تعزیر کی دوسری صورت تعزیر بإہلاک المال کا حکم:
Question
اگر غیر حاکم یا مدرسہ یا سرپرست کسی شخص کے اپنے آلاتِ موسیقی یا آلاتِ لہو و لعب کو توڑ دے جو موسیقی کے علاوہ میں بھی استعمال ہوتے ہوں جیسے ریڈیو، ٹیپ ریکارڈ وغیرہ تو ان پر تاوان آئے گا یا نہیں؟ حاکم اور غیر حاکم میں فرق ہے یا نہیں؟
Answer
آلاتِ موسیقی و آلاتِ لہو لعب کو کسی نے اپنی مرضی سے توڑا تو تاوان لازم ہوگا، اور اگر حاکم کے حکم کی وجہ سے کسی نے توڑا، یا خود حاکم نے توڑا تو تاوان لازم نہیں ہوگا، لیکن اجزاء غیر مرکبہ کا تاوان آئے گا ۔
البتہ اگر کسی ادارہ کا قانون یہ ہے کہ فلان قسم کی چیزوں کو مت رکھو اور پھر بھی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہو ئے اس کو رکھا گیا اور اس ادارہ کے سربراہ اور منتظمین حضرات نے اس کو توڑ دیا تو ان پر ضمان نہیں آئے گا، کیوں کہ وہ حضرات حاکم کی طرح ہیں، طلبہ اور ان کے سرپرستوں نے مدرسہ کے قوانین کی پابندی کو تسلیم کر کے مدرسہ کے مہتممین کو بمنزلہ حاکم تسلیم کر لیا ۔ قاعدہ:
"الحَكم كالقاضي"
۔
(قواعد الفقه: ۷۹).
کے تحت، نیز ان کے توڑنے میں فساد کا کوئی خاص خطرہ نہیں ہے، اور والد اور استاذ کو تعزیر دینے کا حق حاصل ہے، بچے کی پٹائی حدود میں رہ کر بھی تعزیر ہی ہے ۔ بلکہ بعد میں عینی اور لامع وغیرہ کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ غیر حاکم بھی تعزیر بالمال دے سکتا ہے ۔
ہمارے بعض اکابر کے طرزِ عمل سے بھی غیر حاکم کی تعزیر بالمال کی تائید ہوتی ہے، اکابر نے بعض مرتبہ کسی چیز پر اپنی ناراضگی ظاہر کرنے کے لیے اس کو چاک کر دیا ہے اگر چہ وہ کام فی نفسہ جائز تھا، لیکن اکابر رحمه الله کی مرضی کے خلاف تھا ۔ آپ بیتی میں مذکور ہے:
حضرت نور اللہ مرقدہ "حضرت مدنی رحمه الله" کو کھدر سے تو عشق تھا اور ولایتی کپڑے سے نفرت تھی یہ تو ساری دنیا کو معلوم ہے لیکن اس سیہ کار کے حال پر ایک مزید شفقت یہ تھی کہ میرے بدن پر جب بھی بدیسی کرتہ دیکھتے گریبان میں ہاتھ ڈال کر ایسے زور سے چاک فرماتے کہ نیچے تک وہ پھٹ جاتا تھا، حضرت قدس سرہ کی حیات تک ڈر کے مارے کھدر کا میرے یہاں بہت ہی اہتمام رہا ۔ (آپ بیتی حصہ چہار مص ٦٤) ۔
حضرت شیخ رحمه الله کو ابتداء میں ہدیہ لینے سے نفرت تھی، بعض ہدیہ دینے والوں کے نوٹ ایک دو پانچ دس کے پھاڑے بھی ہیں، ایک دوست حاجی جان محمد صاحب پشاوری ایک چائے کا ڈبا لائے حضرت شیخ نے پھاڑ کر زور سے دیوار میں دے کر مارا، وہ ساری چائے دور دور تک منتشر ہو گئی ۔ (آپ بیتی، حصہ چہارم، ص ۸۸) ۔
تعزیر بإہلاک المال کے دلائل ملاحظہ فرمائیں:
(۱) حضرت موسیٰ علی نبینا و علیہ الصلاۃ و السلام کے قصہ میں مذکور ہے کہ انہوں نے سامری کو جرم میں دو سزائیں دی، اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں بیان فرمایا: (۱)
﴿فإن لك في الحياة أن تقول لا مساس﴾. (سورة طه).
