مطلق صدقہ کی نذر کا حکم:
Question
ایک آدمی کی بچی بیمار تھی، اس نے نذر میں یہ الفاظ کہے، کہ اگر میری بچی بیماری سے شفا یاب ہو گئی تومیں کچھ صدقہ کروں گا، اللہ تعالیٰ کے فضل سے بچی ٹھیک ہو گئی، اب اس آدمی پر کتنا صدقہ کرنا لازم ہے؟
Answer
بصورتِ مسئولہ شخصِ مذکور پر دس صدقۂ فطر کی مقدار قیمت یا اس کے برابر کوئی اور چیز صدقہ کرنا ضروری ہے، یعنی اگر گندم سے ادا کرے تو پانچ صاع یا اس کے برابر نقد یا کوئی دوسری چیز صدقہ کرنا واجب ہے ۔ خواہ ایک مسکین کو دے دے یا زیادہ کو بہر صورت نذر ادا ہو جائے گی ۔
نوٹ: ۵صاع کی مقدار جدید پیمانہ کے اعتبار سے تقریباً ۱٦کیلو گرام ہوتی ہے ۔
قال في الدر المختار: ولو نوى صياماً بلا عدد لزمه ثلاثة أيام ولو صدقة فإطعام عشرة مساكين كالفطرة، قال ابن عابدين: قوله ولو صدقة، أي بلا عدد (قوله كالفطرة) أي لكل مسكين نصف صاع بر. (الدر المختار مع فتاوى الشامي: ۳/۷٤۲، ط: سعيد).
قال العلامة الرافعي رحمه الله: قول الشارح فإطعام عشرة مساكين: لأن أقل ما أوجبه الله تعالى في كتابه من الصدقة عشرة مساكين، سندي. (التحرير المختار: ۳/۱٦، سعيد).
احسن الفتاوی میں ہے:
الفاظِ نذر میں صدقہ کی کوئی مقدار متعین نہیں کی گئی اس صورت میں اطعام عشرۃ مساکین واجب ہے، یعنی مقدار صدقۃ الفطر سے دس گناہ زیادہ گیہوں یا اس کی قیمت کے برابر نقدی یا کوئی دوسری چیز صدقہ کرنا واجب ہے، خواہ ایک مسکین کو دے یا متعدد کو بہر صورت نذر ادا ہو جائے گی ۔ (احسن الفتاوی: ۵/۴۸۴) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1731
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1731