عورت کے ذمہ گھریلو کام کاج کا حکم:

5 min readFatwa Vol 4 #217Urdu

Question

کیا عورت کے ذمہ گھر کا کام کاج لازم ہے یا نہیں؟

Answer

اگر عورت کا تعلق ایسے خاندان سے ہے جس میں گھر کا کام کاج عورتیں خود نہیں کرتی ہیں یا کسی عذر مثلاً بیماری وغیرہ کی وجہ سے گھر کا کام کاج کرنا مشکل ہے تو عورت پر کام کرنا لازم اور ضروری نہیں ہے، لیکن اگر خاندان کی عورتیں گھر کا کام کرتی ہیں یا شوہر کی آمدنی میں اتنی گنجائش نہیں ہے کہ ملازم رکھے تو عورت پر گھریلو کام کاج دیانۃً لازم ہے، ہمارے معاشرے (جنوبی افریقہ) میں عورتیں صفائی کے علاوہ عموماً گھر کا کام کاج کھانا وغیرہ پکاتی ہیں، لہذا یہاں کی عورتوں پر شرعاً شوہر اور بچوں کی خدمت اور کھانا وغیرہ پکانا لازم ہے، إلا یہ کہ آپس کی رضا مندی سے نہ پکائے ۔
ملاحظہ فرمائیں اسلامی فقہ میں ہے:
اگر عورت ایسے گھر کی ہے جہاں لوگ اپنے ہاتھ سے کام کاج نہیں کرتے بلکہ نوکر چآ کر کرتے ہیں، یا عورت اتنی کمزور یا مریض ہے جس کی وجہ سے اس سے گھر کا کام کاج نہیں ہوتا تو شوہر ایسی عورت کو کام کاج پر مجبور نہیں کر سکتا، بلکہ اس کو بغیر کام کیے ہوے بٹھا کر روٹی کپڑا دینا پڑے گا، اگر ایسی عورت اپنے ذاتی کام کے لئے یا گھر کے کام کاج کے لئے ملازم کا مطالبہ کرے تو شوہر اگر خوش حال ہے تو اس کو ملازم رکھنا پڑے گا، اور ایک ملازم کا خرچ اس کو دینا پڑے گا، لیکن اگر شوہر کی آمدنی میں اتنی گنجائش نہیں ہے کہ وہ ملازم رکھ سکے، یا وہ عورت جو اپنے میکے میں اپنے ہاتھ سے کام کاج کرتی تھی تو پھر عورت کو شوہر کے گھر کے اندر بھی کام کاج خود اپنے ہاتھ سے کرنا پڑے گا، اور مرد کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ باہر کا کام خود کرے ۔ مثلاً سودا سلف، جنس، لکڑی، اور پانی وغیرہ گھر میں لادے، اگر مرد یہ چیزیں فراہم نہیں کرے تو عورت پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ۔
بعض علمائے فقہ نے لکھا ہے کہ کپڑے کی دھلائی مرد کے اوپر واجب نہیں ہے بلکہ اس کو صرف پانی اور صابون فراہم کر دینا ضروری ہے، عورت اپنے ہاتھ سے اپنا کپڑا دھو لے اگر مرد دھلائی دیتا ہے تو یہ اس کا احسان ہے، یعنی یہ عورت کا قانونی حق نہیں ہے، لیکن یہ اس وقت ہے جب کہ عورت اپنے گھر اس کی عادی ہو یا مرد صاحب استطاعت نہ ہونے کے باوجود دیتا ہو، ورنہ جب مرد میں استطاعت ہو یا عورت اس کام کی عادی نہ ہو تو کپڑے کی دھلائی بطور حق ملنا چاہیے، جب خادم مل سکتا ہے تو صحت و صفائی کی دوسری چیزیں بطور استحقاق کیوں نہیں مل سکتیں ۔
البتہ اگر عورت اس کا بار مرد پر نہ ڈالے تو یہ اس کا احسان ہے، اور اس تعلق کا تقاضا یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے صرف قانونی تعلق نہ رکھیں، بلکہ اخلاقی تعلق بھی رکھیں یعنی ایک دوسرے کی تکلیف و آرام کا خیال رکھیں ۔ (اسلامی فقہ: ۲/۱۱۷) ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:

وإن قالت: لا أطبخ ولا أخبز قال في الكتاب لا تجبر على الطبخ والخبز وعلى الزوج أن يأتيها بطعام مهيأ أو يأتيها بمن يكفيها عمل الطبخ والخبز، قال الفقيه أبو الليث رحمه الله تعالى: إن امتنعت المرأة عن الطبخ والخبز إنما يجب على الزوج أن يأتيها بطعام مهيأ إذا كانت من بنات الأشراف لا تخدم بنفسها في أهلها أو لم تكن من بنات الأشراف لكن بها علة تمنعها من الطبخ والخبز، أما إذا لم تكن كذلك فلا يجب على الزوج أن يأتيها بطعام مهيأ كذا في الظهيرية. قالوا إن هذه الأعمال واجبة عليها ديانة وإن كانت لا يجبرها القاضي كذا في البحر الرائق. (الفتاوى الهندية: ۱/۵٤۸، باب النفقة).

در مختار میں ہے:

أنه عليه الصلاة والسلام قسم الأعمال بين علي رضي الله تعالى عنه وفاطمة رضي الله تعالى عنها، فجعل أعمال الخارج على علي رضي الله تعالى عنه والداخل على فاطمة رضي الله تعالى عنها مع أنها سيدة نساء العالمين بحر. (الدر المختار: ۳/۵۷۹، باب النفقة، ط: سعيد).
وفي الطحطاوي: قوله قسم الأعمال أي أعمال المعيشة، قوله فجعل أعمال الخارج أي خارج البيت كإتيان الحطب والماء وتحصيل النفقة، قوله الداخل على فاطمة رضي الله تعالى عنها أي داخل البيت كالطحن والخبز والعجن. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۲/۲۵۵، كوئته، نفقه. وكذا في البحر الرائق: ٤/۱۸۳، باب النفقة، كوئته).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.