بیعانہ ضبط کرنے کی شرط کے ساتھ تجارت کا حکم:
Question
زید نے عمر سے کار خریدنے کی بات شروع کی اور عمر کو بیعانہ دے دیا کہ اگر میں نہ خریدوں تو بیعانہ ضبط کیجیے پھر زید نے کسی وجہ سے نہیں خریدا تو بیعانہ ضبط کرنا جائز ہے یا نہیں؟ خریدنے کی صورت میں شرط فاسد کی وجہ سے عقد فاسد ہوا یا نہیں؟
Answer
بیعانہ ضبط کرنا جائز نہیں ہے ۔
بیعانہ کی شکل یہ ہوتی ہے کہ جائیداد کی خریداری میں بیع نامہ یا اقرار نامہ تحریر میں لا کر لین دین کا معاملہ مکمل کرنے سے پہلے خریدار کی جانب سے کچھ پیشگی رقم دی جاتی ہے اور پھر پوری ادا کر کے حساب بیباق کرتے وقت اس کو قیمت میں وضع کر لیا جاتا ہے تو اس طرح کا بیعانہ دینا جائز اور درست ہے، لیکن آج کل لوگوں میں دستور ہو گیا ہے کہ اگر کسی وجہ سے خریدار طے شدہ جائیداد لینے سے مجبور ہو جائے تو خریدار کو بیعانہ کی رقم واپس نہیں دی جاتی ہے، بلکہ وہ رقم بائع اپنی ملکیت میں شامل کر لیتا ہے، تو شرعی طور پر بائع کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں ہے، نیز اس طرح کا معاملہ قمار اور جوا کے مشابہ بھی ہے، حضرت شاہ ولی اللہ محدثِ دہلوی رحمه الله نے حجۃ اللہ البالغہ میں اس طرح پیشگی دی ہوئی رقم ضبط کرنے کو قمار کے مترادف قرار دیا ہے ۔
قال: ونهي عن بيع العربان أن يقدم المشتري إلى البائع شيء من الثمن، فإن اشتري حسب من الثمن، وإلا فهوله مجاناً، وفيه معني الميسر. (حجة الله البالغة: ۲/۱۹۱، البيوع المنهي عنها، قديمي كتب خانه).
حدیث شریف میں ہے:
مالك من الثقة عنده عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن رسول الله ﷺ نهي عن بيع العربان. (رواه مالك في الموطأ، ص ۵٦۸، ما جاء في بيع العربان. وأبو داود: ۲/٤۹٤. وابن ماجة: ۱۵۸، باب بيع العربان. والبيهقي في سننه الكبرى: ۵/۳٤۲).
قال أبو عبد الله: العربان أن يشتري الرجل دابة بمائة دينار فيعطيه دينارين عربوناً فيقول: إن لم أشتر الدابة فالديناران لك. (سنن ابن ماجة، باب بيع العربان، ص ۱۵۸).
حدیث شریف کا ترجمہ:
حضرت نبی پاک ﷺ نے بیعانہ کی رقم دے کر نہ لینے کی شرط سے منع فرمایا ہے، ابو عبد اللہ ابن ماجہ رحمه الله فرماتے ہیں کہ عربان کی شکل یہ ہوتی ہے کہ کوئی شخص مثلاً سو دینار میں ایک جانور خرید لے پھر دو دینار یہ کہہ کر پیشگی دے دے کہ اگر میں جانور نہ خرید سکا تو دونوں دینار تمہارے لیے ہیں ۔
بدایۃ المجتہد میں ہے:
جمهور علماء الأمصار على أن بيع العربان غير جائز
وإنما صار الجمهور إلى منعه لأنه من باب الغرر والمخاطرة وأكل المال بغير عوض. (بداية المجتهد: ۵/۸).
