مسجد میں ذکر یا تلاوت کے وقت جھومنے کا حکم: ـ

11 min readFatwa Vol 4 #391Urdu

Question

مسجد میں ذکر یا تلاوت کرتے وقت بعض لوگ جھومتے ہیں، کیا اس طرح جھومنا اور حرکت کرنا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

اگر کوئی شخص کسی مصلحت (مثلاً دل کو حاضر رکھنا، شوق و ذوق پیدا کرنا، حفظ میں سہولت پیدا کرنا، وغیرہ) کے پیشِ نظر ذکر یا تلاوت کے وقت جھومتا ہے تو یہ مباح اور جائز ہے، لیکن اگر جھومے بغیر کام چل سکتا ہو تو نہیں کرنا چاہیے، کیوں کہ عبادت سکون و وقار کی خواست گار ہے، اور حرکت سکون وقار کے منافی ہے، البتہ رقص کی شکل بن جائے یا عبادت سمجھ کر کیا جائے تو یہ ناجائز ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں فتاوی واحدی میں ہے:
سوال: جنبیدن کتابیاں در وقتِ خواندنِ قرآن چنانچہ در مدرسہای متعارف است کہ بدونِ آں تفرح و تشوقِ ایشاں نمی شود جائز است یا ممنوع واصلے دارد یا نہ وآنچہ می گویند کہ جنبیدن در وقتِ تلاوت عادت یہودیاں است معتبراست یا نہ؟

جواب: الظاهر أن قراء ة القرآن بالسكون والوقار أفضل لأنه أدل على التعظيم والتحرك ينافيه ثم المنع عن التحرك لم يتعرض له في الكتب المعتبرة المتداولة كالبحر والدر وغيرهما نعم ذكر في الدر المختار في الصلاة على النبي ﷺ وإزعاج الأعضاء برفع الصوت جهل وإنما هي دعاء والدعاء يكون بين الجهر والمخافتة، انتهي، فقراء ة القرآن أولي بأن لا يتحقق فيها إزعاج الأعضاء لكن لو عدل عن هذه الأولوية لغرض صحيح كتفريح الخاطر وحصول النشاط في القراء ة الحاصل بالتحريك بالنسبة إلى البعض كالصبيان ونحوهم فالظاهر عدم الذم لأن المقصود الأصلي هو التعليم وضبط القرآن بالقراء ة فبأي طريق يحصل ينبغي السعي فيه كما لا يخفي على المنصف ألا تري أن المحدث ممنوع عن مس المصحف وجوزوا للصبي للضرورة وحصول الحفظ في الصغر قال في الدر المختار: ولا يكره مس صبي لمصحف ولوح، ولا بأس بدفعه إليه وطلبه منه للضرورة إذ الحفظ في الصغر كالنقش في الحجر، ولا يخفي أن التحرك من الصبي في حالة القراء ة للتعلم أدون من المس حالة الحدث، وأما القول بتشبيه اليهود فلم يثبت بنقل صحيح

(فتاوى واحدي: ۱٤۷).

فیض القدیر میں ہے:

فائدة: سئل جدي شيخ الإسلام يحيي المناوي رحمه الله: هل الاهتزاز في القرآن مكروه أو خلاف الأولي؟ فأجاب بأنه في غير الصلاة غير مكروه، ولكن خلاف الأولي، محله إذا لم يغلب الحال واحتاج إلى نحو النفي في الذكر إلى جهة اليمين والإثبات إلى جهة القلب، وأما في الصلاة فمكروه إذا قل من غير حاجة. (فيض القدير: ۲/٦۲).

بریقہ محمودیہ میں ہے:

وأما تحريك الرأس فقط يمنة ويسرة تحقيقاً لمعني النفي والإثبات في "لا إله إلا الله" فالظن الغالب جوازه بل استحبابه إذا كان مع النية الحاصلة الصالحة فيخرج عن حد العبث واللعب، لأن العبث مالا فائدة فيه والتحقيق المذكور من أعظم فوائد. (بريقة محمودية في شرح طريقة محمدية: ٤/۱۳۹).

بخاری شریف میں ہے:

عن البراء رضي الله عنه قال: كان رجل يقرأ سورة الكهف وإلى جانبه حصان مربوط بشطنين، فتغشته سحابة فجعلت تدنو، وجعل فرسه ينفر، فلما أصبح أتي النبي ﷺ فذكر ذلك له، فقال: تلك السكينة تنزلت بالقرآن. (رواه البخاري: ۲/۷٤۹/۵۰۱۱).

