عمارتِ وقف کو منہدم کر کے از سرِ نو تعمیر کا حکم:
Question
ایک شخص نے زمین وقف کی جس پر عمارت تھی، اب کیا اس عمارت کو گرا کر دوسری عمارت بنانا واقف کی اجازت کے بغیر صحیح اور درست ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ جب زمین متولی کے حوالے کر دی اور متولی از راہِ مصلحت اس میں تبدیلی کرے یا دوسری عمارت بنا دے تو یہ صحیح اور درست ہے، اور عمارت گرانے کے بعد اس کی اینٹیں اور سامان پھر دوسری عمارت میں لگ جائے گا، اور صدقہ جاریہ برقرار رہے گا ۔
نیز عمارت گرانے سے اس کا صدقہ جاریہ ختم نہیں ہوتا جیسے وضو کا پانی پونچھنے سے وضو کا ثواب ختم نہیں ہوتا، نیز آنحضور ﷺ کی بنائی ہوئی مسجد جب حضرت عثمان رضي الله عنه کے زمانہ میں از سرِ نو بنائی گئی تو کسی نے یہ اشکال نہیں کیا کہ تعمیر کرنے والوں کا ثواب ختم ہو جائے گا، بلکہ وہ ثواب لکھا گیا، اگر کسی کو اللہ کے راستہ میں غبار لگ جائے تو اس کو نار جہنم نہیں چھوئے گی ۔
"من اغبرت قدماه في سبيل اللّه لم تمسه النار"
۔
(رواه الترمذي: ۱/۲۹۲).
لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاؤں نہ دھوئے وہ ثواب صحیفہ اعمال میں نقش ہو جاتا ہے، اگر چہ وہ چیز نہ رہے ۔
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1799
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1799