تالیفاتِ رشیدیہ میں ہے:
بیع نامہ دینا اس طرح کہ اگر بیع ہوئی تو منجملہ ثمن میں ہووے گا ورنہ ضبط ہو جائے گا ناجائز ہے، "
لأن النبي عليه السلام نهي بيع العربان"
مگر جو یہ ٹھہر جائے کہ در صورت عدم بیع کے بیعانہ واپس ہو جاوے گا درست ہے ۔ (تالیفاتِ رشیدیہ، ص ٤۰۵) ۔
اسلام اور جدید معاشی مسائل میں ہے:
امام مالک، امام ابو حنیفہ رحمه الله اور امام شافعی رحمه الله تینوں بزرگوں کے نزدیک یہ شرط لگانا جائز نہیں کہ اگر بیع تام نہ ہوئی تو بائع یہ پیسے ضبط کر لے گا کیونکہ یہ پیسے بغیر کسی عوض کے بائع کے پاس چلے گئے، امام احمد بن حنبل رحمه الله کے مذہب میں بیع العربون جائز ہے لہذا وہ کہتے ہیں کہ بائع جو پیسے ضبط کر رہا ہے اس کا یہ پیسے ضبط کرنا درست ہے ۔ (اسلام اور جدید معاشی مسائل: ٤/۱۵۹) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی محمودیہ: ۲٤/۲۰۱، مکتبہ محمودیہ ۔ و فتاوی حقانیہ: ٦/۹۹ ۔ غرر کی صورتیں، ص۱۳۰ ۔ ۱۵۸) ۔مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی محمودیہ: ۲٤/۲۰۱، مکتبہ محمودیہ ۔ و فتاوی حقانیہ: ٦/۹۹ ۔ غرر کی صورتیں، ص۱۳۰ ۔ ۱۵۸) ۔
خریدنے کی صورت میں چونکہ شرطِ فاسد عقد سے پہلے لگائی تھی لہذا اس سے عقد فاسد نہیں ہوگا ۔
شرح مجلہ میں ہے:
بقي ما إذا ذكر الشرط قبل العقد ثم عقد خالياً عن الشرط، وقد ذكره في الثامن عشر من جامع الفصولين حيث قال: شرطا شرطاً فاسداً قبل العقد، ثم عقدا، لم يبطل العقد. (شرح المجلة للأتاسي، فصل في حق البيع بالشرط، ۲/٦۱).
وكذا ذكره ابن عابدين رحمه الله في حاشيته على الدر المختار: ۵/۸٤، مطلب في الشرط الفاسد إذا ذكر بعد العقد أو قبله، سعيد).
اشکال اور جواب:
اشکال: مصنف عبد الرزاق کی ایک روایت میں بیع عربان کا جواز منقول ہے، اسی روایت پر امام احمد بن حنبل رحمه الله نے مذہب کی بنیاد رکھ کر جائز قرار دیا ہے اس کا کیا جواب ہے؟
قال في التلخيص الحبير: قال عبد الرزاق في مصنفه: أناْ الأسلمي عن زيد بن أسلم سئل رسول الله ﷺ عن العربان في البيع فأحله وهذا ضعيف مع إرساله والأسلمي هو إبراهيم بن محمد بن أبي يحيى. (التلخيص الحبير: ۳/٤۰).
وفي نيل الأوطار: أخرج عبد الرزاق في مصنفه عن زيد بن أسلم
إلى قوله وهو مرسل وفي إسناده إبراهيم بن أبي يحيى وهو ضعيف. (نيل الاوطار: ۵/۱٦۲).
امام احمد بن حنبل رحمه الله بخاری شریف میں مذکور ایک واقعہ سے بھی استدلال کرتے ہیں:
واشتري نافع بن عبد الحارث داراً للسجن بمكة من صفوان بن أمية على أن عمر رضي الله عنه رضي بالبيع فالبيع بيعه وإن لم يرض عمر رضي الله عنه فلصفوان أربع مائة دينار وسجن ابن الزبير رضي الله عنه بمكة. (بخاري شريف: ۱/۳۲۷، باب الربط والحبس في الحرم. وأخرجه عبد الرزاق في مصنفه: ۵/۱٤۷، باب الكراء في الحرم).
اس قصہ میں چار سو دینار بطورِ بیعانہ کے دیے تھے ۔
الجواب: علامہ عینی رحمه الله اور حافظ ابن حجر رحمه الله نے اس کا جواب دیا ہے ۔ ملاحظہ ہو:
عمدۃ القاری میں ہے:
وأجيب بأنه لم يكن داخلاً في نفس العقد بل هو وعد أو هو مما يقتضيه العقد أو كان بيعاً بشرط الخيار لعمر رضي الله عنه أوإنه كان وكيلاً لعمر رضي الله عنه وللوكيل أن يأخذ لنفسه إذا رده الموكل بالعيب ونحوه. (عمدة القاري: ۹/۱۵۱).