مجالس ذکر میں ہے:
شاہ عبد القادر رائے پوری رحمه الله نے فرمایا: ذکر کی تاثیر بڑھانے کے لیے اور طبیعت میں رقت و یک سوئی پیدا کرنے کے لیے ضرب کا طریقہ نکالا ہے تو ان میں سے کسی چیز کو بھی مقصود اور مامور بہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ یہ سب
کچھ علاج اور تدبیر کے طور پر کیا جاتا ہے اور اسی لیے مقصد حاصل ہو جانے کے بعد یہ سب چیزیں چھڑا دی جاتی ہیں ۔ (مجالس ذکر: ص۱۱۷) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (ذکر اجتماعی و جہری شریعت کے آئینہ میں، ص ۱۷۰ ۔ و بوادر النوادر: ٤٤٦) ۔
لیکن بعض حضرات نے اس پر چند اعتراضات کیے ہیں:
(۱) ذکر و تلاوت کے وقت اس طرح حرکت کرنا اور جھومنا بدعت ہے جو ناجائز ہے؟
الجواب: یہ بدعت فی الدین نہیں ہے بلکہ للدین ہے، یعنی وسائل میں ہے نہ کہ مقاصد میں جو کہ شریعت کی نگاہ میں ناجائز نہیں ہے ۔
حکیم الامت فرماتے ہیں:
بدعت کی حقیقت تو یہ ہے کہ اس کو دین سمجھ کر اختیار کرے، اگر معالجہ سمجھ کر اختیار کرے تو بدعت کیسے ہو سکتا ہے، پس ایک احداث للدین ہے اور ایک احداث فی الدین ہے، احداث للدین سنت ہے اور احداث فی الدین بدعت ہے ۔ (تحفۃ العلماء
۲
/
۱٤۰
، فقہ حنفی کے اصول و ضوابط، الباب السادس، سنت کی تعریف) ۔
(
۲
) اس میں تشبہ بالیہود ہے اس لیے کہ یہود کی یہ پرانی عادت ہے کہ وہ تورات پڑھتے وقت یا اپنی عبادت کے وقت جھومتے ہیں، ان کی اصطلاح "شَوکلنگ" (
shokling
) کہتے ہیں، جس کے معنی جھومنے کے ہیں ۔
علامہ زمخشری لکھتے ہیں:

﴿وإذ نتقنا الجبل فوقهم﴾ ولما نشر موسي الألواح فيها كتاب الله لم يبق جبل ولا حجر إلا اهتز، فلذلك لا تري يهودياً تقرأ عليه التوراة إلا اهتز وانخفض لها رأسه. (التفسير الكشاف: ۲/۱۲۹).

یہ طریقہ آج تک ان میں جاری ہے، اب سوال یہ ہے کہ جن علاقوں میں دستور بن گیا ہے مثلاً مصر، اندلس وغیرہ تو بنا بر تشبہ یہ طریقہ ممنوع ہوگا یا نہیں؟
علامہ زمخشری کی عبارت نقل کرنے کے بعد صاحب بحرِ محیط لکھتے ہیں:

وقد سرت هذه النزعة إلى أولاد المسلمين فيما رأيت بديار مصر تراهم في المكتب إذا قرأوا القرآن يهتزون ويحركون رؤوسهم وأما في بلادنا بالأندلس والعرب فلو تحرك صغير عند قراء ة القرآن أدبه مؤدب المكتب وقال له: لا تتحرك فتشبه اليهود في الدراسة.
(تفسير البحر المحيط: ٤/٤۲۰).

