عضو تناسل کو منھ میں لینے کا حکم:
Question
کیا بیوی کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنے شوہر کا عضو تناسل کو منہ میں لے لے، یا شوہر کے لئے جائز ہے کہ وہ اس کے منہ میں دے دے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ اس فعل سے اجتناب کرنا چاہیے، منہ کھانے پینے، مباحات اور ذکر اللہ کے لئے ہے، آلہ تناسل کی جگہ نہیں ہے، نیز منہ میں لینے کے وقت مذی نکلنے کا قوی احتمال ہے جو نجس اور ناپاک ہے، لہذا یہ کام خلافِ فطرت اور مکروہ ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی ہندیہ میں ہے:
في النوازل: إذا أدخل الرجل ذكره في فم امرأته قد قيل يكره وقد قيل بخلافه كذا في الذخيرة. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۷۲).
احسن الفتاوی میں فتاوی ہندیہ کی عبارت کے بعد مرقوم ہے:
أقول: المبيح مجهول منكر، وقوله مردود شرعاً وعقلاً. (
احسن الفتاوی: ۸/٤۵) ۔
مباح کہنے والا مجہول اور قابل انکار ہے اور اس کا قول شرعاً اور عقلاً مردود ہے ۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
بے شک شرمگاہ کا ظاہری حصہ پاک ہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ ہر پاک چیز کو منہ لگایا جائے اور منہ میں لیا جائے اس کو چو ما جائے اور چاٹا جائے، ناک کی رطوبت پاک ہے تو کیا ناک کے اندرونی حصہ کو زبان لگانا، اس کی رطوبت کو منہ میں لینا پسندیدہ چیز (خصلت) ہو سکتی ہے؟ اور اس کی اجازت ہو سکتی ہے؟ مقعد (پا خانہ کا مقام) کا ظاہری حصہ بھی ناپاک نہیں، پاک ہے تو کیا اس کو چومنے کی اجازت ہو گی؟ نہیں ہرگز نہیں، اسی طرح عورت کی شرمگاہ کو چومنے اور زبان لگانے کی اجازت نہیں، سخت مکروہ اور گناہ ہے، کتوں، بکروں وغیرہ حیوانات کی خصلت کے مشابہ ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ٦/۲۷۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1684
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1684