کپڑا خراب کر دینے پر ضمان کا حکم:

1 min readFatwa Vol 4 #328Urdu

Question

کپڑے یا گاڑی کو رنگریز نے مطلوبہ رنگ کے ذریعہ رنگا مگر اس کو خراب کر دیا صحیح طور پر رنگ نہیں لگایا تو کیا ضمان آئے گا یا نہیں؟ اور وہ رنگریز اجر ت کا مستحق ہوگا یا نہیں؟

Answer

بصورت مسئولہ کپڑے کے مالک کو دو اختیار ہیں ایک یہ کہ پارچہ رنگریز کے پاس چھوڑ دے اور سفید کپڑے کی قیمت لے لے اور دوسرا یہ ہے کہ اسی کپڑے کو لے لے اور اجرت مثلی ادا کر دے لیکن مسمیٰ پر زیادہ نہیں کیا جائے گا ۔ گاڑی میں بھی اجر مثل دے کر اپنی گاڑی لے سکتا ہے ۔
عالمگیری میں ہے:

وإذا دفع ثوبا إلى صباغ ليصبغه بعصفر من عنده، فصبغه بما سمي إلا أنه خالف في صفته ما تعين به، فإن أشبع أو قصر في الإصباغ حتى تعيب الثوب، فصاحبه بالخيار إن شاء ترك الثوب عليه وضمنه قيمة ثوبه أبيض وإن شاء أخذ الثوب وأعطاه أجر مثل عمله لا يجاوز به المسمى. (الفتاوى الهندية: ٤/۵۲۱).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.