حدیث "لا يزال الإسلام إلى اثنا عشر خليفة" کے معنی کی وضاحت:
Question
"
لا يزال الإسلام إلى اثني عشر خليفة كلهم من قريش"
اس حدیث کے کیا معنی ہے؟
Answer
اس حدیث کی شرح میں علما کے مختلف اقوال ہیں ۔ ملاحظہ ہو:
پہلا قول: اثني عشر خليفة سے مراد خلفاءِ راشدین (۱) ابوبکر رضي اللہ عنہ (۲) عمر رضي اللہ عنہ (۳) عثمان رضي اللہ عنہ (٤) علی رضي اللہ عنہ اور ان کے بعد خلفائِ بنو امیہ میں سے (۵) معاویہ بن ابی سفیان رضي اللہ عنہ (٦) یزید بن معاویہ (۷) عبد الملک بن مروان (۸) ولید بن عبد الملک (۹) سلیمان بن عبد الملک (۱۰) یزید بن عبد الملک (۱۱) ہشام بن عبد الملک (۱۲) ولید بن یزید بن عبد الملک ہیں ۔ یہ قول زیادہ صحیح ہے ظاہرِ حدیث کی موافقت کی وجہ سے ۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا: علامہ ابن جوزی رحمہ اللہ اور قاضی عیاض رحمہ اللہ کی پوری بحث چند توجیہات پر مشتمل ہے، ان میں سے راجح قاضی عیاض رحمہ اللہ کی تیسری تو جیہ ہے، وجہ یہ ہے کہ اس کی تائید ایک مرفوع حدیث سے ہو تی ہے وہ حدیث یہ ہے: "
وكلهم يجتمع عليه الناس"
اور اس کی وضاحت یہ ہے کہ اجتماع سے مراد اس خلیفہ کی بیعت پر لو گوں کا تابع دار ہو نا اور تسلیم کر نا ہے، اور یہ اس طور پر وقوع پذیر ہوا کہ لوگ حضرت ابو بکر صدیق رضي اللہ عنہ کی بیعت پر جمع ہوے، پھر حضرت عمر رضي اللہ عنہ کی بیعت پر پھر حضرت عثمان رضي اللہ عنہ کی بیعت پر پھر حضرت علی رضي اللہ عنہ کی بیعت پر یہاں تک کہ جنگِ صفین میں حکمیں پر معاملہ موقوف رہا پھر حضرت معاویہ رضي اللہ عنہ کو خلیفہ مو سوم کیا گیا ۔ پھر حضرت معاویہ رضي اللہ عنہ اور حضرت حسن رضي اللہ عنہ کے درمیاں صلح ہو ئی تو حضرت معاویہ رضي اللہ عنہ کی بیعت پر لو گوں کا اجماع ہوا اور لوگ جمع ہوے، پھر حضرت معاویہ رضي اللہ عنہ کے بیٹے یزید کی بیعت پر لو گ جمع ہوے اور حضرت حسین رضي اللہ عنہ کا معاملہ ابھی تک سلجھا نہیں تھا کہ اس سے پہلے وہ شہید ہو گئے، پھر جب یزید کی وفات ہو ئی تو اختلاف ہوا یہاں تک کہ لو گ عبد الملک بن مروان پر جمع ہوے اور حضرت عبد اللہ بن زبیر رضي اللہ عنہ کی شہادت کے بعد پھر عبد الملک کے چار بیٹے پے در پے خلیفہ بنے اور لوگ ان کی بیعت پر جمع ہوے، پہلے ولید پھر سلیمان پھر یزید پھر ہشام اور سلیمان اور یزید کے درمیاں حضرت عمر بن عبد العزیز کی خلافت "
علي منهج النبوة"
کا فاصلہ رہا تو یہ کل سات ہوے خلفاء راشدین کے بعد یعنی کل گیا رہ خلیفہ ہوے اور نمبر (۱۲) پر ولید بن یزید بن عبد الملک خلیفہ ہوے اور لوگ ان کی بیعت پر جمع ہوے، یہ کل بارہ خلیفہ اس حدیث میں مراد ہیں جس کو حافظ ابن حجر نے راجح قرار دیا ہے ۔ اس لیے کہ ان کے بعد فتن و فساد کا دور شروع ہوا، اور احوال بدل گئے اور لوگ کسی بھی ایک خلیفہ پر جمع نہیں ہوے جو کہ حدیث شریف کا منشا تھا "
كلهم يجتمع الناس عليه".
