مطلقہ حاملہ ناشزہ کے نفقہ و سکنی کا حکم:
Question
ایک حاملہ عورت اپنے گھر سے مئی سے بھاگ گئی، اگست میں شوہر نے ایک طلاق دے دی، اب مئی سے اگست تک اور اگست سے وضعِ حمل تک نفقہ، سکنی کی مستحق ہو گی یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ عورت بلا وجہ شوہر کے گھر سے بھاگنے کی وجہ سے ناشزہ کہلائی گی، اور ناشزہ نفقہ کی مستحق نہیں رہتی، لہذا اس عورت کا نفقہ مئی سے وضعِ حمل تک یعنی شوہر کے گھر سے نکلتے ہی ساقط ہو گیا ۔ ہاں اگست میں عدت شروع ہوئی تو ایامِ عدت میں صرف سکنی کی مستحق ہو گی، یعنی اگست سے وضعِ حمل تک سکنی کی مستحق ہو گی ۔
در مختار میں ہے:
لا نفقة لا حد عشر
وخارجة من بيته بغير حق، وهي الناشزة حتى تعود
فتاوی شامی میں ہے:
(قوله بغير حق) ذكر محترزه بقوله بخلاف ما لو خرجت الخ، وكذا هو احتراز عما لو خرجت حتى يدفع لها المهر. ولها الخروج في مواضع مرت في المهر. (قوله وهي الناشزة) أي بالمعنى الشرعي، أما في اللغة فهي العاصية على الزوج المبغضة له. (فتاوى الشامي: ۳/۵۷٦، باب النفقة، ط: سعيد).
فتاوی ہندیہ میں ہے:
وإن نشزت فلا نفقة لها حتى تعود إلى منزله، والناشزة هي الخارجة عن منزل زوجها، المانعة نفسها منه، بخلاف ما لو امتنعت عن التمكن في بيت الزوج، لأن الاحتباس قائم. (الفتاوى الهندية: ۱/۵٤۵، فصل في نفقة الزوجة).
شامی میں ہے:
(
قوله وتجب لمطلقة الرجعي والبائن) كان عليه إبدال المطلقة بالمعتدة، لأن النفقة تابعة للعدة
وفي المجتبى: نفقة العدة كنفقة النكاح. وفي الذخيرة: وتسقط بالنشوز وتعود بالعود، وأطلق فشمل الحامل وغيرها، والبائن بثلاث أو أقل، كما في الخانية
قال في البحر: فالحاصل أن الفرقة إما من قبله أومن قبلها، فلو من قبله فلها النفقة مطلقاً، سواء كانت بمعصية أولا، طلاقاً أو فسخاً، وإن كانت من قبلها فإن كانت بمعصية فلا نفقة لها، ولها السكنى في جميع الصور. (رد المحتار: ۳/٦۰۹، باب النفقة، ط: سعيد).
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر میں ہے:
الأصل أن الفرقة متي كانت من جهة الزوج فلها النفقة، وإن كانت من جهة المرأة إن كانت بحق لها النفقة، وإن كانت بمعصية لا نفقة لها. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۲/۲۷۱، ط: كوئته).
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
شوہر کے مکان میں عدت گزارنے میں کوئی شرعی قباحت نہیں ہے، پھر بھی عورت اپنے باپ کے یہاں عدت گزارنا چاہتی ہے تو عدت کے خرچہ کا مطالبہ نہیں کر سکتی، لیکن شوہر تبرعاً دے دے تو بہتر ہوگا ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۸/٤۳٤) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (احسن الفتاوی: ۵/٤٦٤، ٤٦۵ ۔ و امداد الاحکام: ۲/۸۸۳) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1647
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1647