بیع فاسد میں مشتری کا ثالث کو فروخت کرنے کا حکم:
Question
ایک شخص نے ۲۳ سال قبل اپنے بھائی سے چند پلاٹ خریدے تھے لیکن بائع نے اس میں یہ شرط لگائی تھی کہ ۱۰ سال کے بعد اگر اس پر کوئی تعمیر وغیرہ نہ ہو تو بائع واپس لے لے گا، چنانچہ بیع مکمل ہو چکی تھی اور بائع نے ثمن پر قبضہ بھی کر لیا تھا، اور مشتری نے بائع کی اجازت سے مبیع کو اپنے تصرف میں لے لیا تھا، اب ۲۳ سال گزرنے کے بعد وہ پلاٹ حکومت خرید کر رقم ادا کرنا چاہتی ادا کرنا چاہتی ہے تو ثمن کون وصول کرے گا؟ بائع کے ورثاء چاہتے ہیں کہ ثمن ان کو ملے اس وجہ سے کہ بیع اول فاسدہ ہو گئی تھی، کیا بیع اول صحیح ہوئی تھی یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ شرطِ فاسد کی وجہ سے بیع فاسد ہو گئی تھی، لہذا بیع کو فسخ کرنا ضروری تھا، لیکن عاقدین نے بیع فسخ نہیں کی، اور مشتری نے بائع کی اجازت سے مبیع پر قبضہ کر لیا تھا، اور بائع نے بھی ثمن پر قبضہ کر لیا تھا، لہذا مشتری مبیع کا مالک بن گیا تھا، اب ۲۳ سال کے بعد حکومت خرید کر ثمن ادا کر رہی ہے تو ثمن مشتری کو ملے گا، اس لیے کہ مشتری مبیع کا مالک تھا، بائع کے ورثاء کو نہیں ملے گا ۔
اس مسئلہ کی وضاحت علامہ ابن نجیم مصری رحمه الله، علامہ شامی رحمه الله اور علامہ سید احمد طحطاوی رحمه الله نے فرمائی ہے کہ بیع فاسد میں جب مشتری مبیع کو فروخت کر دے تو ثمن مشتری کو ملے گا ۔
ملاحظہ فرمائیں البحر الرائق میں ہے:
قوله قبض المشتري المبيع في البيع الفاسد بأمر البائع وكل عوضيه مال ملك المبيع بقيمته
لأن ركن البيع صدر من أهله مضافاً إلى محله فوجب القول بانعقاده ولا خفاء في الأهلية والمحلية وركنه المبادلة المال بالمال
فنفس البيع مشروع وبه تنال نعمة الملك إنما المحظور ما يجوره كما في البيع وقت النداء
وفي قوله ملك المبيع رد على من قال: إنه إنما ملك التصرف دون العين وهم العراقيون وما ذكره قول أهل بلخ وهو المنصوص عليه في كلام محمد رحمه الله وهو الصحيح المختار، فإنه قال: إن المشتري خصم لمن يدعيه لأنه يملك رقبته كذا في جامع الفصولين
ولو باعه كان الثمن له ولو بيعت دار إلى جنبها فالشفعة للمشتري ولو أعتقه البائع لم يعتق ولو سرقه البائع من المشتري بعد قبضه قطع كما في الجوهرة، فهذه كلها ثمرات الملك. (البحر الرائق: ٦/۹۱، ۹۲، فصل في البيع الفاسد، كوئته).
وفي الهداية: وإذا قبض المشتري المبيع في البيع الفاسد بأمر البائع وفي العقد عوضان كل واحد منهما مال ملك المبيع ولزمته قيمته
ولكل واحد من المتعاقدين فسخه رفعاً للفساد
فإن باعه المشتري نفذ بيعه لأنه ملكه فملك التصرف فيه وسقط حق الاسترداد لتعلق حق العبد بالثاني ونقض الأول لحق الشرع وحق العبد مقدم لحاجته ولأن الأول مشروع بأصله دون وصفه والثاني مشروع بأصله ووصفه فلا يعارضه مجرد الوصف ولأنه حصل بتسليط من جهة البائع. (الهداية: ۳/٦۲، ٦٤، فصل في أحكام البيع الفاسد).
وفي الدر المختار: وإذا ملكه تثبت كل أحكام الملك، وفي الشامية: فيكون المشتري خصماً لمن يدعيه لأنه يملك رقبته نص عليه محمد رحمه الله، ولو باعه كان الثمن له. (الدر المختار مع رد المحتار: ۵/۹۰، سعيد).
وفي حاشية الطحطاوي: قوله ملكه أي ملك عينه هو قول أئمة بلخ بدليل أن المشتري إذا أعتقه بعد قبضه صح وكان الولاء له ولو باعه كان الثمن له. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۳/۷۸، كوئته. وكذا في فتح القدير: ٦/٤۵۹، ٤٦٦، فصل في أحكامه، دار الفكر).
البتہ ایک بات قابل اشکال ہے وہ یہ ہے کہ بیع فاسد میں فقہاء نے لکھا ہے کہ مبیع کو دوبارہ فروخت کر کے جو نفع حاصل کیا جائے وہ واجب التصدق ہوتا ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں فتاوی ہندیہ میں ہے:
ولو اشتري جارية شراء فاسداً وقبضها وباعها وربح فيها تصدق بالربح ولو اشتري بثمنها شيئاً آخر فربح فيه طاب له الربح. كذا في السراج الوهاج. (الفتاوى الهندية: ۳/۱٤۹).
لیکن چونکہ آج کل بیع تعاطی ہوتی ہے اور ایجاب و قبول کا نام و نشان نہیں ہوتا، لہذا شرط صرف کاغذات میں درج تھی اور کاغذات یا تو بیع سے قبل موصول ہوے یا بعد میں اگر قبل العقد ہے تو وعدہ ہے اور بعد العقد ہے تب بھی یہ شرط وعدہ کی طرح ہے جس سے عقد فاسد نہیں ہوتا ۔
ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:
قلت: وفي جامع الفصولين أيضاً: لو ذكرا البيع بلا شرط ثم ذكرا الشرط على وجه العدة جاز البيع ولزم الوفاء بالوعد، إذ المواعيد قد تكون لا زمة فيجعل لا زماً لحاجة الناس
(تنبيه) في جامع الفصولين أيضاً: لو شرط شرطاً فاسداً قبل العقد ثم عقدا لم يبطل العقد. (فتاوى الشامي: ۵/۸٤، مطلب في الشرط الفاسد
، سعيد).
امداد الاحکام میں ہے:
ایجاب و قبول بیع و شراء کا ہوا اور ایجاب و قبول میں کوئی شرط واپسی وغیرہ کی نہ ہو بلکہ بعد ایجاب و قبول کے شرط رد وغیرہ کی کی جاوے یہ بالاتفاق جائز ہے
"لخلو العقد عن الشرط"
اور جب زبانی ایجاب و قبول میں متصلاً شرط نہ ہو تو بیعانہ میں متصلاً شرط کے لکھنے سے حرمت نہ آئے گی ۔
"لأن الأصل في العقود القول والكتابة وثيقة، والله تعالى أعلم. حرره الأحقر ظفر أحمد عفي عنه، أصل الجواب وكذا تصحيحه صحيحان"،
اشرف علی ۔ (امداد الاحکام: ۳/٤۳۵) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1925
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1925