کہ زندگی بھر تو یہ کہا کرے گا کہ مجھے مت چھیڑو ۔ (۲)
﴿لنحرقنه ثم لننسفنه في اليم نسفاً﴾. (سورة طه، الآية: ۹۷).
کہ تو نے جو زیورات ڈال کر بچھڑا بنایا تھا، یا حقیقی بچھڑا تھا، اسے بھی ہم جلا کر دریا میں بکھیر دیں گے، چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے جلا کر سمندر میں ڈال دیا ۔
تفسیر ابن کثیر میں ہے:
قال الضحاك عن ابن عباس رضي الله عنه والسدي: سحله بالمبارد وألقاه على النار، وقال قتادة: استحال العجل من الذهب لحماً ودماً فحرقه بالنار، ثم ألقي رماده في البحر. (تفسير ابن كثير: ۳/۱۸۲. وتفسير عثماني: ٤۲٤).
خلاصہ یہ ہے کہ اس قصہ میں تعزیر بإہلاک المال کی دلیل موجود ہے ۔
(۲) منافقین نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف خبیث مقاصد کے تحت مسجد کے نام سے ایک مکان بنایا تھا، اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی منافقین کی ناپاک اغراض پر مطلع فرما دیا، چنانچہ آپ ﷺ نے مالک بن دخشم اور معن بن عدی کو حکم دیا کہ اس مکان کو (جس کا نام از راہِ خداع و فریب مسجد رکھا تھا) گرا کر پیوندِ زمین بنا دو، انہوں نے فوراً حکم کی تعمیل کی اور جلا کر خاک سیاہ کر دیا ۔ (تفسیر عثمانی، بتغییر یسیر) ۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا:
﴿والذين اتخذوا مسجد اً ضراراً وكفراً وتفريقاً بين المؤمنين وإرصاداً لما حارب الله ورسوله من قبل، وليحلفن إن أردنا إلا الحسني، والله يشهد إنهم لكذبون﴾. (سورة التوبة، الآية: ۱۰۷).
قصۂ بالا سے بھی معلوم ہوا کہ تعزیر بإہلاک المال جائز ہے ۔
احادیث مبارکہ سے دلائل ملاحظہ فرمائیں:
(۱) عن أبي رافع بن خديج رضي الله عنه قال: كنا مع رسول الله ﷺ بذي الحليفة من تهامة فأصبنا غنماً وإبلاً، فعجل القوم فأغلوا بها القدور فأمر بها فكفئت
(رواه مسلم: ۲/۱۵۷، كتاب الأضاحي).
حدیثِ مذکورہ بالا کی شرح میں علامہ نووی رحمه الله فرماتے ہیں:
وقال المهلب بن أبي صفرة المالكي رحمه الله: إنما أمروا بإكفاء القدور عقوبة لهم لاستعجالهم في السير وتركهم النبي ﷺ في أخريات القوم. (شرح النووي رحمه الله: ۲/۱۵۷، كتاب الأضاحي)
اس قصہ میں آنحضرت ﷺ نے بحیثیت حاکم ہانڈیاں الٹ دینے کا حکم فرمایا ۔
(۲) عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنه قال: رأي النبي ﷺ على ثوبين معصفرين، فقال: أمك أمرتك بهذا؟ قلت: اغسلهما؟ قال: لا، بل أحرقهما. (رواه مسلم: ۲/۱۹۳، باب النهي عن لبس الرجل الثوب المعصفر).
علامہ نووی رحمه الله فرماتے ہیں:
وأما الأمر بإحراقهما، فقيل: هو عقوبة وتغليظ لزجره وزجر غيره عن مثل هذا الفعل. (الشرح الكامل للإمام النووي رحمه الله: ۲/۱۹۳).
(۳) عن عمران بن حصين رضي الله عنه قال: بينما رسول الله ﷺ في بعض أسفاره وامرأة من الأنصار على ناقة فضجرت، فلعنتها فسمع ذلك رسول الله ﷺ، فقال: خذوا ما عليها ودعوها فإنها ملعونة. (رواه مسلم: ۲/۳۲۳).
