بیوی کو چھوڑ کر سال میں جانے کا حکم:
Question
عام طور پر فارغ ہونے کی بعد تبلیغ میں سال لگاتے ہیں، چاہے شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ اگر شادی شدہ ہے تو بیوی بچوں کو چھوڑ کر سال لگانا جائز ہے یا نہیں؟ نیز بیوی کی رضا و عدم رضا سے کوئی فرق ہوگا یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ چار ماہ لگانا، یا سال لگانا، میاں بیوی کی رضامندی پر موقوف ہے، اکثر صورت حال یہ ہوتی ہے کہ شادی سے پہلے ہی جانبین سے طے کر لیا جاتا ہے کہ لڑکا شادی کے بعد فوراً سال میں جائے گا، اسی وجہ سے نکاح ہو جاتا ہے، رخصتی سال کے بعد ہوتی ہے ۔
ہاں اگر رخصتی ہو چکی ہے اور دونوں ساتھ رہنے لگے ہیں تو سال میں جانے کے لئے بیوی کی رضا مندی ضروری ہے ۔ لہذا بیوی راضی ہو اور فتنہ وغیرہ کا کوئی اندیشہ بھی نہ ہو تو سال لگانے میں کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ جانا بے حد مفید ہے ۔
علامہ حصکفی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ گاہے گاہے دیانۃً صحبت واجب ہے اور ایلاء کی مدت یعنی چار ماہ تک بغیر وطی و صحبت کے نہ گزارے مگر بیوی کی رضا مندی سے ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ۔
يجب ديانة أحياناً ولا يبلغ مدة الإيلاء إلا برضاها. (الدر المختار: ۳/۲۰۳، باب القسم).
فتاوی محمودیہ میں ہے:
اگر عورت کو تحمل ہے اور اس کی اجازت سے شوہر سال بھر میں ایک دفعہ گھر جاتا ہے تو ان شاء اللہ آثم نہیں ہوگا، ورنہ عدم ادائے حق کا مرتکب ہوگا، چار ماہ سے زیادہ باہر نہ رہے ۔ کذا في رد المحتار
. (
فتاوی محمودیہ:
۱۸
/
۵۹۲
، مبوب و مرتب) ۔
دوسری جگہ مرقوم ہے:
اگر عورت جو ان ہو تو اس کو چار ماہ سے زائد چھوڑنا نہیں چاہیے کہ فتنہ کا اندیشہ ہے، اگر صبر کر سکتی ہو اور فتنہ کا اندیشہ نہیں تو سال بھر میں بھی مضائقہ نہیں ۔ (فتاوی محمودیہ:
۱۸
/
۵۹۲
، مبوب و مرتب) ۔
نیز مرقوم ہے:
بیوی کا حق نان و نفقہ کے علاوہ کچھ اور بھی ہے اس کا کیا انتظام کیا ؟ اگر وہ جوان ہے اور جذبات پر قابو نہ پا سکی تو اس کا حق ضائع ہوگا، ہاں اگر اس کو قابو ہے اور اس نے بخوشی اتنی طویل مدت کی اجازت دے دی اور کسی معصیت کا خطرہ نہیں تو اجازت ہے، ورنہ چار ماہ میں ایک دفعہ اس کے پاس آ جایا کرے ۔ و یجب دیانۃ أحیاناً، و لا یبلغ مدۃ الإیلاء إلا برضاہا ۔ (فتاوی محمودیہ:
۱۸
/
۵۹٤
، مبوب و مرتب) ۔
علاوہ ازیں اس کی نظیر فقہاء کی عبارات سے ہم یہ پیش کر سکتے ہیں کہ عنین کی زوجہ کو فقہاء ایک سال کی مہلت دیتے ہیں، اور مفقود کی زوجہ کو چار سال کی، حالانکہ اس طویل مدت میں بھی تو فتنہ کا اندیشہ ہو سکتا ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1691
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1691