میڈیکل وغیرہ شوہر کے ذمہ ہونے کا حکم:

7 min readFatwa Vol 4 #191Urdu

Question

کیا عورت کے میڈیکل اخراجات شوہر پر لازم ہیں یا نہیں؟ نیز اگر حاملہ ہے تو ہسپتال کے اخراجات کا کیا حکم ہے؟

Answer

بصورتِ مسئولہ دوا وغیرہ کا خرچہ، نیز علاج و معالجہ کے اخراجات وغیرہ دیانۃً شوہر کے ذمہ لازم اور واجب ہیں، اگر چہ قضاءً واجب نہیں ۔ نیز اس میں عرف کا اعتبار ہے، اور عام طور پر عرف میں بخوشی شوہر اس قسم کے اخراجات برداشت کرتا ہے، لہذا میڈیکل وغیرہ اخراجات بھی دینا چاہیے ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:

ولا يجب الدواء للمرض، ولا أجرة الطبيب، ولا الفصد، ولا الحجامة، كذا في السراج الوهاج. (الفتاوى الهندية: ۱/۵٤۹، فصل في نفقة الزوجة).

علامہ ابن نجیم مصری رحمه الله نے مجتبیٰ کے حوالے سے ذکر فرمایا ہے کہ نفقہ میں عرف و عادت کا بڑا دخل ہے، یعنی عرف پر اس کا مدار ہے، عرفاً جو چیزیں دی جاتی ہیں، ان چیزوں کا دینا ضروری اور لازم ہے ۔ اور علاج و معالجہ عرف میں شوہر برداشت کرتا ہے ۔
ملاحظہ ہو البحر الرائق میں ہے:

وفي المجتبى: أن ذلك يختلف باختلاف الأماكن والعادات، فيجب على القاضي اعتبار الكفاية بالمعروف في كل وقت ومكان. (البحر الرائق: ٤/۱۷۷، باب النفقة. ط: كوئته).

اسلامی فقہ میں ہے:
بعض فقہاء نے لکھا ہے کہ دوا، علاج کا خرچ شوہر کے ذمہ واجب نہیں ہے، بلکہ اس کے اوپر صرف نان و نفقہ واجب ہے، اگر وہ دوا علاج کرتا ہے تو یہ اس کا احسان ہے ۔ اس مسئلہ میں راقم کی رائے یہ ہے کہ دوا علاج وغیرہ خاص طور پر اس زمانے میں انسان کی اس سے کم بنیادی ضرورت نہیں ہے جیسے کہ تیل، کنگھی اور صابن وغیرہ ہے ۔ جب عورت کے جسم کی صحت و صفائی کے لئے ان چیزوں کے فراہم کرنے کو فقہاء نے واجب لکھا ہے، تو پھر دوا علاج کیوں نہ واجب ہو؟ پھر فقہاء یہ بھی لکھتے ہیں کہ بالغ لڑکوں کا نفقہ باپ پر واجب نہیں ہے، لیکن اگر کوئی بالغ لڑکا بیمار پڑ جائے تو اس کا نان نفقہ باپ پر ضروری ہو جاتا ہے، اور پھر یہ تو لڑکا ہے ۔ فقہاء نے مضارب کے بارے میں لکھا ہے کہ اس کو علاج کا خرچ بھی ملے گا، کیوں کہ بغیر اس کے مضارب کا کام وہ نہیں کر سکتا، تو عورت سے جو فوائد متعلق ہیں، ان کا لحاظ کر کے اس کے دوا علاج کا خرچ مرد پر ضروری کیوں نہ قرار دیا جائے ۔ اگر عورت اس کا بار خود شوہر پر نہ ڈالے تو یہ عورت کا احسان کیوں نہ سمجھا جائے ۔ اس کے علاوہ مرض کی اور اس کے دوا علاج کی اہمیت خود نبی کریم ﷺ کے پاک ارشاد سے معلوم ہوتی ہے، اس کی روشنی میں بھی یہ عورت کا ضروری حق قرار دیا جانا چاہیے ۔
ملاحظہ فرمائیں فتاوی ہندیہ میں ہے:

ويجب لها ما تنظف به وتزيل الوسخ كالمشط والدهن، وما تغسل به الرأس من السدر والخطمي، وما تزيل به الدرن كالأشنان والصابون على عادة أهل البلد. (الفتاوى الهندية: ۱/۵٤۹).
ولا يجب على الأب نفقة الذكور الكبار إلا أن يكون الولد عاجزاً عن الكسب لزمانة أو مرض، ومن يقدر على العمل لكنه لا يحسن العمل فإنه بمنزلة العاجز. كذا في فتاوى قاضيخان. (الفتاوى الهندية: ۱/۵٦۳، فصل في نفقة الأولاد).