اس قصہ میں بطورِ تنبیہ کے ناقہ کو چھوڑ دینے کا حکم فرمایا ۔
قال النووي رحمه الله: إنما قال هذا زجراً لها ولغيرها، وكان قد سبق نهيها ونهي غيرها عن اللعن، فعوقبت بإرسال الناقة. (شرح النووي على مسلم: ۲/۳۲۳).
(٤) عن سالم أنه سئل عن الغال في الغنيمة، فقال: سمعت أبي يحدث عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: إذا وجدتم الرجل قد غل فاحرقوا متاعه واضربوه. (رواه أبو داود: ۲/۳۷۱. والترمذي: ۱/۲۷۰).
اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے مال غنیمت میں چوری کرنے والے کے بارے میں فرمایا: اس کے سامان کو جلا دو اور اس کی پٹائی کرو ۔
(۵) عن أنس رضي الله عنه عن أبي طلحة رضي الله عنه أنه قال: يا نبي الله إني اشتريت خمراً لا يتام في حجري، قال: اهرق الخمر واكسر الدنان. رواه الترمذي، وقال: وفي الباب عن جابر وعائشة وأبي سعيد وابن مسعود رضي الله عنه وابن عمر. (۱/۲٤۲، باب ما جاء في بيع الخمر والنبي عن ذلك).
اس حدیث میں آنحضرت ﷺ نے شراب بہانے اور اس کے مٹکے توڑنے کا حکم فرمایا ۔
(٦) عن سلمة بن الأكوع رضي الله عنه قال: خرجنا مع رسول الله ﷺ إلى خيبر ثم أن الله فتحها عليهم فلما أمسي الناس اليوم الذي فتحت عليهم أوقدوا نيراناً كثيرة فقال رسول الله ﷺ: ما هذه النيران على أي شيء توقدون، قالوا: على لحم قال: على أي لحم، قالوا: على لحم حمر إنسية، فقال رسول الله ﷺ: اهريقوها واكسروها. (رواه مسلم: ۲/۱٤۹، باب تحريم اكل لحم الحمر الإنسية).
اس حدیث میں بھی گدھوں کے گوشت کو گرانے اور برتنوں کے توڑنے کا حکم فرمایا ۔
(۷) عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: لقد هممت أن آمر بالصلاة فتقام ثم أمر رجلاً فيصلي بالناس ثم انطلق معي برجال معهم حزم من حطب إلى قوم لا يشهدون الصلاة فأحرق عليهم بيوتهم بالنار. (رواه أبو داود: ۱/۸۱، كتاب الصلاة، باب التشديد في ترك الجماعة).
آنحضرت ﷺ نے اس حدیث شریف میں جماعت ترک کرنے والوں کے گھر جلا دینے کا ارادہ فرمایا، اگر چہ جلانا ثابت نہیں ہے، علامہ ابن القیم نے اس کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ گھروں میں بچے اور عورتیں بھی ہوتی ہیں تو سزا غیر مجرم تک متعدی ہو گی اور یہ جائز نہیں ہے ۔
قال ابن القيم رحمه الله: لولا ما منعه من إنفاذه ما عزم عليه من كون الذرية والنساء فيها فتتعدي العقوبة إلى غير الجاني وذلك لا يجوز كما لا يجوز عقوبة الحامل. (اعلام الموقعين: ۲/۱۱۷، فصل في تغريم المال، بيروت).
علامہ عینی رحمه الله فرماتے ہیں یہ (مذکورہ بالا) روایت تعزیر بالمال کے باب میں اصل اور بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے:
وقد هم الشارع بتحريق دور من يتخلف عن صلاة الجماعة، وهذا أصل في العقوبة في المال إذا رأي ذلك. (عمدة القاري: ۹/۲٤۳، باب هل تكسر الدنان التي فيها الخمر، ملتان).
