والد کے روزانہ ملاقات کرنے اور ملاقات کا موقع نہ دینے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 4 #181Urdu

Question

زوجین کی تفریق کے بعد بچہ بحکمِ شرع والدہ کے پاس پر ورش پاتا ہے، اس درمیان میں والد کو دیکھنے کا اختیار ہے یا نہیں، اگر والدہ روکنا چاہے تو اس کو حق ہے یا نہیں، نیز روزانہ ملنے کا کیا حکم ہے؟

Answer

بصورتِ مسئولہ پر ورش کے دوران بچہ اگر چہ والدہ کے پاس ہو، والد صاحب کو دیکھنے اور ملاقات سے روکنا ظلم ہے، لہذا ملاقات کے لئے وقت دینا چاہیے، اور ایام و اوقات آپس میں طے کر لیں ۔ بلکہ والد اگر روزانہ ملنا چاہے تو روزانہ بھی مل سکتا ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں فتاوی عالمگیری میں ہے:

الولد متي كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعاهده كذا في التتارخانية ناقلاً عن الحاوي. (الفتاوى الهندية: ۱/۵٤۳. والفتاوى التاتارخانية ٤/۹۰، حكم الولد عند افتراق الزوجين).

فقیہ ابو اللیث رحمه الله "
خزانة الفقه"
میں فرماتے ہیں کہ جب باپ کے لئے ممکن ہو تو روزانہ اپنے بچے سے ملاقات کر سکتا ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں "
خزانة الفقه"
میں ہے:

والمطلقة البائنة خرجت بولدها إلى موضع يقدر الزوج أن يزور ولده في يومه لها ذلك، وإن خرجت إلى موضع لم يقدر الزوج أن يزوره في يومه لم يجز. (خزانة الفقه، باب المقادير، ما زاد على يوم واحد، ص ۳۲٤، المكتبة الغفورية العاصمية. والبحر الرائق مع الحاشية: ٤/۱۷۳).

اس عبارت سے معلوم ہوا کہ باپ بچے سے روزانہ مل سکتا ہے، اور عرفاً کچھ وقت اس کے ساتھ گزار سکتا ہے ۔
جامع احکام الصغار میں ہے:

إذا كان الغلام والجارية عند الأم فليس لها أن تمنع الأب من تعاهدهما، وإن صارا إلى الأب فليس له أن يمنع الأم من تعاهدهما والنظر إليهما. (جامع أحكام الصغار: ۱/۱۰۱).

آپ کے مسائل میں ہے:
باپ اپنے بچے سے جب بھی چاہے ملاقات کر سکتا ہے، اور اس سے نہ ملنے دینا ظلم ہے جب کہ ان کو یہ خطرہ نہ ہو کہ باپ بچے کو لے جائے گا اور ماں سے جدا کر دیگا، اور اگر ایسا اندیشہ ہو تو اس کا تدارک کرنا چاہیے ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۵/٤۲۳) ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
پرورش کے زمانے میں باپ اگر اپنی اولاد سے ملنا چاہے تو ملنے کا موقع دینا چاہیے، اسی کی اولاد ہے، ملاقات کا موقع نہ دینا ظلم ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ مرتب: ۸/٤۵۸، باب الحضانت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.