الجواب: علماء نے لکھا ہے کہ کفار کے ساتھ تشبہ کا حرام ہونا اتنا عام نہیں ہے، بلکہ ان امور میں جو ان کی مذہبی خصوصیات اور امتیازی نشانات ہیں، جائز نہیں، مثلاً گلے میں صلیب لٹکانا، ہندو کا زنار پہننا، پیشانی پر قشقہ لگانا وغیرہ، نیز ایسے امور بھی ناجائز ہیں جن میں تشبہ بھی پایا جاتا ہو اور احادیث میں ان کی قباحت وارد ہو جیسے پاجامہ، پتلون ٹخنوں سے نیچے لٹکانا، یا مردوں کو عورتوں کا لباس پہننا ۔
لیکن بعض امور ایسے ہوتے ہیں جن میں ایک جانب تشبہ یعنی مشابہت ہوتی ہے اور دوسری جانب کچھ مصلحت بھی ہوتی ہے اس لیے ان کو ناجائز نہیں کہیں گے، اگر کوئی شخص عاشورہ یعنی دس محرم کا ایک ہی روزہ رکھے تو وہ ناجائز نہیں، کیوں کہ رکھنے والے کا مقصد یہود کے ساتھ مشابہت نہیں بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور آنحضور ﷺ کی اتباع ہے، محرم اور ربیع الاول میں وعظ و نصیحت کی مجالس قائم کرنا اہل بدعت کے ساتھ مشابہت ہے، لیکن چونکہ مقصد خرافات کی تردید اور صحیح مضامین کا بیان ہوتا ہے لہذا علماء اس کو جائز کہتے ہیں بشرطیکہ خرافات و پابندیوں سے خالی ہو ۔
خلاصہ یہ ہے کہ اگر کوئی چیز عام ہو جائے اور کسی خاص قوم کے ساتھ مخصوص نہ سمجھی جائے تو تشبہ ختم ہو جائے گا ۔ نیز یہ روایت بظاہر کسی حدیث کی روایت نہیں بلکہ ایک تاریخی روایت ہے ۔
فقہ حنفی کے اصول و ضوابط میں ہے:
تشبہ ختم ہو جانے کی پہچان یہ ہے کہ دیکھنے سے عام لوگوں کے ذہن میں کھٹک نہ ہو کہ یہ موضع تو فلانی لوگوں کی ہے، جیسے انگرکھا یا اچکن پہنا، مگر جب تک یہ خصوصیت ہے اس وقت تک منع کیا جائے گا، جیسے ہمارے ملک میں کوٹ پتلون پہننا، دھوتی باندھنا، (البتہ جہاں پر کوٹ پتلون عام ہو جائے ذہن میں سے خصوصیت جاتی رہے تو ناجائز نہ ہوگا، مگر) جب تک دل میں کھٹک ہے اس وقت تک تشبہ کی وجہ سے ناجائز رہے گا ۔ (فقہ حنفی کے اصول و ضوابط: ص۱۵٤، از افاداتِ حکیم الامت) ۔
تکملہ فتح الملہم میں ہے:

اعلم أن التشبه بأهل الكتاب لا يكره في كل شيء، فإنا نأكل ونشرب كما يفعلون إنما الحرام هو التشبه فيما كان مذموماً وفيما يقصد به التشبه كذا ذكره قاضي خان في شرح الجامع الصغير فعلى هذا لو لم يقصد التشبه لا يكره عندهما، وقال هشام في نوادره: رأيت على أبي يوسف رحمه الله نعلين محفوفين بمسامير الحديد، فقلت له: أتري بهذا الحديد باساً؟ فقال: لا، فقلت له: إن سفيان وثور بن يزيد كرها ذلك لأنه تشبه بالرهبان، فقال أبو يوسف رحمه الله: كان رسول الله ﷺ يلبس النعال التي لها شعور وإنها من لباس الرهبان، فقد أشار إلى أن صورة المشابهة فيما يتعلق به صلاح العباد لا تضر وقد تعلق بهذا النوع من الأحكام صلاح العباد

(تكملة فتح الملهم: ٤/۸۸).

مزید ملاحظہ ہو: (تقریر ترمذی: ۳۳۱) ۔
مسلم شریف میں روایت ہے:

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: كان رسول الله ﷺ يسير في طريق مكة فمر على جبل يقال له جمدان، فقال: سيروا هذا جمدان سبق المفردون، قالوا: وما المفردون يا رسول الله قال: الذاكرون الله كثيراً والذاكرات. قال الإمام النووي رحمه الله: وجاء في رواية هم الذين اهتزوا في ذكر الله أي لهجوا به. (الصحيح لمسلم مع شرح النووي: ۲/۳٤۱، ۳٤۲).
"هز"
کے اصل معنی حرکت کرنے یا حرکت دینے کے ہیں ۔
لسان العرب میں ہے:
واهتز إذا تحرك. (لسان العرب: ۵/٤۲٤).

لغات الحدیث میں ہے:
اہتزوا في ذکر اللّٰہ، اللہ کی یاد میں جھومے اور خوش ہوے ۔ (لغات الحدیث: ٤/۲۹) ۔
مزید ملاحظہ فرمائیں: (ذکر اجتماعی و جہری شریعت کے آئینہ میں، ص۱۷۰) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.