مسجد میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کا حکم:
Question
جب لوگ نماز سے پہلے مسجد میں داخل ہوتے ہیں تو بعض لوگ سلام کرتے ہیں اور بعض لوگ نہیں کرتے، کیا سلام کرنا چاہیے یا نہیں؟
Answer
اگر مسجد میں مصلی حضرات ذکر و تلاوت میں مشغول ہوں تو سلام نہ کرے اور اگر نماز کے انتظار میں بیٹھے ہوں تو پھر بھی سلام نہ کرنا بہتر ہے، ہاں اگر نماز ہو چکی ہو یا لوگ بات چیت میں مشغول ہوں تو سلام کرنا چاہیے ۔
ملاحظہ فرمائیں، عالمگیری میں ہے:
السلام تحية الزائرين والذين جلسوا في المسجد للقراءة والتسبيح أو لانتظار الصلاة ما جلسوا فيه لدخول الزائرين عليهم، فليس هذا أوان السلام، فلا يسلم عليهم. (الفتاوى الهندية: ۵/۳۲۵، الباب السابع في السلام، وكذا في حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ٤/۲۰٦).
وفي الشامية: قال: وإذا جلس القاضي ناحية من المسجد للحكم لا يسلم على الخصوم، ولا يسلمون عليه، لأنه جلس للحكم والسلام تحية الزائرين. (فتاوى الشامي: ٦/٤۱۵، كتاب الحظر والإباحة، سعيد).
فتاوی سراجیہ میں ہے:
إذا دخل المسجد بعضهم في غير الصلاة يسلم قال السيد الإمام أبو القاسم رحمه الله ولترك السلام لا يكون تاركاً للسنة أشار إليه في أدب القاضي. (الفتاوى السراجية: ص ۲۸۳، وكذا في فتاوى الشامي: ٦/٤۱۳، كتاب الحظر والإباحة، سعيد).
کتاب الفتاوی میں ہے:
مسجد میں داخل ہوتے وقت سلام کرنا یا مسجد میں بیٹھے ہوئے لوگوں کا آنے والوں کو سلام کرنا درست ہے، البتہ اتنی آواز سے نہ کیا جائے کہ اگر کوئی شخص نماز میں ہو تو اسے خلل ہو جائے ۔ (کتاب الفتاوی:
٤
/
۲۵٤
، و فتاوی رحیمیہ:
۹
/
٦۸
) ۔
لہذا سلام کرنے والے اور نہ کرنے والے دونوں میں سے کسی پر بھی ملامت نہیں کرنا چاہیے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1838
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1838