لیکن اس پر تین اشکالات وارد ہو تے ہیں: ۔
اشکال (۱): روایت میں آتا ہے کہ
"الخلافة بعدي ثلاثون سنة ثم تكون ملكاً"
یعنی خلافت تیس سال ہوگی، اس کے بعد ملوکیت ہو جائے گی اور تیس سال میں صرف خلفاء اربعہ اور حضرت حسن بن علی رضي اللہ عنہ کی خلافت تھی لہذا یہ بارہ کا عدد اس حدیث کے خلاف ہے؟
الجواب: اس حدیث میں خلافت "
علي منهج النبوة"
مراد ہے ۔ اور بارہ خلفاء والی روایت عام ہے (نیز اس حدیث یعنی "
الخلافة بعدي"
کی سند پر بھی کلام ہے سنن ترمذی کی سند میں حشرج بن نباتہ کو نسائی نے
ليس بقوي
کہا اور سعید بن جمہان کو ابو حاتم نے لا
يحتج به
فرمایا) ۔
اشکال (۲): حکام اور خلفا تو بارہ سے زائد گزرے ہیں پھر بارہ کے ساتھ تخصیص کی کیا وجہ ہے؟
الجواب: حدیث کے الفاظ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بارہ کے بعد کی نفی نہیں بلکہ صرف بارہ کو بیان کرنا مقصود ہے اور کم عدد زیادہ کی نفی نہیں کرتا ۔
اشکال (۳): اس میں سے عمر بن عبد العزیز کی خلافت کو نکالنا سمجھ میں نہیں آتا ۔
دوسرا قول:
صحابہ کرام کی خلافت کے بعد والے بنو امیہ کے بارہ خلفاء مراد ہیں: (۱) یزید بن معاویہ (۲) عبد الملک بن مروان (۳) ولید بن عبد الملک (٤) سلیمان بن عبد الملک (۵) عمر بن عبد العزیز (٦) یزید بن عبد الملک (۷) ہشام بن عبد الملک (۸) ولید بن یزید بن عبد الملک (۹) یزید بن ولید (۱۰) ابراہیم بن یزید (۱۱) ولید بن یزید (۱۲) مروان الحمار یعنی مروان بن محمد بن مروان ۔
لیکن اس پر اشکال ہے کہ ان میں معاویہ بن یزید اور ابراہیم بن ولید کے نام شامل نہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ معاویہ بن یزید تو بالکل خلافت نہیں چاہتے تھے اور ان کی خلافت زیادہ سے زیادہ تین ماہ رہی ہے تو جن کی خلافت اقل مدتِ حمل ٦ ماہ سے بھی کم رہی ان کو شمار نہیں کیا گیا اور تعداد ۱۲ ہو گئی نیز بعض مؤرخین نے تو ابراہیم بن ولید کو خلیفہ ہی نہیں لکھا، اور مروان کا ذکر بھی اس میں نہیں، کہ اس زمانہ میں انتشار تھا ۔
اس قول کا دوسرا پہلو یہ کہ خلفائے بنو امیہ بشمول صحابی جلیل حضرت معاویہ رضي اللہ عنہ مراد ہیں، دیگر بعض تبدیلی کے ساتھ ۔ ترتیبِ خلفاء درجِ ذیل ملاحظہ فرمائیں:
(۱) حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضي اللہ عنہ (۲) یزید بن معاویہ (۳) معاویہ بن یزید (٤) مروان بن حکم (۵) عبد الملک بن مروان (٦) ولید بن عبد الملک (۷) سلیمان بن عبد الملک (۸) عمر بن عبد العزیز (۹) یزید بن عبد الملک (۱۰) ہشام بن عبد الملک (۱۱) ولید بن یزید (۱۲) یزید بن ولید (۱۳) مروان بن محمد الجعدی ۔
ان تیرہ میں سے معاویہ بن یزید کو نکالا جائے جو خلافت نہیں چاہتے تھے تو بارہ رہ جائیں گے ۔
ملاحظہ کیجیے: (
التاريخ الإسلامي (الوجيز) للدكتور محمد سهيل طقوش، ص ۱۱۱)
۔
اور یہی قول بندہ عاجز کے نزدیک اصح ہے ۔
تیسرا قول: وہ لوگ مراد ہیں جو ایک ہی وقت میں خلافت کے مدعی ہوں گے جیسے پانچویں صدی ہجری میں اندلس میں ہوا تھا ۔
چو تھا قول: اس حدیث میں بارہ خلفاء سے خلفاء عادلین مراد ہیں ان میں پے در پے ہونے کی شرط نہیں ہے اس قول کی تائید ایک حدیث سے ہوتی ہے ۔ ملاحظہ ہو:
"لا تهلك هذه الأمة حتى يكون منها اثنا عشر خليفة كلهم يعمل بالهدى ودين الحق منهم رجلان من أهل بيت محمد يعيش أحدهما أربعين سنة والآخر ثلاثين سنة.
