مشتری سے مقدمہ کے اخراجات وصول کرنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 5 #64Urdu

Question

عمر و نے زید کے پاس سے کوئی چیز خریدی، اور ثمن متعینہ تاریخ پر طے ہوا، تاریخ گزرنے کے بعد بھی عمر و نے ثمن ادا نہیں کیا، زید نے مقدمہ دائر کر دیا، اب سوال یہ ہے کہ زید مقدمہ کے اخراجات عمر و یعنی مشتری سے وصول کر سکتا ہے یا نہیں؟

Answer

مقدمہ کے اخراجات مشتری سے وصول کرنے کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے بعض علماء جیسے حضرت مولانا عبد الحی لکھنوی رحمه الله وغیرہ فرماتے ہیں کہ مشتری سے مقدمہ کے اخراجات وصول کرنا جائز نہیں ہے، اور دوسرے بعض علماء، جیسے حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمه الله وغیرہ فرماتے ہیں کہ مشتری سے مقدمہ کے اخراجات وصول کرنا جائز اور درست ہے، حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن صاحب نے فتاوی دار العلوم دیوبند میں دونوں اقوال نقل کرنے اور تفصیلی کلام فرمانے کے بعد فرمایا کہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی قدس سرہ کی رائے اس وجہ سے قابل ترجیح معلوم ہوتی ہے کہ اس زمانہ میں ادائے حقوق میں بہت کمی ہو گئی بلکہ اس زمانہ سے پہلے سے یہ مرض عام ہو چکا ہے اسی بناء پر فقہاء نے تصریح فرمائی ہے کہ صاحب حق اگر بقدر اپنے حق کے من علیہ الحق کے مال سے چاہے جس طرح ہو سکے لے لے اگر چہ اپنے حق کی جنس سے نہ ہو ۔ (عزیز الفتاوی، جلد اول، ص ٦۲۷، دار الاشاعت، کراچی) ۔
بنا بریں صورتِ مسئولہ میں مشتری باوجود استطاعت کے ادا کرنے میں تساہل و انکار کرتا ہے اور بائع بمجبوری نالش کر کے قرض وصول کرتا ہے تو اس حالت میں مشتری متمرد سے خرچہ عدالت لینا جائز اور درست ہے ۔
ملاحظہ ہو امداد الفتاوی میں ہے:
اگر کسی کو اپنے حق کی حفاظت کے لیے بہ مجبوری نالش "مقدمہ دائر کرنا " کرنا پڑے اور فریق مخالف کی طرف بالکل مخاصمانہ کاروائیوں کی وجہ سے بہت سے مصارف برداشت کرنا پڑیں تو اس صورت میں خرچہ کا روپیہ بہت سے علماء کے نزدیک و منہم مولانا رشید احمد صاحب رحمه الله جائز ہے ۔ (امداد الفتاوی: ۳/۱۲۳) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (عزیز الفتاوی، جلد اول، ص ٦۲٦ ۔ ٦۲۸، دار الاشاعت ۔ و فتاوی محمودیہ: ۱٦/ ٤٦۰، مبوب و مرتب ۔ و امداد الاحکام: ۳/٤٦۰) ۔
اشکال اور جواب:
اشکال: لیکن اس پر بعض حضرات نے یہ اشکال ظاہر فرمایا ہے کہ مشتری صرف متسبب ہے اور بائع مباشر ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ تاوان مباشر پر ہوتا ہے نہ کہ متسبب پر، اس وجہ سے مشتری متسبب سے اخراجاتِ مقدمہ وصول کرنا ناجائز ہے، اس کا کیا جواب ہے؟
الجواب: اس کا جواب یہ ہے کہ فقہاء نے جہاں یہ قاعدہ بیان کیا ہے وہاں مستثنیات بھی بیان کیے ہیں، مثلاً علامہ ابن نجیم مصری رحمه الله نے الاشباہ و النظائر میں فرمایا: "
تضمين الساعي"
اس قاعدہ سے مستثنی ہے، اگر چہ سعایہ محض سبب ہے، لیکن متأخرین علماء نے موجب ضمان بتلایا ہے ۔
ملاحظہ ہو "الاشباہ و النظائر" میں ہے:

القاعدة التاسعة عشر: إذا اجتمع المباشر والمتسبب أضيف الحكم إلى المباشر

وخرجت عنها مسائل

الخامسة: الإفتاء بتضمين الساعي وهو قول المتأخرين لغلبة السعاية. (الأشباه والنظائر: ۱/٤۰۵، الفن الاول في القواعد الكلية).
وفي مجمع الضمانات: وضمن عند محمد رحمه الله وبه يفتى لغلبة السعاية في زماننا. (مجمع الضمانات: ۱/۳٦۲).
وللاستزادة انظر: (معين الحكام فيما يتردد بين الخصمين من الأحكام: ۱۵٦، في بيان القضاء بأنواع الضمانات الواجبة، وكيفيتها. ومجمع الضمانات: ۱/۳٦۰. ۳٦۲. وخلاصة الفتاوى: ٤/۲٦۰، الجنس السادس في السعاية، المكتبة الرشيدية).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Questions about this ruling, answered only from the archive with sources.

Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue

For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.