"آپ کے گھر آیا تو خنزیر" کہنے سے قسم کا حکم:

1 min readFatwa Vol 4 #247Urdu

Question

زید کا اپنے خسر اور ساس سے اختلاف چل رہا تھا، اسی درمیان میں اس نے قسم کھائی کہ اگر میں آپ کے گھر آیا تو میں خنزیر اور سور ہوں گا، اب اگر وہ ان کے گھر گیا تو قسم کا کفارہ ہے یا نہیں؟

Answer

بصورت مسئولہ قسم منعقد نہیں ہوئی لہذا خسر کے گھر جانے سے کچھ لازم نہیں ہو گا ۔
ملاحظہ ہو فتح القدیر میں ہے:

وكذا إن قال: إن فعلت كذا فهو زانٍ أو فاسق أو سارق أو شارب خمر أو آكل ربا، لا يكون يميناً أما أولاً فلأن معني اليمين أن يعلق ما يوجب امتناعه عن الفعل بسبب لزوم وجوده عند الفعل، وليس بمجرد وجود الفعل يصير زانياً أو سارقاً. (فتح القدير: ۵/۷۸، دار الفكر).

در مختار میں ہے:

وإن فعله فعليه غضب

أو هو زانٍ أو سارق أو شارب خمر أو آكل ربا لا يكون قسماً لعدم التعارف. (الدر المختار: ۳/۷۲۷، سعيد).

بہشتی زیور میں ہے:
اگر میں فلاں کام کروں تو کوڑھی ہو جاؤں ان باتوں سے قسم نہیں ہوتی، اس کے خلاف کرنے سے کفارہ نہ دینا پڑے گا ۔ (بہشتی زیور: ۲٦۷) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.