فتح الباری میں ہے:
وأما كون نافع شرط لصفوان أربع مائة إن لم يرض عمر رضي الله عنه فيحتمل أن يكون جعلها في مقابلة انتفاعه بتلك الدار إلى أن يعود الجواب من عمر رضي الله عنه. (فتح الباري: ۵/۷٦).
بہرحال مسئلہ مجتہد فیہ ہے اور مسئلہ کے مختلف فیہ ہونے اور ضرورت کی وجہ سے امام احمد رحمه الله کے مسلک پر حضرت مفتی تقی عثمانی دام فضلہ نے فتوی دیا ہے ۔ ملاحظہ ہو اسلام اور جدید معاشی مسائل میں ہے:
چونکہ معاملہ مجتہد فیہ ہے اس لیے عربون کو بالکلیہ باطل نہیں کہہ سکتے اور بسا اوقات اس قسم کے معاملہ کی ضرورت پیش آ جاتی ہے، بالخصوص ہمارے زمانے میں جہاں ایک ملک سے دوسرے ملک بین الاقوامی تجارت ہوتی ہے وہاں یداً بیدٍ معاملہ نہیں ہوتا اور نہ ہو سکتا ہے ۔ اور اگر کوئی شخص دوسرے سے معاملہ کر لے کہ میں تم سے سامان منگوا رہا ہوں بائع نے اس کے لیے سامان اکٹھا کیا، سب کچھ کیا، لاکھوں روپے خرچ کیے بعد میں وہ مکر جائے کہ میں بیع نہیں کرتا تو اس صورت میں بائع کا بڑا سخت نقصان ہوتا ہے، ایسی صورت میں بائع اگر عربون کی شرط لگا لے تاکہ مشتری پابند ہو جائے تو اس کی بھی گنجائش معلوم ہوتی ہے کہ اس صورت میں امام احمد بن حنبل رحمه الله کے قول پر عمل کیا جائے، باقی جہاں ضرورت نہ ہو ویسے ہی لوگوں نے پیسے کمانے کا ذریعہ بنا لیا تو وہ جائز نہیں ۔ (اسلام اور جدید معاشی مسائل: ٤/۱٦۱، ادارۂ اسلامیات) ۔
اور اپنے والد صاحب حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله سے نقل فرمایا ہے کہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمه الله نے معاملات میں بوقتِ ضرورت یا ابتلائے عام دوسرے مذہب پر فتوی دینے کی اجازت حضرت
گنگوہی رحمه الله سے لی تھی ۔ (غیر سودی بینکاری، از مفتی تقی، ص۲۸۸) ۔
جہاں تک سنن ابن ماجہ کی روایت ہے تو یہ روایت ضعیف ہے ۔
دکتور بشار عواد سنن ابن ماجہ کی تعلیق میں فرماتے ہیں:
إسناده ضعيف، لانقطاعه، فقد رواه مالك بلاغاً عن عمرو بن شعيب أخرجه مالك في الموطأ (۳۷۷) وأحمد (۲/۱۸۳) وأبو داود (۳۵۰۲) وانظر: تحفة الأشراف (٦/۳٤۲/۸۸۲۰) وتهذيب الكمال (۳۵/۱۰۰) ومصباح الزجاجة (ص ۱۳۸) والمسند الجامع (۱۱/۱۱۵/۸٤٦۹) وضعيف ابن ماجة للألباني (٤۷۵) وهو مكرر ما بعده. وعن مالك بن أنس رحمه الله قال: حدثنا عبد الله بن عامر الأسلمي عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده
. وإسناده ضعيف، لضعف عبد الله بن عامر الأسلمي. (سنن ابن ماجه بتعليق الدكتور بشار عواد: ۳/۵٤۳).
وفي حاشية السندي على ابن ماجة: وروي عن ابن عمر رضي الله عنه أنه أجاز هذا البيع ويروي عن عمر رضي الله عنه ومال أحمد إلى القول بإجازته وضعف الحديث فيه لأنه منقطع يقال: رواه مالك عن ابن شعيب بلاغاً. (حاشية السندي على سنن ابن ماجة: ٤/٤۱۵).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Where scholars differ, it’s safer to take the more cautious view.
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, please ask a Mufti. Report an issue
For corrections or mistakes, please email us at fatawasa786@gmail.com.
Source: Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya — https://fduz.org/fatwa/1937
Fatawa SA: https://fatawa.co.za/fatwa/duzakariyya-1937