اسی طرح بچہ جننے کے وقت دائی وغیرہ کی فیس کے بارے میں فقہاء نے لکھا ہے کہ اس کو وہ برداشت کرے گا جو اس کو بلائے گا، یعنی بیوی خود بلائے گی تو وہی برداشت کرے گی، اور اگر شوہر بلائے گا تو وہی برداشت کرے گا ۔ راقم کے ناقص خیال میں وہ بھی ہر حال میں مرد ہی کی ذمہ داری ہونی چاہیے، کیوں کہ جب بچہ اس کا ہے، جب اسی پر اس کے دودھ پلوانے کی اجرت اور اس کا نفقہ واجب ہے، تو پھر ولادت کے وقت کے تمام اخراجات اس پر کیوں نہ واجب ہوں، جب کہ یہ ایسا نازک موقع ہوتا ہے کہ اس وقت کی ذرا سی بے احتیاطی سے زچہ اور بچہ دونوں کی جان خطرے میں پڑ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے، در مختار کے اس جزئیہ پر ابن عابدین نے جو لکھا ہے، اوپر لکھی گئی تمام صورتوں پر اس کا اطلاق کرنا چاہیے ۔
"ويظهر لي ترجيح الأول، لأن نفع القابلة معظمه يعود إلي الولد، فيكون علي أبيه"
۔
(رد المحتار: ۳/۸۹۳. ط: سعيد).

اس لئے کہ بیوی کے دوا علاج کا سارا فائدہ شوہر کو پہونچے گا ۔
پھر یہ کتنی تکلیف دہ بات ہو گی کہ ہم اس کی صحت کی حالت میں اس سے فائدہ اٹھائیں، اور دوا علاج کے لئے اسے بے سہارا چھوڑ دیں، یا اس کے والدین کے سر ذمہ داری ڈال دیں ۔ فقہاء نے جس زمانے میں یہ رائے دی تھی، اس زمانے میں نہ تو اتنے پیچیدہ امراض پیدا ہوے تھے، اور نہ دوا علاج ضروریاتِ زندگی میں داخل ہوا تھا، اس لئے شرعی مسئلہ کا تعلق عرف و حالات سے ہے، ظاہر ہے کہ اس وقت حالات بدل چکے ہیں ۔ (اسلامی فقہ: ۲/۱۱۸، ۱۱۹) ۔

وفي الدر المختار: وفيه أجرة القابلة على من استأجرها من زوجة وزوج. ولو جاءت بلا استئجار قيل: عليه، وقيل: عليها. وفي الشامية: (قوله: قيل عليه) عبارة البحر عن الخلاصة: فلقائل أن يقول: عليه لأنه مؤنة الجماع

ويظهر لي ترجيح الأول، لأن نفع القابلة معظمه يعود إلى الولد، فيكون على أبيه. تأمل. (الدر المختار مع رد المحتار ۳/۵۷۹، باب النفقة، ط: سعيد).
قال الدكتور وهبة الزحيلي في كتابه "الفقه الإسلامي وأدلته": ويظهر لدي أن المداواة لم تكن في الماضي حاجة أساسية، فلا يحتاج الإنسان غالباً إلى العلاج، لأنه يلتزم قواعد الصحة والوقاية، فاجتهاد الفقهاء مبني على عرف قائم في عصرهم. أما الآن فقد أصبحت الحاجة إلى العلاج كالحاجة إلى الطعام والغذاء، بل أهم، لأن المريض يفضل غالباً ما يتداوى به على كل شيء، وهل يمكنه تناول الطعام وهو يشكو ويتوجع من الآلام والأوجاع التي تبرح به وتجهده وتهدده بالموت؟ لذا فإنا نري وجوب نفقة الدواء على الزوج كغيرها من النفقات الضرورية، وكما تجب على الوالد نفقة الدواء اللازم للولد بالإجماع، وهل من حسن العشرة أن يستمتع الزوج بزوجته حال الصحة، ثم يردها إلى أهلها لمعالجتها حال المرض؟! (الفقه الإسلامي وأدلته ۷/۷۹٤، نفقات العلاج، ط: دار الفكر).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.