مادہ کو بذریعہ انجیکشن حاملہ بنانے کا حکم:
Question
آج کل جانوروں کو حاملہ بنانے کے لیے انجیکشن لگاتے ہیں اور اس پر اجرت لیتے ہیں، تو یہ اجرت بھی جائز ہونی چاہیے، کیوں کہ یہ اجرت تولیدی جوہر کے ساتھ ساتھ انجیکشن لگانے کے اخراجات اور سروس کا بدل ہے ۔
اشکال: لیکن اس پر ایک اشکال وارد ہوتا ہے کہ حدیث شریف میں عسب الفحل کی اجرت کی ممانعت وارد ہوئی ہے اس کا کیا جواب ہے؟
Answer
حدیث شریف اور اس کی شروحات سے پتا چلتا ہے کہ اصل ممنوع چیز نر جانور کو مادہ پر کدوانے اور حاملہ کرنے کی اجرت ہے، کیوں کہ یقینی نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے حاملہ ہو جائے اس میں بہت سے احتمالات ہیں مثلاً ہو سکتا ہے کہ مادہ منویہ برآمد نہ ہو اگر برآمد ہو تو باہر رائگاں ہو جائے اگر داخل ہو تو صحیح نشانہ پر نہ پہنچے اور حمل قرار نہ پائے، وغیرہ، لہذا حمل مشکوک اور مجہول ہو گیا اور مجہول و مشکوک چیز کی اجرت لینا ممنوع اور ناجائز ہے، حدیث شریف میں اسی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، ہاں اس کے باوجود تحفے وغیرہ کی گنجائش ہے جیسا کہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے ۔
ملاحظہ ہو ترمذی شریف میں ہے:
عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن رجلاً من كلاب سأل النبي ﷺ عن عسب الفحل، فنهاه فقال يا رسول الله! إنما نطرق الفحل فنكرم فرخص له في الكرامة. قال أبو عيسى:
وقد رخص قوم في قبول الكرامة على ذلك. (ترمذي شريف: ۱/۲٤۰، باب ما جاء في كراهية عسب الفحل).
وفي جامع الأصول: قال: والعسب: الكراء الذي يؤخذ على ضراب الفحل، تقول عسب فحله يعسبه عسباً أي إكراه، وعسب الفحل أيضاً: ضرابه. (جامع الأصول في أحاديث الرسول: ۱۰/۵۹۲/۸۱۷۳، عسب الفحل).
وفي مسند الربيع: قال الربيع: ذكر العسب وأراد ما يؤخذ عليه من الأجرة والعسب ضراب الفحل. (مسند الربيع، باب في المحرمات، ص ۲٤۹/٦۳٤).
اسی طرح ایک موقوف روایت سے بھی اس معنی کی تائید ہوتی ہے:
قال أبو هريرة رضي الله عنه: أربع من السحت: ضراب الفحل
(سنن النسائي، باب عسب الفحل).
بلوغ المرام میں ہے:
وعن جابر بن عبد الله رضي الله عنه قال: نهي رسول الله ﷺ عن بيع فضل الماء. رواه مسلم، وزاد في رواية: وعن بيع ضراب الجمل. قال المحشي: الضراب بالكسر والتخفيف هو نزو الذكر من الحيوان على الأنثى لتلقيحها أي نهي عن كراء ضرابه وأجرة مائه
والعسب ضراب الفحل
ومورد النهي في الحديث الأجرة التي تؤخذ على ضراب الفحل. (بلوغ المرام مع التعليق، ص ۲۲۹، كتاب البيوع).
لغات الحدیث میں ہے:
عسب نر کا مادہ پر چڑھنا، اس کا کرایہ دینا
"نهي عن عسب الفحل"
نر کو مادہ پر کدانے کی اجرت لینے پر منع فرمایا گیا ۔ (لغات الحدیث: ۳/۱۰٤) ۔
مذکورہ بالا عبارات سے معلوم ہوا کہ اکثر شراح نے عسب الفحل کا معنی ضراب الفحل بیان کیا ہے یعنی نر کو مادہ پر کدانا ۔
قال ابن بطال في شرح صحيح البخاري: وذهب الكوفيون والشافعي وأبو ثور إلى أنه لا يجوز عسب الفحل، واحتجوا بحديث ابن عمر رضي الله عنه، فقالوا: هو شيء مجهول لا ندري أينتفع به أم لا؟ وقد لا ينزل الفحل،
ومعني نهيه عليه السلام عن عسب الفحل هو أن يكريه إلى العلوق، لأن ذلك مجهول لا يدري متى يعلق، ولا يجوز إجارة المجهول، كما لا يجوز بيعه. (شرح صحيح البخاري لا بن بطال، كتاب الإجارات، باب عسب الفحل، ٦/٤۱۲).
عون المعبود میں ہے:
نهي عنه للغرر لأن الفحل قد يضرب وقد لا يضرب وقد لا يلقح الأنثى وبه ذهب الأكثرون. (عون المعبود: ۹/۲۱۳، باب في عسب الفحل).
در مختار میں ہے:
لا تصح الإجارة لعسب التيس وهو نزوه على الإناث لأنه عمل لا يقدر عليه وهو الإحبال. (الدر المختار: ٦/۵۵، كتاب الإجارة، سعيد).
مزید ملاحظہ ہو: (جدید معاملات کے شرعی احکام: ۱/۲٦۵ ۔ ۲۷۱) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1922
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1922