اجارہ سے سقوط حد کا حکم:
Question
احناف پر اعتراض ہے کہ اگر کسی نے عورت کو زنا کے لیے اجارہ پر لیا تو مذہب احناف کے مطابق اس سے حد ساقط ہو جاتی ہے، حالانکہ صریح زنا سے حد کیسے ساقط ہو گی؟
Answer
بصورتِ مسئولہ حد زنا شبہہ فی المحل ہونے کی وجہ سے بحکم حدیث ساقط ہو گئی، نیز اجرت کے ساتھ کسی عورت کو جماع کے لیے لینا متعہ ہے اور متعہ اگر چہ حرام ہے لیکن بعض صحابۂ کرام کی طرف منسوب جواز کی وجہ سے دافع حد ہے، ہاں تعزیراً سخت سزا دی جائے گی ۔
احکام القرآن میں ہے:
﴿قوله فما استمتعم به منهن فأتوهن أجورهن﴾ فأوجب على الزوج كمال المهر، وقد سمي الله المهر أجراً في قوله: ﴿فانكحوهن بإذن أهلهن وآتوهن أجورهن﴾ فسمي المهر أجراً وكذلك الأجور المذكورة في هذه الآية هي المهور وإنما سمي المهر أجراً لأنه بدل المنافع وليس ببدل عن الأعيان كما سمي بدل منافع الدار والدابة أجراً وفي تسمية الله المهر أجراً دليل على صحة قول أبي حنيفة رحمه الله فيمن استأجر امرأة فزنا بها أنه لا حد عليه لأن الله تعالى قد سمي المهر أجراً فهو كمن قال: أمهرك كذا وقد روي نحوه عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه ومثل هذا يكون نكاحاً فاسداً لأنه بغير شهود. (أحكام القرآن للجصاص: ۲/۱٤٦).
فتح القدیر میں ہے:
ومن شبهة العقد ما إذا استأجرها ليزني بها ففعل لا حد عليه ويعزر وقال هما والشافعي رحمه الله ومالك وأحمد رحمه الله: يحد لأن عقد الإجارة لا يستباح به البضع فصار كما لو استأجرها للطبخ ونحوه من الأعمال ثم زني بها فإنه يحد اتفاقاً، وله أن المستوفي بالزنا المنفعة وهي المعقود عليه في الإجارة لكنه في حكم العين، فبالنظر إلى الحقيقة تكون محلاً لعقد الإجارة فأورث شبهة، بخلاف الاستئجار للطبخ ونحوه لأن العقد لم يضف إلى المستوفي بالوطئ والعقد المضاف إلى محل يورث الشبهة فيه لا في محل آخر. (فتح القدير: ۵/۲٦۲، دار الفكر. وكذا في البحر الرائق: ۵/۱۸، كوئته).
تبیین الحقائق میں ہے:
ولأبي حنيفة رحمه الله ما روي أن امرأة طلبت من رجل مالاً فأبي أن يعطيها حتى تمكنه من نفسها فدرأ عمر رضي الله عنه الحد عنهما وقال: هذا مهرها ولأن الله تعالى سمي المهر أجرة بقوله تعالى: ﴿فما استمتعم به منهن فآتوهن أجورهن فريضة﴾ فصار شبهة لأن الشبهة ما يشبه الحقيقة لا الحقيقة ألا تري أنه لو قال: أمهرتك كذا لا زني بك لم يجب الحد
ولأن المستوفي بالوطء منفعة حقيقة وإن كان في حكم العين شرعاً فاعتبار الحقيقة يقتضي أن يكون محلاً للإجارة فأورث شبهة. (تبيين الحقائق: ۳/۱۸٤، باب الوطء الذي، ملتان).
البتہ صاحبِ فتح القدیر علامہ ابن ہمام رحمه الله صاحبین رحمه الله کے قول کو ترجیح دیتے ہوے فرماتے ہیں کہ حد لازم ہو گی ۔
ملاحظہ ہو فتح القدیر میں ہے:
والحق في هذا كله وجوب الحد. (فتح القدير: ۵/۲٦۲، دار الفكر).