نیز علامہ عینی رحمه الله نے فرمایا کہ تعزیر بإہلاک المال میں امام محمد رحمه الله کے نزدیک تاوان آئے گا اور امام ابو یوسف رحمه الله کے نزدیک تاوان نہیں آئے گا اور فتویٰ امام ابو یوسف رحمه الله کے قول پر ہے ۔ ملاحظہ ہو:
فإن كان زق الخمر لمسلم يضمن عند محمد رحمه الله
وعند أبي يوسف رحمه الله لا يضمن لأنه من جملة الأمر بالمعروف
والفتوي على قول أبي يوسف رحمه الله خصوصاً في هذا الزمان. (عمدة القاري: ۹/۲٤۲، باب هل تكسر الدنان التي فيها الخمر، ملتان).
حضرت شیخ رحمه الله نے بھی لامع الدراری کے حاشیہ میں علامہ عینی رحمه الله سے امام ابو یوسف رحمه الله کے قول پر فتویٰ نقل کیا ہے ۔
ملاحظہ ہو: (
حاشية لا مع الدراري: ۲/۳۹۱).
مزید براں علامہ عینی رحمه الله نے قولِ نسخ کو قیل سے نقل کر کے اس کے ضعف کی طرف اشارہ فرمایا ہے ۔ چنانچہ فرماتے ہیں:
وقيل هذا كان في صدر الأول ثم نسخ. (عمدة القاري: ۹/۲٤۲، باب هل تكسر الدنان التي فيها الخمر، ملتان).
(۸) عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رسول الله ﷺ وأبا بكر رضي الله عنه وعمر رضي الله عنه حرقوا متاع الغال وضربوه. (رواه أبو داود: ۲/۳۷۱، باب في عقوبة الغال).
علامہ ابن تیمیہ رحمه الله نے اپنے فتاوی میں چند آثار نقل کیے ہیں، ملاحظہ فرمائیں:
(۹) ومثل أمر عمر بن الخطاب رضي الله عنه وعلى بن أبي طالب رضي الله عنه بتحريق المكان الذي يباع فيه الخمر.
(۱۰) ومثل تحريق عثمان بن عفان رضي الله عنه المصاحف المخالفة للإمام.
(۱۱) وتحريق عمر بن الخطاب رضي الله عنه لكتب الأوائل.
(۱۲) وأمره (أي أمر عمر بن الخطاب رضي الله عنه) بتحريق قصر سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه الذي بناه لما أراد أن يحتجب عن الناس، فأرسل محمد بن مسلمة رضي الله عنه وأمره أن يحرقه عليه فذهب فحرقه عليه، وهذه القضايا كلها صحيحة معروفة عند أهل العلم بذلك ونظائرها متعددة. (مجموع فتاوى ابن تيمية: ۲۸/۱۱۰، فصل في التعزير بالعقوبات المالية).
الغرض ان تمام احادیث و آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ تعزیر بإہلاک المال بھی جائز اور درست ہے ۔
فقہی عبارات ملاحظہ فرمائیں:
قال في الدر المختار: وضمن بكسر معزف بكسر الميم آلة اللهو ولو لكافر، ابن كمال قيمته خشباً منحوتاً صالحاً لغير اللهو، وضمن القيمة لا المثل بإراقة سكر ومنصف
وقالا: لا يضمن ولا يصح بيعها، وعليه الفتوي، ملتقي ودرر وزيلعي وغيرها وأقره المصنف، وأما طبل الغزاة، زاد في حظر الخلاصة: والصيادين، والدف الذي يباح ضربه في العرس فمضمون اتفاقاً. وفي الشامية: (وقالا لا يضمن) هذا الاختلاف في الضمان دون إباحة إتلاف المعازف، وفيما يصلح لعمل آخر وإلا لم يضمن اتفاقاً، وفيما إذا فعل بلا إذن الإمام، وإلا لم يضمن اتفاقاً
(الدر المختار: مع فتاوى الشامي: ٦/۲۱۲، سعيد).
