/۳۷۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1639
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1639