نیز فتاوی بینات میں بھی صاحبین کے قول پر فتویٰ نقل کیا ہے ۔
ملاحظہ ہو فتاوی بینات میں ہے:
اس مسئلہ میں فقہ حنفی کا فتویٰ صاحبین کے قول پر ہے اس پر حد لازم ہے ۔ (فتاویٰ بینات: ٤/٤۸۰) ۔
لیکن اس پر علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں کہ صاحبین رحمه الله کے قول کی ترجیح صرف صاحبِ فتح القدیر نے نقل فرمائی ہے، ورنہ اصحابِ متون و شراح نے امام صاحب رحمه الله کے قول کو اختیار فرمایا ہے ۔ اور علامہ سید احمد طحطاوی رحمه الله نے فرمایا کہ تعزیراً بہت سخت سزا دی جائے گی ۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:
قوله والحق وجوب الحد أي كما هو قولهما، وهذا بحث لصاحب الفتح، وسكت عليه في النهر والمتون والشروح على قول الإمام. (فتاوى الشامي: ٤/۲۹، باب الوطء الذي يوجب الحد، سعيد).
وفي الطحطاوي على الدر: وعلى قوله يعزران أشد التعزير، أبو السعود عن الحموي. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۲/۳۹۸، كوئته).
عام طور پر شراح نے امام ابو حنیفہ رحمه الله کے قول کی تائید میں دو دلیلیں پیش فرمائی ہیں ۔
(۱) حضرت عمر رضي الله عنه کا فیصلہ ۔
(۲) آیتِ کریمہ جس میں اللہ تعالیٰ نے مہر کو اجرت سے تعبیر فرمایا ہے ۔
حضرت عمر رضي الله عنه کے فیصلہ کے بارے میں فتاویٰ بینات میں مذکور ہے کہ یہ صحیح سند سے ثابت ہے، اور اور اجماع سکوتی کے درجہ میں ہے اس لیے کہ صحابہ کرام رضي الله عنهم کی موجود گی میں یہ فیصلہ ہوا اور کسی نے انکار نہیں فرمایا ۔
ملاحظہ فرمائیں فتاویٰ بینات میں ہے:
حضرت امام رحمه الله شبہ کی بنا پر حد کو ساقط کرتے ہیں (اور تعزیر کا حکم دیتے ہیں) ان کا استدلال حضرت عمر رضي الله عنه کے اثر سے ہے جس کو امام عبد الرزاق نے مصنف میں بایں الفاظ نقل کیا ہے:
أخبرنا ابن جريج ثني محمد بن الحارث بن سفيان عن أبي سلمة بن سفيان أن امرأة جاء ت عمر بن الخطاب رضي الله عنه فقالت: يا أمير المؤمنين! أقبلت أسوق غنماً فلقيني رجل فحفن لي حفنة من تمر، ثم حفن لي حفنة من تمر ثم حفن لي حفنة من تمر ثم أصابني، فقال عمر رضي الله عنه: قلت ماذا؟ فأعادت، فقال عمر بن الخطاب رضي الله عنه ويشير بيده: مهر، مهر، ويشير بيده كلما قال: ثم تركها. (المصنف لعبد الرزاق: ۷/٤۰۷/۱۳٦۵۳، باب الحد في الضرورة).
دوسری روایت نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
ان دونوں روایتوں کے راوی ثقہ ہیں، حافظ ابن حزم اندلسی رحمه الله نے یہ دونوں روایتیں المحلی میں ذکر کر کے ان پر جرح نہیں کی بلکہ مالکیوں اور شافعیوں کے خلاف ان کو بطورِ حجت پیش کیا ہے ۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
وأما المالكيون والشافعيون فعهدنا بهم يشنعون خلاف الصاحب الذي لا يعرف له مخالف
بل هم يعدون مثل هذا إجماعاً ويستدلون على ذلك بسكوت من الصحابة ث عن النكير لذلك. (المحلي بالآثار، كتاب الحدود، حكم المستأجرة للزني: ۱۲/۱۹٦، بيروت).
جب ان حضرات کا یہ اصول ہے تو حضرت عمر رضي الله عنه کے مندرجہ بالا واقعہ کو کیوں حجت نہیں سمجھتے؟ باوجود یہ کہ حضراتِ صحابہث میں سے کسی نے حضرت عمر رضي الله عنه پر نکیر نہیں فرمائی؟ ۔ (فتاوی بینات: ٤/٤۷۷ ۔ ٤۷۹، کتاب الحظر و الاباحۃ، مکتبہ بینات) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1747
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1747