ہدایہ میں ہے:
ومن كسر لمسلم بربطاً، أو طبلاً أو مزماراً أو دفاً
فهو ضامن
وهذا عند أبي حنيفة رحمه الله، وقال أبو يوسف رحمه الله ومحمد رحمه الله: لا يضمن
وقيل الفتوي في الضمان على قولهما
لهما أن هذه الأشياء أعدت للمعصية فبطل تقومها كالخمر، ولأنه فعل ما فعل آمراً بالمعروف وهو بأمر الشرع فلا يضمنه كما إذا فعل بإذن الإمام، ولأبي حنيفة رحمه الله أنها أموال لصلاحيتها لما يحل من وجوه الانتفاع وإن صلحت لما لا يحل فصار كالأمة المغنية، وهذا لأن الفساد بفعل فاعل مختار فلا يوجب سقوط التقوم. وجواز البيع والتضمين مرتبان على المالية والتقوم والأمر بالمعروف باليد إلى الأمراء لقدرتهم وباللسان إلى غيرهم، وتجب قيمتها غير صالحة للهو. (الهداية: ۳/۳۸۸، باب الغصب).
وفي الفتاوى الهندية: ويقال: الأمر بالمعروف باليد على الأمراء وباللسان على العلماء وبالقلب لعوام الناس وهو اختيار الزندويستي، كذا في الظهيرية. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۵۳).
تکملہ البحر الرائق میں ہے:
والفتوي في زماننا على قولهما لكثرة الفساد. (تكملة البحر الرائق: ۸/۱۲۵).
خلاصہ یہ ہے کہ حاکم یا جو حاکم کے قائم مقام ہو مثلاً اربابِ مدرسہ وغیرہ اگر کسی کی چیز توڑ دے قانون کی خلاف ورزی کی وجہ سے تو تاوان نہیں آئے گا، جیسے والد اور استاد اولاد و شاگرد کی سرزنش کر سکتے ہیں اسی طرح اربابِ مدرسہ بھی بمنزلہ والی کے ہیں ۔ ہاں ہر کس و نا کس کے لیے تعزیر کی اجازت نہیں ہے، ورنہ فتنہ و فساد پھیلنے کا اندیشہ ہے ۔
غیر امیر کے اتلاف کی ایک نظیر:
در مختار میں ہے:
وضمن المتلف المسلم قيمتهما أي الخمر والخنزير لأن الخمر في حقنا قيمي حكماً أي وإن كانت من ذوات الأمثال لوكانا لذمي والمتلف غير الإمام أو مأموره يري ذلك عقوبة فلا يضمن بأن كان مجتهداً أو مقلداً لمجتهد يراه. (الدر المختار مع الشامي: ٦/۲۱۰، سعيد).
یاد رہے کہ یہاں ذمی کی خمر جس کو نہیں گرانا چاہیے غیر امیر بطورِ تعزیر تلف کر سکتا ہے ۔
اشکال: کسی کے مال کو ہلاک کرنے کے بارے میں اگر یہ اشکال کیا جائے کہ رسول اللہ ﷺ نے مال ضائع کرنے سے منع فرمایا، بخاری شریف میں حدیث ہے:
قال رسول الله ﷺ: إن الله حرم عليكم عقوق الأمهات ووأد البنات ومنعاً وهات وكره لكم القيل والقال وكثرة السؤال وإضاعة المال. (رواه البخاري: ۱/۳۲٤).
اللہ تعالیٰ نے ماؤں کی نافرمانی اور لڑکیوں کو زندہ درگور کرنے اور قابل داد چیز کے نہ دینے اور ممنوع چیز مانگنے سے منع کیا ہے ۔ اور آپ کے لیے گپ شپ اور کثرت سوال اور مال ضائع کرنے کو مکروہ بتلایا ہے ۔
الجواب: اس کا جواب یہ ہے کہ مال ضائع کرنا وہ ہوتا ہے جس میں کوئی فائدہ اور مصلحت نہ ہو ۔ اور اس عمل میں تادیب و اصلاح کی مصلحت پائی جاتی ہے جیسے اگر کوئی بندوق کی گولیوں کو چلا کر نشانہ بازی سیکھتا ہے تو بظاہر گولیاں ضائع ہوئیں لیکن نشانہ بازی کے علم کا فائدہ ہوا، منطق و فلسفہ کا پڑھنا بظاہر وقت ضائع کرنا ہے لیکن اس سے استعداد کی پختگی آتی ہے اس لیے سب اکابر نے پڑھا تھا ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1764
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1764