ان اقوال کے دلائل ملاحظہ ہو ۔ فتح الباری میں ہے:
(۱) وينتظم من مجموع ما ذكراه أوجه، أرجحها الثالث من أوجه القاضي لتأييده بقوله في بعض طرق الحديث الصحيحة "كلهم يجتمع عليه الناس" وإيضاح ذلك أن المراد بالاجتماع انقيادهم لبيعته، والذي وقع أن الناس اجتمعوا على أبي بكر ثم عمر ثم عثمان ثم على إلى أن وقع أمر الحكمين في صفين، فسمي معاوية يومئذ بالخلافة، ثم اجتمع الناس على معاوية عند صلح الحسن، ثم اجتمعوا على ولده يزيد ولم ينتظم للحسين أمربل قتل قبل ذلك، ثم لما مات يزيد وقع الاختلاف إلى أن اجتمعوا على عبد الملك بن مروان بعد قتل ابن الزبير، ثم اجتمعوا على أولاده الأربعة: الوليد ثم سليمان ثم يزيد ثم هشام، وتخلل بين سليمان ويزيد عمر بن عبد العزيز فهؤلاء سبعة بعد الخلفاء الراشدين، والثاني عشر: هو الوليد بن يزيد بن عبد الملك اجتمع الناس عليه لما مات عمه هشام، فولي نحو أربع سنين ثم قاموا عليه فقتلوه، وانتشرت الفتن وتغيرت الأحوال من يومئذ ولم يتفق أن يجتمع الناس على خليفة بعد ذلك، لأن يزيد بن الوليد الذي قام على ابن عمه الوليد بن يزيد لم تطل مدته بل ثار عليه قبل أن يموت ابن عم أبيه مروان بن محمد بن مروان ولما مات يزيد ولي أخوه إبراهيم فغلبه مروان، ثم ثار على مروان بنو العباس إلى أن قتل. (فتح الباري: ۱۳/۲۱٤).
وقد لخص القاضي عياض ذلك فقال: توجه على هذا العدد سؤالان: أحدهما أنه يعارضه ظاهر قوله في حديث سفينة يعني الذي أخرجه أصحاب السنن وصححه ابن حبان وغيره "الخلافة بعدي ثلاثون سنة ثم تكون ملكا" لأن الثلاثين سنة لم يكن فيها إلا الخلفاء الأربعة وأيام الحسن بن علي، والثاني أنه ولي الخلافة أكثر من هذا العدد، قال: والجواب عن الأول أنه أراد في حديث سفينة خلافة النبوة ولم يقيده في حديث جابر بن سمرة بذلك، وعن الثاني أنه لم يقل لا يلي إلا اثنا عشر وإنما قال: "يكون اثنا عشر" وقد ولي هذا العدد ولا يمنع ذلك الزيادة عليهم. (فتح الباري: ۱۳/۲۱۲).
تكملة فتح الملهم
میں ہے
:
(۲) والتفسير الثاني: أنه سيكون قبل قيام الساعة زمان يدعي فيه اثنا عشر رجلا الخلافة في وقت واحد، ولكنه يرده ما ورد في رواية لأبي داود "كلهم تجتمع عليه الأمة".
(۳) إن عدد الاثني عشر مبني على الأقلّ، ولا ينافي أن يكون الخلفاء أكثر من ذلك، وهو كما ترى.
(٤) إن عدد الاثني عشر يحاسب به بعد زمن الصحابة، فحينئذ ينتظم هذا العدد جميع خلفاء بني أمية، والمراد أن الإسلام يكون عزيزاً إلى خلافة بني أمية، ذكره ابن الجوزي وفيه تكلف ظاهر ثم أنه لا يطابق الواقع، لأن عزة الإسلام في عهد بعض بني العبا س كانت أكثر منها زمن بعض بني أمية. (يقول العبد الضعيف: فتوحات بني أمية مسطورة في كتب التاريخ ولعل المصنف دام فضله لم يتوجه إليها).
(۵) أن المراد بالخلفاء الخلفاء العادلون، وإن لم تتوال أيامهم، ويؤيد ما أخرجه مسدد في مسنده الكبير من طريق أبي بحر، أن أبا الجلد حدثه: "أنه لا تهلك هذه الأمة حتى يكون منها اثنا عشر خليفة كلهم يعمل بالهدى ودين الحق، منهم رجلان من أهل بيت محمد، يعيش أحدهما أربعين سنة، والآخر ثلاثين سنة" وعلى هذا المراد بقوله "ثم يكون الهرج" أي الفتن المؤذنة بقيام الساعة، من خروج الدجال، ثم يأجوج ومأجوج، إلى أن تنقضي الدنيا، ذكره ابن الجوزي. (تكملة فتح الملهم: ۳/۲۸۵).
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (
فتح الباري: ۱۳/۲۱۱، وشرح صحيح مسلم للنووي: ۱۲/٤۰۷.
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/184
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-184