وضع حمل کے اخراجات شوہر کے ذمہ ہونے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 4 #218Urdu

Question

فقہاء نے لکھا ہے کہ بیوی کا علاج شوہر کے ذمہ نہیں ہے، لیکن وضع حمل کے وقت کے اخراجات جو عورت کا صرف ذاتی فعل نہیں ہے بلکہ شوہر بھی اس میں شریک ہے اس کا کیا حکم ہے؟

Answer

بصورت مسئولہ یہ بات محقق نہیں ہے کہ بیوی کا علاج شوہر کے ذمہ نہیں ہے، فقہاء نے اپنے عرف و عادت کی بنا پر تحریر فرمایا تھا، چونکہ ان کے زمانہ میں یہ اساسی ضرورت نہیں سمجھی جاتی تھی، لیکن موجودہ حالات و عرف کو دیکھتے ہوے علاج و معالجہ اساسی ضرورت بن چکا ہے، لہذا شوہر کے ذمہ ہونا چاہیے جس کی کچھ تفصیل "باب النفقات" کے تحت گزر چکی ہے ۔
رہی یہ بات کہ حمل اور وضع حمل کے اخراجات تو اس کے بارے میں بھی فقہاء نے تحریر فرمایا ہے کہ اگر شوہر دایہ کو بلائے تو شوہر برداشت کرے، اور عورت بلائے تو عورت برداشت کرے، اور اگر دایہ از خود آئی ہو تو بعض کے نزدیک شوہر، اور بعض کے نزدیک عورت برداشت کرے، لیکن علامہ شامی رحمه الله نے ترجیح اس بات کو دی ہے کہ شوہر ہی برداشت کرے، کیوں کہ اکثر فائدہ بچہ کا ہے اور بچہ کا نفقہ وغیرہ باپ کے ذمہ ہے ۔
لیکن اس زمانہ میں وضع حمل کے اخراجات بھی اساسی ضرورت بن گئے ہیں، لہذا بہر صورت یہ تمام اخراجات شوہر برداشت کرے گا، بایں ہمہ عورت کو شوہر کی حالت پر نظر رکھتے ہوے فیصلہ کرنا چاہیے، ہاں اگر شوہر کی مالی حالت زیادہ خوشحال نہ ہو اور عورت خوشحال گھرانہ کی ہو اور اس کے والدین بخوشی برداشت کر لیں تو کوئی حرج نہیں، بلکہ قابل صد ستائش ہے ۔
در مختار میں ہے:

وفيه أجرة القابلة على من استأجرها من زوجة وزوج ولو جاء ت بلا استئجار قيل عليه وقيل عليها. وفي الشامي: قوله قيل عليه عبارة البحر من الخلاصة: فلقائل أن يقول عليه لأنه مؤنة الجماع ولقائل أن يقول عليها كأجرة الطبيب وكذا ذكر غيره ومقتضاه أنه قياس ذو وجهين لم يجزم أحد من المشايخ بأحدهما خلاف ما يفهمه كلام الشارح ويظهر لي ترجيح الأول لأن نفع القابلة معظمه يعود إلى الولد فيكون على أبيه تأمل. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ۳/۵۸۰، باب النفقات. وكذا في البحر الرائق: ٤/۱۷۷، وفتح القدير: ٤/۳۸۷، ط: دار الفكر).

تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (اسلامی فقہ: ۲/۱۱۹) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.